خبریں/تبصرے

جی سی لاہور یونیورسٹی نے سیاسیات کے استاد کو ’سیاسی‘ ہونے کیوجہ سے برطرف کر دیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی(جی سی یو) لاہور نے شعبہ سیاسیات میں پڑھانے والے ایک استاد، ضیغم عباس کو اس الزام میں برطرف کر دیا ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو سیاسی بنا رہے تھے اور ملکی مسائل پر سیاسی موقف اپناتے تھے۔

ضیغم عباس گزشتہ چار سال سے جی سی یو میں کنٹریکٹ پر پڑھا رہے تھے۔ چند روز قبل انہیں زبانی یہ پیغام دیا گیا کہ ان کا کنٹریکٹ ختم کیا جا رہا ہے۔ انہیں انتطامیہ کی طرف سے اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ سیاسی موقف اختیار کرتے ہیں۔

اپنے فیس بک پیغام میں ضیغم عباس کا کہنا تھا کہ”انہیں تحریری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔ مجھے فخر ہے میں طلبہ کو تنقیدی انداز میں سوچنے اور بحث کرنے کی ترغیب دیتا تھا۔ میں نے بحث اور مکالمے کے کلچر کو فروغ دیا اور طلبہ کو بتایا کہ ہر چیز پر سوال اٹھاؤ اور یہی بات انتظامیہ میں بیٹھے عقل کے اندھوں کو پسند نہیں آئی۔ وہ گلگت سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس سوچ کے ساتھ لاہور میں پڑھا رہے تھے کہ وہ معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔“

حقوق خلق موومنٹ کے ڈاکٹر عمار علی جان نے اپنے ایک ٹویٹ میں ضیغم عباس کو بر طرف کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ”جی سی یو سے ابھی کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر عامر اقبال کو اس لئے نکال دیا گیا کہ انہوں نے انتظامیہ کی بہت بڑی بد عنوانی کا پردہ چاک کیا۔“

ٹویٹر اور فیس بک پر طلبہ اور اساتذہ ضیغم عباس کی بر طرفی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔