خبریں/تبصرے

کرونا وائرس کے نام پر اورنج لائن پر کام کرنے والے مزدور کیمپوں میں محصور، شدید مشکلات کا سامنا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) گزشتہ روز اورنج لائن میٹرو ٹرین لاہور پر کام کرنے والی کمپنی ’نارنکو‘نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں تمام پاکستانی مزدوروں کو اگلے تیس دن تک کیمپوں تک محدود رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حکم نامے میں متنبہٰ کیا گیا ہے کہ اگر کسی ملازم نے کسی صورت گیٹ سے باہر قدم رکھا تو پہلی بار 45 سو جبکہ دوسری بار حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں 30 ہزار جرمانہ کیا جائے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر اٹھایا گیاہے۔

جب ملازمین نے کمپنی سے اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا تو کمپنی نے حکم نامہ واپس لینے سے صاف انکار کرتے ہوئے، احتجاج کرنے والے یا خلاف ور زی کرنے والے ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کی دھمکی دی۔

اس حوالے سے جب نمائندہ جدوجہد نے کاہنہ کیمپ، جس میں پچاس کے لگ بھگ مزدور ہیں، کے ملازمین سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ”کمپنی کے اس فیصلے نے انہیں سخت پریشانی اور مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان پر اور بھی خاندانی ذمہ داریاں ہیں جسے وہ گھر جائے بغیر پورا نہیں کر سکتے۔ ہمیں بغیر کسی جرم کے جیل سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔“

مزدوروں کا کہنا تھا کہ”اگر کرونا وائرس کا خطرہ ہے تو انہیں گھر جانے دیا جائے اور مناسب وقت پر کام دوبارہ شروع کر دیا جائے۔“

ایک مزدور کا کہنا تھا کہ ”اس کی تنخواہ 20 ہزار ہے جس میں اس کے خاندان کا گزر بسر نہیں ہوتا اس لیے وہ ایک اور جگہ بھی ملازمت کرتا ہے مگر اب اس کو ایک ملازمت چھوڑنی پڑے گی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کا کہنا تھا کہ میرے لیے ایک ملازمت چھوڑنے کا مطلب ایک وقت میرے بچوں کا فاقہ ہے۔“

ملازمین نے حکومت سے مداخلت کر کے ان کے مسائل حل کرانے کی اپیل کی ہے۔