سماجی مسائل

عورت مارچ سوشلسٹ مارچ

فاروق سلہریا

یہ سوشلسٹ نظریات رکھنے والی مزدور تحریک تھی جس کی وجہ سے 8 مارچ عورتوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن اپنانے کا مقصد یہ تھا کہ سوشلزم محض سرمایہ دارانہ استحصال کا خاتمہ نہیں چاہتا، سوشلزم جنس کی بنیاد پر ہونے والے جبر کا بھی مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔ عورت کی آزادی سوشلسٹ تحریک کے ایجنڈے پر شروع سے ہی تھی۔ اس کا ایک زبردست اظہار فریڈرک اینگلز کی کتاب ”خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست“ ہے۔

انقلابِ روس کے بعد نہ صرف عورتوں کی ترقی اور آزادی نسواں کے زبردست مواقع پیدا ہوئے بلکہ بہت سی بحثوں نے بھی جنم لیا۔ ادھر، جوں جوں انقلاب روس زوال پذیری کا شکار ہوا، توں توں عورت کو ملنے والی آزادی پر بھی حملے شروع ہو گئے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ ماسکو کے زیر اثر بائیں بازو کی تحریک میں سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف تو خوب نعرہ بازی ہوتی مگر قومی جبر یا جنس کی بنیاد پر جبر پر ٹال مٹول سے کام لیا جاتا۔ ٹال مٹول کا یہ رجحان آج بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ آج نہ صرف ٹال مٹول کی جاتی ہے بلکہ اس ٹال مٹول کو انقلابی غلاف میں بھی یہ کہہ کر لپیٹا جاتا ہے کہ سوشلزم کے بغیر عورت کی حقیقی آزادی ممکن نہیں۔

بدقسمتی سے سوشلزم کے نام پر جو تجربات ہوئے ان کا ریکارڈ عورتوں کے حوالے سے اچھا نہیں ہے۔ اگر آپ ہمدردانہ تجزیہ کریں تو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن ممالک میں سوشلسٹ تجربات ہوئے وہاں عورت کے حوالے سے کچھ کامیابیاں ملیں، کچھ ناکامیاں ہوئیں۔ اوراگر کوئی سوشلزم سے ہمدردی نہیں رکھتا تو سٹالنزم کا عورت دشمن ریکارڈ با آسانی استعمال کر سکتا ہے۔

دوم: پدر سری سرمایہ داری سے پہلے وجود میں آئی تھی۔ سرمایہ داری اور پدر سری کے ملاپ نے بے شک عورت پر جبر کو گمبھیر بنا دیامگر یہ کہنا کہ پدر سری سرمایہ داری کے خاتمے کے ساتھ خود بخود ختم ہو جائے گی، نعرے بازی کے سوا کچھ نہیں۔ محنت کش طبقے کے اندر بے شمار رجعتی رجحانات پائے جاتے ہیں۔ مزدور طبقہ انقلابی سیاسی جست لگا کر سیاسی لحاظ سے تو آگے چلا جاتا ہے مگر سماجی پسماندگی سے با آسانی جان نہیں چھڑا پاتا۔ یہ مثالیں انفرادی سطح پر بھی ملتی ہیں اور اجتماعی سطح پر بھی۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انقلاب روس کے بعد ٹراٹسکی اپنے یہودی پس منظر کی وجہ سے سوویت ریاست کا سربراہ نہیں بنا۔ اس کا خیال تھا کہ ایک ایسے سماج میں جہاں مسیحی مذہب کا گہرا اثر تھا اور یہود مخالفت کو ایمان کا حصہ بنا دیا گیا تھا، وہاں اُس کی سربراہی نئی سوویت ریاست کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتی تھی۔ یہی بات بہت سے دیگر ثقافتی و سماجی پسماندگیوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ سوشلسٹ انقلاب کے بعد مزدورریاست کو بہت متحرک انداز میں ایسے بے شماراقدامات کرنے ہوں گے جس کے نتیجے میں پدر شاہی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ پدر شاہی سرمایہ داری نہیں کہ”کمانڈنگ ہائٹس آف اکانومی“ کو قومی ملکیت میں لیا اور بس۔ بلاشبہ، تھیوریٹکل حد تک، سوشلزم پدر سری کے خاتمے کے لئے بہترین امکانات فراہم کرے گا لیکن کسی خودکار طریقے سے ایسا ہو جائے گا، ایسا سوچنا دیوانے کی لا علمی کے سوا کچھ نہیں۔

سوم: محکوم قوموں اور گروہوں کے حقوق کے لئے جدوجہد سے محنت کش تقسیم نہیں ہوتے بلکہ اس سے ان کی طاقت اوران کے حامیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ ہر بات کو مذہبی لوگوں کی طرح ’یومِ حساب‘ سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ کوئی بھی شخص جو سوشلسٹ نظریات سے دلچسپی نہیں رکھتا، درست طور پر یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ کیا گارنٹی ہے سوشلسٹ انقلاب آئے گا، اگر نہ آیا تو؟ یاد رہے سوشلزم تنقیدی روئیے کا نام ہے۔ یہ ایک طریقہ کار ہے جس میں نعرہ بازی، کٹر پن اورمذہبی انداز کے تعصب کی کوئی گنجائش نہیں۔ سوشلزم تنوع، لچک اور مسلسل سیکھنے کا نام ہے۔

ہر بات کو سوشلسٹ انقلاب سے جوڑ دینے سے سوشلزم کی جدوجہد میں عبوری پروگرام کی اہمیت کو بھی مذاق بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت یا ملائیت کا مسئلہ ہی لے لیجئے۔ کیا ہر آمرانہ دور میں بائیں بازو نے ملک میں جمہوریت اور سیکولرازم کے لئے جدوجہد نہیں کی؟ سچ تو یہ ہے کہ اس جدوجہد کی وجہ سے بائیں بازو کی پاکستان میں توقیر پائی جاتی ہے۔ ذرا سوچئے ضیا آمریت یا مشرف آمریت کے عہد میں بایاں بازو یہ کہہ کر گھر بیٹھ جاتا کہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کے نتیجے میں تو بے نظیر نے اقتدار میں آ جانا ہے، ہم کیوں قیدیں کاٹیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ بائیں بازو اور جماعت اسلامی میں کوئی فرق نہیں۔

”میرا جسم میری مرضی“ کے نعرے نے رجعتی عناصر کی نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان رجعتی عناصر کو اس نعرے میں فحاشی نظر آتی ہے۔ جس ملک میں عورت کی لاش محفوظ نہ ہو وہاں فحاشی سے کسے پریشانی ہو گی۔ اس نعرے سے خوف اس لئے آ رہا ہے کہ ہر گھر میں ہر روز نئی نسل کی عورتیں ”میری مرضی“ پر مُصر ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے یونیورسٹی جانا چاہتی ہیں، مرضی سے نوکری کرنا چاہتی ہیں، برابری کرنا چاہتی ہیں اور اپنے جسم کی بے حرمتی پر اس لئے خاموش رہنے پر تیار نہیں کہ ’لوگ کیا کہیں گے‘۔ اب اگر اسلامیات کا کوئی پروفیسر فیل کرنے کے نام پر بلیک میل کرتا ہے تو وہ بلیک میل ہونے پر تیار نہیں۔

”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ ہر عورت کی دھڑکن بنتا جا رہا ہے۔ وہ اس دھڑکن کو بھلے ابھی عورت مارچ میں شامل ہو کر آواز نہ دے رہی ہو (کیونکہ محکوم افراد کی پہلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کی آزادی کی لڑائی کوئی اور لڑ لے)مگر اس دھڑکن سے اس کا کلیجہ دھک دھک ضرور کر رہا ہے۔ رجعت پرستی کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ پدر شاہی کا خاتمہ سوشلزم کے بعد ہی ہوگا تو بھی یہ طے ہے کہ رجعت پسندی کے خاتمے (میرا جسم میری مرضی) کا مطلب ہے کہ عورت کھل کر ہماری جدوجہد کا حصہ بن سکتی ہے۔ عورت ایسا تب ہی کرے گی جب ہم اس کی جدوجہد میں اس کا ساتھ دیں گے۔ اس لئے عورت مارچ سوشلسٹ مارچ ہے۔

اگر آپ لاہور میں ہیں تو امید ہے کل آپ سے شملہ پہاڑی پر ملاقات ہو گی!

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔