پاکستان

چھت پہ گزرتی ٹرین

مسعود قمر

میرے اسکول کے زمانے میں میٹرک کے امتحانوں کے نتائج کے بعد کبھی کبھار اخبار کے اندرونی صفحات کے کسی کونے میں یک کالمی تین چار سطروں کی خبر لگی ہوتی تھی کہ ”ایک خوبرو نوجوان نے میٹرک کے امتحان میں فیل ہونے پہ دل برداشتہ ہو کر ٹرین کے نیچے آکر خود کشی کر لی“۔ اس دور میں خود کشی کی ایک اور خبر بھی لگتی تھی کہ”لڑکے لڑکی نے ماں باپ کی ہٹ دھرمی سے تنگ آکر گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کر لی، لڑکا لڑکی شادی کرنا چاہتے تھے مگر دونوں کے ماں باپ اس پہ راضی نہیں تھے“۔

مگر آج کل کوئی بھی اخبار پڑھ لیں، ہر اخبار میں چار پانچ یا اس سے زیادہ لوگوں کی خود کشی کی خبر ہوتی ہے۔ ان واقعات میں میٹرک میں فیل ہونے یا شادی میں ناکامی پہ کی جانے والی خود کشیاں بہت کم ہوتی ہیں۔ زیادہ تر فاقوں سے تنگ آکر کی جانے والی خودکشیاں ہوتی ہیں۔ اوراس سے بھی زیادہ خوفناک خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔

کراچی میں سابق پروفیسر اور اس کی بیوی مردہ حالت میں پائے گئے، پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتا چلا انہوں نے نو دن سے کھانا نہیں کھایا تھا۔

کوئی بچیاں برائے فروخت کا پلے کارڈ لیے فٹ پاتھ پہ بیٹھا ہوتا ہے۔

تین دن پہلے اخبار میں ایک خبر تھی کہ ایک عورت نے اپنی بچی سمیت ٹرین کے نچے آکر خود کشی کر لی۔ تفتیش کرنے پہ پتا چلا کہ اس کا تعلق بہت غریب گھرانے سے تھا۔ انہوں نے کئی ماہ سے مکان کا کرایہ ادا نہیں کیا تھا جو اب چار ہزار ہو گیا تھا۔ اس کا خاوند سارا سارا دن گھر سے باہر محنت مزدوری ڈھونڈنے نکل جاتا اور مکان کامالک کرائے کا تقاضہ کرتے ہر روز اس عورت کی تذلیل کرتا۔ واقعہ سے ایک دن پہلے عورت نے اپنے خاوند سے مکان مالک کے رویے کے بارے میں بتایا اور اس بات پہ خاوند بیوی میں جھگڑا ہوگیا۔ عورت غربت اور مالک مکان سے آئے دن تذلیل برداشت نہ کر سکی اور گود میں بچی سمیت ٹرین کے نیچے آکر خود کشی کر لی۔

بہت سے لوگ ہیں جو خود کشیاں کر رہے ہیں مگر ان کی خبریں نہیں لگتیں کیونکہ وہ ریل گاڑی کے نیچے آکر خود کشی نہیں کرتے۔ وہ ”آئی ایم ایف“کی ٹرین کے نیچے آکر خود کشی کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ریاستِ مدینہ کے سربراہ کے ارد گرد بیٹھے اور اپوزیشن کے ”آٹا چینی مافیا کی ٹرین“ کے نیچے آکر خود کشیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ عوام کو اپنی ٹرینوں کے نیچے کچلنے میں سارے مافیا ایک دوسرے کو ڈرائیور مہیا کردیتے ہیں۔

جو ان خودکشیوں سے بچ جاتا ہے اسے ملکی سلامتی کی ٹرین کے نیچے کچلا جا رہا ہے۔

”توہین مذہب کی ٹرین“ ہزار میل کی رفتار سے دوڑی جا رہی ہے اور جس مسافر کو چاہتی ہے گارڈ اس مسافر کو ڈبے سے نکال کر ٹرین کے نیچے ڈال دیتے ہیں۔ ۔ ۔

ملک میں ہر طرف لوگوں کو کچلنے والی ٹرینیں دوڑ رہی ہیں اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ریاستِ مدینہ کا سر براہ کہہ رہا ہے کہ ”مرجانامگرگھبرانا نہیں!“

Masood Qamar

مسعود قمر کا تعلق لائل پور سے ہے اور پاکستان میں بطور صحافی کام کیا۔ وہ 1983ء سے سویڈن میں مقیم ہیں ۔