اداریہ

دلی میں مسلم کش فساد: حکومت مخالف احتجاج ختم کرنے کا فسطائی حربہ

اداریہ روزنامہ جدوجہد

دلی دنیا بھر کی شہ سرخیوں میں ہے۔ دو دن سے ایک طرف عالمی میڈیا امریکی صدر ٹرمپ کی دلی میں پریس کانفرنس اور اسلحے کی سودے بازیاں بیان کر رہا تھا تو دوسری جانب، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے غنڈوں کے ہاتھوں مسلمان شہریوں پر حملے، جس میں درجن بھر قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، عالمی سطح پر لوگوں کو خوفزدہ کر رہے تھے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان سمجھے جانے والے واشنگٹن پوسٹ جیسے دائیں بازو کے اخبار کو لکھنا پڑا کہ مودی کی نفرت والی سیاست ٹرمپ کے دورہ ہندوستان کے دوران بے نقاب ہو رہی ہے۔

ان فسادات کا واضح مقصد شہریت ترمیم بل کے مسئلے پر ہفتوں سے جاری احتجاج کو بزور تشدد ختم کرنا تھا۔ اس کا واضح ثبوت بی جے پی کے رہنما کپل شرما کا یہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا کہ”اگر پولیس نے ٹرمپ کا دورہ ختم ہونے تک دھرنے ختم نہ کروائے تو بی جے پی خود کروا لے گی اور اگر ٹرمپ کا دورہ نہ ہو رہا ہوتا تو وہ مظاہرین سے خود نپٹ لیتے“۔

یہ ایک واضح اشتعال انگیزی تھی۔ بی جے پی کے بدمعاش کارکنوں کو شہ دی جا رہی تھی۔ بی جے پی کو معلوم تھا کہ ٹرمپ کے دورے کی وجہ سے پوری دنیا کی نظر دلی پر ہو گی۔ دورے سے قبل ہی احمد آباد میں بنائی گئی غریبی چھپاؤ دیوار کی وجہ سے دنیا بھر میں مودی سرکار کو خفت اٹھانی پڑ رہی تھی۔ شاید اس عالمی بدنامی سے تنگ آ کر ٹرمپ کا دورہ ختم ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا گیااور اتوار کے دن مسلمان آبادیوں پر حملے شروع ہو گئے۔

حسبِ معمول بھارت کے سرمایہ دار میڈیا نے بی جے پی کی غنڈہ گردی کو ’ہندو مسلم‘ فساد بنا کر پیش کیا۔ یہ بالکل بھی کوئی فساد نہیں تھا۔ بلکہ اکثریت اقلیت پر منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ آ ور تھی۔ اس حملے میں بی جے پی کے غنڈوں اور بلوائیوں کو ریاستی پولیس کی بھر پور مدد حاصل تھی۔ ایسی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں جن سے پولیس کی حمایت کا کھلا ثبوت ملتا ہے۔ بات صرف پولیس تک محدود نہ تھی۔ دو دن تک کرفیو نہ لگانا، مودی یا وزیر داخلہ امت شاہ کا بظاہر احمد آباد میں مصروف رہنا ایک اشارہ تھا کہ ٹرمپ کے دلی پہنچنے سے پہلے پہلے دلی کو مظاہرین سے خالی کروا لو۔

مظاہرے کئی ہفتے سے جاری ہیں۔ مظاہروں کے حوالے سے بظاہرمکمل غفلت برت کر بی جے پی سرکار یہ ثابت کرتی آئی ہے کہ اسے مظاہروں سے فرق نہیں پڑتا۔ یہ غفلت شعاری محض بھرم رکھنے کے لئے تھی۔ جوں ہی ٹرمپ کا دورہ سر پر آن پہنچا تو ہندتوا نے وہی واحد طریقہ استعمال کیا جو اسے معلوم ہے، تشدد، بلوہ اورقتل و غارت۔

صرف بی جے پی قابلِ مذمت نہیں۔ اس شہر کی سب سے بڑی جماعت عام آدمی پارٹی ہے۔ اس کے رہنما اروند کیجریوال بارے پاکستانی مڈل کلاس میں بھی کچھ خوش فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ موصوف دو دن تک منظرِ عام سے غائب تھے۔ ایک ہلکا پھلکا سا ٹویٹ، اور بس۔ منگل کے روز انہوں نے اپنی ریاستی کابینہ کا اجلاس بلایا تا کہ دلی کی صورت حال پر غور کیا جا سکے۔ اس دوران مسلمان شہریوں کی جانیں بھی جا چکی تھیں اور اگر کسی قسم کا احساسِ تحفظ موجود تھا تو وہ بھی ختم ہو چکا تھا۔

عام آدمی پارٹی والے اپنے دفاع میں کہہ سکتے ہیں کہ دلی پولیس ان کے نہیں، وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ درست، اس کا لیکن ہر گز یہ مطلب نہیں کہ دلی کا وزیر اعلیٰ کچھ نہیں کر سکتا اور کچھ نہیں تو مسلمان محلوں میں عام آدمی پارٹی کے کارکنوں کو بھیجا جا سکتا تھا۔ پر امن دفاعی کمیٹیاں بنائی جا سکتی تھیں۔ کیجریوال خود مسلمان بستیوں کے دورے پر نکل سکتے تھے۔ یہی حال کانگرس کا تھا، اس جماعت نے بھی سوائے ٹویٹ بازی کے کچھ نہیں کیا۔

دلی میں ہونے والے فساد سے پورے بر اعظم میں رجعتی قوتوں کو فائدہ ہو گا۔ ہندوستان کی ترقی پسند قوتوں نے اگر مسلم کش فسادات کے خلاف اس طرح موبلائزیشن نہیں کی جس طرح شہریت ترمیم بل کے مسئلے پر ہوئی تو بی جے پی جاری احتجاج کو خون میں ڈبو دے گی۔ تحریک ٹوٹ جائے گی جس کا اثر پورے خطے میں پڑے گا۔ بی جے پی جب اپنی سیاست آگے بڑھانے کے لئے مذہب کے نام پر دنگا کرتی ہے تو اس کا فائدہ بنگلہ دیش، پاکستان، نیپال اور سری لنکا میں بھی مذہبی جنونی قوتوں کو ہوتا ہے۔

یہ کہ دایاں بازو دنیا بھر میں دائیں بازو کو آگے بڑھاتا ہے، ایک با رپھر اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ دو دن قبل ہونے والی پریس کانفرنس مین جب ایک مغربی صحافی (کسی بھارتی صحافی نے یہ جرات نہ دکھائی)نے دلی کے مسلم کش ہنگاموں پر بات کی تو ٹرمپ کا جواب تھا، یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ بولیویا، کیوبا، وینزویلا اور ایران کی دفعہ ٹرمپ کو اندرونی اور بیرونی کا فرق بھول جاتا ہے۔ اب ٹرمپ کے اس بیان کا موازنہ برنی سینڈرز کے بیان سے کیجئے۔ انہوں نے بھارت اور امریکہ کے بیچ تین ارب ڈالر کے معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ”ان ملکوں کو اسلحے کی بجائے ماحولیات کی بقا کے لئے تعاون کر نا چاہئے“۔

اسی طرح مودی سرکار کی مسلسل سیاست اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکولر سیاست کے بغیر خطے میں امن کی ضمانت ممکن نہیں۔ مذہب کا سیاسی استعمال ہر شکل میں خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے۔ صرف ریاست کو مذہب سے الگ کرنا کافی نہیں۔ سیاست کو بھی مذہب سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔