دنیا

کرونا وائرس کوئی مذاق یا سازش نہیں!

فاروق طارق

کرونا وائرس نے دنیا بھر میں کھلبلی مچا دی ہے۔ 151 ممالک میں یہ وائرس پھیل چکا ہے اور رکنے کا نام بھی نہیں لے رہا۔ اس وائرس نے سرمایہ درانہ ممالک کے چھپے ہوئے معاشی بحران کوسب کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔ دنیا میں ایک نئے شدیدمعاشی بحران کے تمام تر اجزا اس دو ماہ کے اندر اندر کھل کر سامنے آرہے ہیں۔

سارک ممالک کے سربراہان نے کانفرنس کی بجائے پہلی دفعہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کی ہے۔ پاکستانی حکمران طبقات کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ صرف پاکستان کی طرف سے اس میں ایک وزیر مملکت نے شرکت کی، جبکہ باقی تمام اپنے اپنے ملکوں کے سربراہان تھے۔ جو کروناوائرس کو جنوبی ایشیا میں روکنے کے اقدامات پر تجاویز دے رہے تھے۔

یورپ میں اس وقت چین میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی نسبت تعداد بڑھ گئی ہے۔ 16 مارچ کو امریکی حکومت کی جانب سے شرح سود کو کم کرنے کے باوجود ڈو جونز کے شیئرز میں 1000 پوائنٹس کی غیر معمولی کمی ایک روز کے دوران ہوئی ہے اور یورپ سٹاک ایکسچینج مارکیٹس بھی شدید گراوٹ کا شکار ہوئی ہیں۔

نارویجین ائیر لائن نے 85 فیصد فلائیٹس کینسل کر دی ہیں اور 7300 محنت کشوں کو عارضی طور پر نوکریوں سے نکال دیا ہے۔ سپین میں عوام کو مکمل طور پر ویک اینڈ پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا اوروہاں ایک روز میں تین سو سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ جبکہ امریکہ میں تین ہزار افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں۔

کرونا وائرس بارے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ وائرس عالمی سطح پر پچاس لاکھ افراد سے زیادہ کو متاثر کر سکتا ہے اور اسکے فوری ختم ہونے کے امکانات کم ہیں، اسے ختم ہونے میں سال ڈیڑھ سال بھی لگ سکتا ہے۔ اب تک 6680 سے زیادہ افراد اس بیماری کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں اور 176,000 افراد اس کا شکارہوئے ہیں۔ اٹلی میں اموات کی تعداد مسلسل اضافے کے ساتھ 1800 تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں اب تک 136 افراد اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں اورایران میں اب تک 853 افراد اس بیماری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

آج 16 مارچ کو دنیا بھر میں زندگی ایک کے بعد دوسرے ملک میں مفلوج ہو رہی ہے اوربارڈرز بند کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ائیرپورٹس، ریسٹورنٹس، سینما، تعلیمی ادارے، سپورٹس ایونٹس اور پبلک پارکس بھی بند کئے جا رہے ہیں۔ یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی جگہ پچاس سے زیادہ افراد کے اجتماع کی اجازت نہ دی جائے۔

ابتدائی طور پر جن ممالک اور گروہوں نے اسے مذاق سمجھا وہ اب تیزی سے افراتفری میں ہر چیز کو بند کر رہے ہیں۔ یہ وائرس کوئی مذاق نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایک ملک کی سازش، جیسا کہ بعض دانشور اس بارے کہہ رہے تھے۔

چین نے اپنے 700 ملین افراد کے ایک دوسرے سے رابطے ختم کر کے جو لاک ڈاؤن کیا تھا اس کی اسے بھاری قیمت اٹھانی پڑی ہے۔ سوموار کو جاری ہونے والے ایک حکومتی اکنامک سروے کے مطابق اس کی انڈسٹریل پراڈکشن اس ماہ کئی دہائیوں میں سب سے کم ہوئی ہے اور فروری کے ماہ میں اس کی بے روزگاری کی شرح کئی دہائیوں کی نسبت سب سے زیادہ رہی ہے۔ اس بھاری قیمت پرچین کی حکومت اس وائرس کو اس وقت کسی حد تک کنٹرول کرنے کے قابل ہوئی ہے اور وائرس کے شکارافراد میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ہمیں ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اس وائرس بارے تمام مصدقہ معلومات کو سمجھنے اور ان کے مطابق زندگی بسر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ہر بیماری کا علاج اکثر اوقات مذہبی دعاؤں سے کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے اوراسے کلچر بنا لیا گیا ہے، کرونا وائرس بارے بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس بارے عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ باتوں پر عمل کیا جائے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔