خبریں/تبصرے

اسلام آباد: عورت مارچ پر مذہبی جنونیوں کا پتھراؤ

اسلام آباد (نثار شاہ) گذشتہ روز اسلام آباد پریس کلب کے باہر ’عورت مارچ‘ کے شرکا پر جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے زبردست پتھراؤ کیا اور اس کے بعض کارکنوں نے مارچ کے شرکا پر حملہ کرنے کی کوشش کی جسے پولیس نے روکا۔

عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر ملک کے دیگر بڑے شہروں کی طرح وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں بھی عورت مارچ کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ہزاروں افراد نے بھر پور شرکت کی۔

اس مارچ کے مقابلے پر مذہبی جماعتوں نے مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا تھااوران دونوں ریلیوں کا آغاز اسلام آباد پریس کلب سے ہونا تھا۔ شام تقریباً پانچ بجے جب’عورت مارچ‘ اپنی منزل کی طرف روانہ ہونے لگا تو مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے حملہ کر دیا۔

پولیس نے دونوں ریلیوں کو علیحدہ رکھنے کے لئے دونوں کے درمیان فقط ایک قنات لگا رکھی تھی البتہ پولیس حملہ آور کارکنوں کو روکنے میں کامیاب ہو گئی۔ ان میں سے بعض کارکنوں کے ہاتھوں میں سریئے یا لاٹھیاں بھی دیکھی گئیں۔

جب پولیس نے ان کا حملہ روک دیا تو انہوں نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مذہبی جماعتوں کے کارکن پتھر گاڑیوں میں ساتھ لے کر پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔

پتھراؤ سے بعض لوگوں کو معمولی چوٹیں آئیں جبکہ عثمان ایڈوکیٹ شدید زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں عوامی ورکرز پارٹی کی عصمت شاہجہان بھی شامل ہیں۔ عثمان ایڈوکیٹ کو ایک قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کو آٹھ ٹانکے لگائے گئے۔ تا دم تحریر، تھانہ کوہسار میں ان پر حملے کی ایف آئی آر درج کرا نے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

روزنامہ جدوجہد سے بات کرتے ہوئے ’عورت مارچ‘ کے شرکا نے حکومت پر بھی سخت تنقید کی کہ جس نے مذہبی جنونیوں کو اس جگہ پر نہ صرف ریلی کرنے کی اجازت دی بلکہ ان کا راستہ روکنے کے لئے کسی قسم کی رکاوٹیں کھڑی نہ کی گئیں۔