دنیا

سرمایہ داری گہرے بحران کی طرف تیزی سے گامزن

فاروق طارق

پاکستان سٹاک ایکسچینج کراچی کا کاروبار 12 مارچ کو اس ہفتے کے دوران دوسری دفعہ 45 منٹ کے لئے معطل رہا۔ جب بھی کوئی سٹاک ایکسچینج پہلے گھنٹے میں چار فیصد سے زیادہ گر جائے تو کاروبار کوفوری طور پر معطل کر دیا جاتا ہے۔ اسی ہفتے میں یہ عمل دنیا کی بڑی بڑی سٹاک ایکسچینج میں دھرایا گیا تھا۔

یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ سرمایہ داری معاشی نظام ایک گہرے بحران کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 2008 کے تباہ کن معاشی بحران کی ابتدائی شکلیں نظر آ رہی ہیں مگر سرمایہ دار بحرانی کیفیت میں بھی اپنا منافع قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بحران سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

سرمایہ دار طبقات ریاست کو اس بحران کے دوران اپنے ’نقصان‘ کو پورا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بحران کے دوران ان کی معیشت تو ٹھیک ہی چل رہی ہوتی ہے۔

موجودہ حکومت نج کاری کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کو بیچنے کے لئے پنجاب اسمبلی میں 11 مارچ کو ایم ٹی آئی بل جلدی جلدی منظور کیا گیا جبکہ ہزاروں پیرا میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹرز اس کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔

دو دن قبللاہور ہائی کورٹ میں ڈاکٹر سلمان حسیب، ڈاکٹر شاہد چوہدری، سیکرٹری صحت اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی جب اس بل کو اس طرح منظور کرنے کے خلاف پیش ہوئے تو جسٹس جواد الحسن نے ریمارکس دئیے کہ’حکومت اس طریقے سے بل پاس نہیں کر سکتی۔ حکومت نے آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کئے۔ سادہ اکثریت سے بل پاس ہو سکتا ہے مگر رول آف بزنس تبدیلی کے لئے دو تہائی اکثریت چاہیے۔ حکومت نے اپنی کمٹ منٹ پوری نہیں کی۔ جسٹس جواد الحسن نے کہا کہ پوری دنیا کو رونا کے خلاف لڑ رہی ہے اور اپنے ڈاکٹرز کو تحفظ دے رہی ہے حکومت نے یہاں بل پاس کر دیا‘۔

حکومت اداروں کو اونے پونے داموں اپنوں کو دینے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ ملنے کے بعد حکومت نے گیس، بجلی اور تیل کو غیر معمولی طور پر اتنا مہنگا کیا کہ اب عمران خان بھی بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ بجلی اب مذید مہنگی نہیں کریں گے۔ گویا اب کچھ اور کریں گے۔

حکومت کو ابتدائی طور پر دبئی اور سعودی حکمرانوں نے بھی قرضہ جات فراہم کئے مگر اب کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اور تیل کی قیمتیں غیر معمولی کم ہونے کے بعد اب یہاں سے کچھ ملنے کی امید نہیں۔ لہذا یہ اب اپنا اثاثے ہی تیزی سے بیچنے کی کوشش کریں گے۔ چین بھی کوئی نئی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا۔

سبسڈی کو گھاٹے کا نام دے کر ریاست ان کو مسلسل کم کرر ہی ہے، شرح سود بڑھانے سے حکومتی بچت سکیموں میں خوب پیسہ آ رہا تھا جبکہ صنعت سے کم ہو رہاتھا۔ اب اس پالیسی پر بھی یو ٹرن لیا جا رہاہے۔ جو پچاس لاکھ مکان بنانے ہیں وہ بھی ان کی اپنی پرائیویٹ کمپنیاں بنائیں گی، اب ان کو فائدہ پہنچانے پر دن رات ایک کیا جا رہا ہے۔

معیشت تو محنت کش طبقہ کی خراب سے خراب ہو رہی ہے، مہنگائی ریکارڈ ہوئی ہے، تنخواہیں نہیں بڑھیں، آمدن کم ہے، خرچے زیادہ ہیں۔ نئی ملازمتیں مل نہیں رہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، جو ترقیاتی منصوبے شروع ہونے تھے انہیں روک دیا گیا ہے۔ غیر ملکی قرضہ جات مسلسل ادا کئے جا رہے ہیں جبکہ فوجی بجٹ بھی بڑھانے کا اعلان ہے۔

ڈالر اور پونڈ کی قیمت میں مسلسل اضافے سے تمام ضروری درآمدات مہنگی ہو گئی ہیں۔ تجاوزات گرانے کے نام پر ہر جگہ لوگوں کے گھروں اور دوکانوں کو گرایا جا رہا ہے اور کوئی معاوضہ بھی ادا نہیں کیا جا رہا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ اب کراچی سٹیل ملز کے تمام محنت کشوں کو ملازمتوں سے نکالنے کے ریمارکس دے رہے ہیں۔ یہ وہی چیف جسٹس ہیں جن کے احکامات کو بنیاد بنا کر اور تجاوزات کے خاتمے کے نام پر ہزاروں افراد کو بے گھر کیا گیا اور ان کا کاروبار ختم کیا گیا تھا۔

جب دنیا میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، پاکستانی حکمران طبقات اس کا مقابلہ کرنے کی بجائے ترکیبیں لگا رہے ہیں کہ ادارے بیچ کر کس طرح اپنے طبقات کو مذید فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ ہسپتالوں پر نظر ہے، سٹیل ملز سمیت دیگر بڑے ادارے بیچے جانے کی منصوبہ بندی ہے۔

مزدور طبقہ بھی اس کے خلاف منظم ہو رہاہے، صرف محنت کش طبقات کی متحدہ جدوجہد ہی بے حس حکمرانوں کو ان کے گندے ارادوں سے باز رکھ سکتی ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔