پاکستان

پی ٹی آئی کے جلسوں اور عورت مارچ کا فرق

فاروق سلہریا

8 مارچ کو لاہور میں ہونے والے عورت مارچ میں جن پانچ چھ ہزار لوگوں نے شرکت کی، ان میں میں بھی شامل تھا۔ اس جلوس میں جتنی عورتیں تھیں، شاید اتنے ہی مرد تھے اور بعض لوگ اپنے بچوں سمیت شریک ہوئے۔ لگ بھگ ہر عمر، ہر طبقے اور ہر شعبہ زندگی کے لوگ تھے۔

کہیں کسی خاتون کو کسی جگہ کسی قسم کی ہراسانی کا سامنا نہیں تھا۔ سب شانہ بشانہ چل رہے تھے۔ خواتین اعتماد کے ساتھ اور تحفظ کے احساس کے ساتھ مارچ کررہی تھیں۔ بہت سی نوجوان خواتین غالباًپہلی دفعہ کسی سیاسی ریلی میں شریک تھیں۔ ان کے لئے نعرے بازی کرنا ایک نیا تجربہ تھا۔ ریلی شروع ہوئی تو ایسی بہت سے خواتین زیرلب نعروں کا ساتھ دے رہی تھیں اور ریلی ختم ہوتے ہوتے وہ پر جوش انداز میں نعرے لگا رہی تھیں۔

چند سو میٹر کے انقلابی مارچ کے ساتھ چلتے چلتے ان میں ایک بہت بڑی تبدیلی آ چکی تھی۔ ایک سڑک، ایک عوامی جگہ اور ایک پبلک علاقہ جہاں سے وہ شائد ہمیشہ ڈرے سہمے، نظروں سے بچتے بچاتے گزرتی تھیں۔ ۔ ۔ وہی سڑک ایک ’آزاد علاقہ‘ بن چکا تھا۔

سبق سیدھا سادہ سا ہے۔ عورت کو گھر میں بند کرنے سے نہیں، پبلک جگہوں کو عورت کے لئے محفوظ بنانے سے مسئلے حل ہوں گے۔ عورت کے خاموش رہنے سے نہیں، اس کو با اختیار بنانے سے اور با صلاحیت بنانے سے مسئلے حل ہوں گے۔

لاہو ر کے علاوہ ایسی ہی بڑی ریلیاں دیگر شہروں میں بھی نکالی گئیں۔ کسی جلوس میں کسی عورت سے کوئی بد تمیزی نہیں ہوئی۔ اسلام آباد میں عورتوں کے جلوس پر البتہ ان مولوی حضرات نے حملہ ضرور کیا جو کچھ دن پہلے یہ بینرز لگا رہے تھے کہ ’مرد عورت کا محافظ ہے‘۔

اب ذرا اس عورت مارچ کا موازنہ پی ٹی آئی کے جلسوں سے کیجئے۔ پی ٹی آئی کا ہر وہ جلسہ جس میں خواتین شریک ہوئیں، ایک اسکینڈل کا باعث بنا۔ ایسی ایسی شرمناک حرکتیں کی گئیں کہ یہاں الفاظ میں دہرانا ممکن نہیں۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ تحریکِ انصاف ایک دائیں بازو کی جماعت ہے۔ اس جماعت کی نظر میں عورت ’جسم‘ کے سوا کچھ نہیں۔ عورتوں کو جلسوں کے لئے موبلائز کیا گیا تا کہ شہری مڈل کلاس سے ووٹ لئے جا سکیں۔ نہ اس جماعت کی قیادت نے کبھی عورتوں کے مسئلے پر کارکنوں کی تربیت کی، نہ اس جماعت کے کارکنوں میں یہ شعور بیدار ہوا کہ پبلک جگہوں کو عورت کے لئے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ عورت مارچ کی مخالفت میں بھی اس جماعت کی قیادت اور کارکن آگے آگے تھے۔

اگر اس مختصر سے تجزئے سے سبق سیکھا جائے تو ’میرا جسم میری مرضی‘ کا نعرہ فحش نہیں لگے گا۔ عورت مارچ اس نعرے کا مجسم اظہار تھا۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔