پاکستان

آخری سانس تک لال

نبیل احمد ڈھکو

ترجمہ: ایف ایس

یہ مضمون روزنامہ ڈان میں شائع ہوا۔ مصنف چکوال سے روزنامہ ڈان کے نامہ نگار ہیں۔

اٹھارہ ہزار آٹھ سو بائیس نفوس پر مشتمل ضلع چکوال کے چوتھے بڑے گاؤں بھون میں جنازے معمول کی زندگی کا حصہ ہیں تاہم 22 فروری کو یہاں کے دیہاتیوں نے انقلابی نعروں اور سرخ پرچموں کے درمیان ایک غیر معمولی جنازے کا جلوس دیکھا۔ وہ مرد سوگواروں کے ساتھ نوجوان خواتین کو تابوت کو کندھا دیتے دیکھ کر اور بھی حیرت زدہ ہوئے۔
یہ 64 سالہ یثرب تنویر گوندل کا غیر معمولی جنازہ تھا، جو مارکسی دانشور اور سیاسی کارکن ڈاکٹر لال خان کے نام سے جانے جاتے تھے۔ لال خان کے سوگوار انہیں پاکستان کے بائیں بازو کے ایک ستارے کی حیثیت سے یاد رکھیں گے۔ انہوں نے 21 فروری کو لاہور کے ایک ہسپتال میں اپنی آخری سانس لی۔ لال خان کو ڈیڑھ سال قبل پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ وہ بھون میں 1956ء میں پیدا ہوئے، ان کے والد کرنل شیر زمان چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا بھی ان کے نقش قدم پر چلے۔

ان کی آخری رسومات میں پیپلز پارٹی کے رہنما چودھری منظور احمد، ایم این اے علی وزیر، صحافی امتیاز عالم، قاضی سعید، گلوکار جواد احمد اور بائیں بازو کے رہنما فاروق طارق سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ جب تابوت کو دفنانے کے لئے لے جایا گیا تو بھون کی سڑکیں انقلابی نعروں سے گونج اٹھیں۔ تدفین کے بعد لوگ جواد احمد کے ساتھ بائیں بازو کے انقلابی ترانہ ’دی انٹرنیشنل‘ گانے میں شامل ہوگئے۔

جواد احمد کے مطابق لال خان نے اپنے ساتھیوں سے یہ ترانہ اپنی قبر پر گانے کیلئے کہا تھا۔ لال خان نے ساری زندگی اپنے انداز میں سرمایہ داری کے خلاف جنگ لڑی اور سوشلسٹ انقلاب کا خواب دیکھا جو ان کے بقول پرولتاریہ کے دکھوں کا واحد علاج ہے۔ لال خان نے اپنی سیاسی جدوجہد اس وقت شروع کی جب وہ ملتان کے نشتر میڈیکل کالج میں طالب علم تھے۔ انہوں نے 1978 ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف طلبہ یونین کا انتخاب لڑا جسے اس وقت کی فوجی حکومت کی حمایت حاصل تھی اس کے باوجود انہوں نے کامیابی حاصل کی۔ جنرل ضیا نے 1979 ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تو یہ لال خان اور ان کے ساتھی ہی تھے جنہوں نے نشتر میڈیکل کالج کے احاطے میں سب سے پہلے بھٹو کے جنازے کا اہتمام کیا۔

اس طرح گویا انہوں نے جنرل ضیاء کی آمرانہ فوجی حکومت کے غیظ و غضب کو دعوت دی۔ اس کے نتیجے میں انہیں ایک سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔ بعد میں انہیں دوستوں کے ساتھ زبردستی راولپنڈی میڈیکل کالج بھیجا گیا جہاں ان سب نے پھر جنرل ضیاء کے خلاف ایک اور مہم چلائی۔ ’آج‘ ٹی وی پر یک ٹاک شو ”میری جدوجہد“ میں لال خان نے ایک بار بتایا تھا کہ ان کی سربراہی میں ضیاء مخالف مہم کی وجہ سے ضیاء کی بیٹی اور بیٹے کا کالج آنا محال ہوگیا تھا۔ زیڈ اے بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر جب انہوں نے احمد فراز کی ایک مشہور نظم ”پیشہ ور قاتل“ پڑھی تو فوجی عدالت نے نظر آتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا۔ اس سزا نے انہیں جلاوطنی پر مجبور کردیا اور اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ انہوں نے ہالینڈ میں پناہ لے لی جو ضیاء دور میں فرار ہونے والے پاکستانی انقلابیوں کے لئے ایک پناہ گاہ بن گیا تھا۔

تشدد، ظلم اور جلاوطنی نے ہی انہیں اپنے سوشلسٹ خیالات کی ترویج کیلئے ایک بڑی مہم چلانے پر اکسایا۔ اپنے ساتھیوں فاروق طارق، محمد امجد، ایوب گورایہ اور دیگر کے ساتھ مل کر لال خان نے دو لسانی ماہانہ ”طبقاتی جدوجہد“ کا آغاز کیا جو بہت سے انقلابی قلم کاروں کے لئے ایک بنیادی پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا تھا۔

لاہور لیفٹ فرنٹ کے کنوینر اور عوامی ورکرز پارٹی کے سابق جنرل سکریٹری فاروق طارق کا کہنا ہے: ”ضیاء مخالف مضامین کے اثرات کا اندازہ کرتے ہوئے ہم نے اپنے اصلی ناموں کے بجائے قلمی نام استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ پاکستان میں ہمارے خاندانوں کے لئے پریشانی نہ ہو۔ ’قیصر جمال‘ میرا قلمی نام تھا جبکہ تنویر گوندل نے ’لال خان‘ کا قلمی نام اپنایا“۔ فاروق طارق نے لال خان میں تعلیم مکمل کرنے اور ہالینڈ کی ایک یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے کی تحریک پیدا کی۔ فاروق طارق نے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا ”ہر روز، ہم ہالینڈ میں پاکستان کے سفارت خانے کے سامنے جنرل ضیاء کے خلاف احتجاج کرتے لیکن آمرانہ حکومت کو ہلا دینے والا احتجاج 13 جون 1982 کو پاکستان اور ہالینڈ کے مابین ہونے والے ایک ہاکی میچ کے دوران ہوا“۔

ضیا کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے فاروق طارق، لال خان، محمد امجد، ایوب گورایہ بینر اٹھائے اسٹیڈیم میں داخل ہوگئے۔ ان کا احتجاج ایسے وقت میں براہ راست نشر ہو گیا جب ذوالفقار علی بھٹو کا نام لینا کسی کو بھی جیل میں ڈال سکتا تھا۔ فاروق طارق بتاتے ہیں: ”اس احتجاج کے بعد پاکستانی حکومت نے ہالینڈ کی حکومت کو غلط معلومات فراہم کیں اور ہمارے احتجاج کو دہشت گردی قرار دیا گیا۔ مجھے اور لال خان سمیت ہم اٹھارہ افراد کو ڈچ پولیس نے گرفتار کر لیا، لیکن تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا۔ ہم نے ہالینڈ کی حکومت کے خلاف جھوٹے الزامات کے تحت گرفتاری پر مقدمہ کر دیا جو ہم جیت گئے اور ہالینڈ کی حکومت نے ہم سے معافی مانگی۔ 1988ء میں جنرل ضیاء کے انتقال کے بعد ہالینڈ میں مقیم پاکستانی انقلابیوں نے پاکستان واپس آنا شروع کر دیا۔ جب ہم آٹھ سال کے بعد پاکستان واپس آئے تو میں نے اپنا قلمی نام ترک کر دیا لیکن لال خان بدستور اپنا قلمی نام استعمال کرتے رہے“۔

لال خان نے لاہور میں ڈاکٹری کی پریکٹس شروع کی لیکن جلد ہی چھوڑ دی اور مارکس، اینگلز، لینن اور ٹراٹسکی کے نظریات سے متاثر ہوکر اپنی زندگی اپنے انقلابی نظریات کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کی تنظیم نو کی، ”طبقاتی جدوجہد“ اور ”ایشین مارکسٹ ریویو“ کی ادارت کرتے رہے۔ انہوں نے ایک درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں جن میں ”پاکستان کی دوسری کہانی: 1968 کا انقلاب“، ”کشمیر کی آزمائش:انقلاب کا ممکنہ راستہ“ اس کے علاوہ ”تقسیم ہند: کیا اسے ختم کیا جاسکتا ہے؟“ شامل ہیں۔ وہ ڈیلی ٹائمز اور روزنامہ دنیا کے باقاعدہ کالم نگار تھے۔ ان کی وفات ملک کے دبے ہوئے اور بکھرے ہوئے طبقے کے لئے ایک دھچکا ہے۔

ڈیلی ٹائمز کے سابق ایڈیٹر راشد رحمان کہتے ہیں: ”لال خان ایک سچے مارکسٹ تھے جنھوں نے اپنی پوری زندگی اپنے نظریہ کے لئے وقف کردی، میری ان سے پہلی ملاقات 1979 میں ہوئی تھی اور یہ ملاقات گہری دوستی کا باعث بنی“۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر بنے تو انہوں نے لال خان کو اخبار کے لئے کالم لکھنے کی دعوت دی۔ راشد رحمان نے سوگوار انداز میں کہا کہ ”ان کی موت پہلے سے منقسم اور کمزور بائیں بازو کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان کے چھوڑے ہوئے خلا کو کون پورا کرے گا“۔

مصنف اور کالم نگار ڈاکٹر عارف آزاد نے لال خان کو مارکسٹ اسکالرز اور کارکنوں کی ایک نایاب نسل قرار دیا جنہوں نے مزاحمت اور سرمایہ داری کے خلاف نظریات کو مجسم صورت دی۔ عارف آزاد کہتے ہیں ”وہ یورپی مارکسزم پر پوری طرح مہارت رکھتے تھے۔ ڈاکٹر لال خان اپنے حقوق کیلئے غیر جمہوری حکومتوں کے خلاف مزاحمت کرنے والی مختلف ٹریڈ یونینوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ وہ ملک کے پہلے مارکسٹ تھے جنہوں نے ٹراٹسکزم کو متعارف کرایا۔ ان سے پہلے پاکستان کے پاس صرف ثقافتی مارکسٹ تھے لیکن انہوں نے خود کو ایک سائنسی مارکسٹ کے طور پر متعارف کرایا جو ہمیشہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے مستند اعدادوشمار کا حوالہ دیتے تھے۔ ڈاکٹر لال خان ضیا دور میں طلبہ مزاحمت کا بہادر کردار تھے۔ بائیں بازو کی تحریک ان کے بغیر مفلس ہے۔ وہ ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گے“۔

پیپلز پارٹی کے رہنما چودھری منظور احمد نے لال خان کی اپنے نظریہ سے وابستگی کو بے مثال قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں ”انہوں نے اپنی تحریروں اور جدوجہد کے ذریعے اس معاشرے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا“۔ لال خان اکثر پیپلز پارٹی کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے اور اس کی قیادت کو مسلسل یاد دلاتے کہ وہ پارٹی کے منشور سے ہٹ گئی ہے جو بنیادی طور پر سوشلزم پر مبنی تھا۔ لال خان کے سرخ انقلاب کا خواب پورا ہو یا نہ تاہم ان کے پرانے کامریڈ فاروق طارق اس پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں سرمایہ داری ناکام ہو رہی ہے اور ایک دن سوشلزم راج کرے گا۔ وہ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ”ہم اپنے کامریڈ لال خان کے مشن کو جاری رکھیں گے“۔
لال خان کو عالمی تاریخ اور سیاسی و سماجی تحریکوں کا وسیع علم تھا۔ ان کی یادداشت اتنی تیز تھی کہ وہ پیپلز پارٹی کے منشور، لینن کی تقریروں، ذوالفقار علی بھٹو اور ٹراٹسکی کی کتابوں سے زبانی طویل حوالہ دے سکتے تھے۔ تین سال قبل لال خان اسلام آباد میں ٹراٹسکی کی کتاب ”روسی انقلاب کی تاریخ“ کے اردو ترجمہ کے اجرا پر پُرامید نظر آئے۔ انہوں نے کامریڈ عمران کامیانہ کے اردو ترجمہ کو امید کی روشنی قرار دیا۔ راولپنڈی سے دیگر خواتین کارکنوں کے ساتھ جنازے میں شرکت کے لئے آنے والی ایم فل کی طالبہ ریحانہ اختر کا کہنا ہے ”میں کامریڈ (لال خان) کو پڑھ کر جوان ہوئی اور ان سے بہت کچھ سیکھا، وہ نہ صرف ایک عظیم دانشور تھے بلکہ ایک عظیم انسان بھی تھے جو ہر منفی چیز کو بہادری سے جذب کرتے تھے“۔ وہ مزید کہتی ہیں: ”ہم نے کامریڈ لال خان کے ساتھ ایک رشتہ استوار کیا تھا جو خون کے رشتے سے زیادہ مضبوط تھا۔ جس طرح ہر ایک کو یقین ہے کہ صبح سورج طلوع ہوگا، ہمارا یقین ہے کہ ایک دن سوشلسٹ انقلاب آئے گا۔ محنت کش طبقے کی پریشانیوں اور تکلیفوں کو صرف سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے“۔