خبریں/تبصرے

میر شکیل الرحمن کو فوری طورپررہا کیاجائے: سی پی جے

 قیصرعباس

صحافیوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس(سی پی جے) نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن کو، جنہیں حال ہی میں نیب نے پلاٹ کی خریداری کے ایک پرانے مقدمے میں گرفتار کیا ہے، جلد از جلد رہا کیا جائے۔

اس عالمی تنظیم نے واشنگٹن ڈی سی سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے میڈیا گروپ کے منتظم اعلیٰ اور مدیر اعلیٰ میر شکیل الرحمن کو پلاٹ کی خریداری کے ایک پرانے مقدمے میں ملوث کرکے ناجائز خریداری کے الزام میں گرفتار کیاگیا ہے جس کی حقیقت ان کے خلاف ایک من گھڑت الزام کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

کمیٹی کے ایشیا پروگرام کے رابطہ کارسٹیون بٹلر نے ایک پریس ریلیز میں حکومت کے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ”34 برس پہلے خریدے گئے ایک پلاٹ کے لین دین کو استعمال کرکے نیب نے اس ڈھونگ کا بھانڈہ پھوڑدیا ہے جس کے تحت ملک کو جمہوریت اور آزادیِ اظہار کا رکھوالا کہا جاتا ہے۔“ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کے ایک اہم میڈیا گروپ کے سربراہ کے خلاف الزامات کو ختم کرکے انہیں فوری طورپر رہا کیا جائے۔

جنگ گروپ کے ترجمان نے اس گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے انگریزی روزنامہ’دی نیوز انٹرنیشنل‘کو بتایا ہے کہ ان کے ادارے کو نیب کی رپورٹنگ کی پاداش میں انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے، ادارے کے مدیروں، صحافیوں اور ٹی وی پروڈیوسرز کوہراساں کیا جارہاہے اور دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ ان کے خلاف سرکاری اداروں کے تحت قانونی کاروائیاں کی جائیں گی اور ان کے نشریاتی اداروں کو بند کردیا جائے گا۔

سی پی جے کے مطابق اس نے نیب کو صورتِ حال پر اپنا موقت واضح کرنے کی دعوت بھی دی ہے جس کا تا حال کو ئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ماضی میں بھی جنگ گروپ کے اداروں، خصوصا جیو ٹی وی کو کئی بار حکومت پر تنقیدکی پاداش میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑاہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔