پاکستان

بے شرم حکمرانو! عوام کو اجتماعی دعائیں نہیں، اجتماعی دوائیں چاہئیں

فاروق سلہریا

پاکستانی حکمرانوں کا اخلاقی دیوالیہ پن آفت کے دنوں میں اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ اس دیوالیہ پن پر مذہب کی مقدس ملمع کاری کر دی جاتی ہے۔ اس کا تازہ اظہار تبلیغی جماعت کے رہنما مولانا طارق جمیل کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران سامنے آیا۔

جب مولانا وزیر اعظم سے ملنے پہنچے تو کرونا سے بچنے کے لئے دونوں نے ہاتھ نہیں ملایا۔ خود تو احتیاط کا یہ عالم ہے۔ ملاقات کا مقصد بھی کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران پر بات کرنا تھا۔ ملاقات میں وزیر اعظم نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ کرونا کے خاتمے کے لئے ملک بھر میں دعائیں کروائیں۔

اس ملاقات سے دو دن قبل مولانا طارق جمیل کی ایک ویڈیو کلپ سامنے آئی تھی جس میں مولانا یہ ارشاد فرما رہے تھے کہ بیماری اور موت اللہ کی طرف سے آتے ہیں، اگر اللہ چاہے تو کسی کو بیماری لگتی ہے اور نہ چاہے تو نہیں لگتی۔ انہوں نے بمبئی میں آنے والے طاعون کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک گھر میں لوگ طاعون سے مر گئے مگر ساتھ والے گھر میں کچھ نہیں ہوا۔

مولانا کے ’فلسفے‘ پر تو پھر کسی دن بات کرتے ہیں۔ آج ذرا پاکستان کے وزیر اعظم کی بے حسی، عوام سے بے اعتنائی اور سیاست(یعنی اپنی نالائقیاں چھپانے) کے لئے مذہب کے استعمال کی بات کرتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب ملکوں کے ملک لاک ڈاون کئے جا رہے ہیں، لوگوں کو کرونا وائرس سے نپٹنے کے لئے تربیت دی جا رہی ہے، چین نے پورے ملک کو قرنطینہ بنا دیا ہے، سپین نجی ہسپتالوں کو نیشنالائز کر رہا ہے، اربوں لوگ سیلف آئسولیشن میں جا چکے ہیں، کویت نے اذان میں ترمیم کر دی ہے تا کہ لوگ مسجد کی بجائے گھر میں نماز پڑھیں۔ ۔ ۔ پاکستان کا وزیر اعظم ایک عقل اور علم دشمن ملا کو بلا کر دعائیں کرا رہا ہے۔

ادھر حالت یہ ہے کہ میو ہسپتال میں کرونا کا شکار ایک شہری وینٹیلیٹر کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ گیا۔

یاد رہے یہ وہی وزیر اعظم ہے جو کچھ عرصہ پہلے روحانیت کی ایک یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھ رہا تھا اور توہم پرست ایسا کہ مہاسبھا کے ان مذہبی جنونیوں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے جو کرونا سے نپٹنے کے لئے گاؤ موت پارٹیاں کروا رہے ہیں۔

اور اگر دعائیں ہی کروانی ہیں اور مولانا طارق جمیل کی دعائیں اتنی پر اثر ہیں تو کچھ اور دعائیں بھی کروا لی جائیں۔ ایک فوری دعا تو یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضے معاف ہو جائیں۔ اتفاق سے گذشتہ روز ہی فردوس عاشق اعوان کے بقول اس حکومت نے 33 ارب ڈالر کے قرضے اتارے ہیں۔ ایک دعا یہ بھی کرائی جا سکتی ہے کہ ہر طرف، لاکھوں ٹن کے حساب سے، جو کوڑے کے غلیظ ڈھیر ہیں ان سے طاعون نہ پھیلے کیونکہ یہ ڈھیر اٹھانے کی زحمت تو ریاست مدینہ کے والیوں نے کبھی کرنی نہیں ہے۔

ریاست مدینہ کے اس ہینڈ سم توہم پرست وزیر اعظم سے تو سعودی عرب کے حکمران اچھے جو ظالم تو بے شک اس قدر ہیں کہ زندہ صحافی کے ٹکڑے ٹکڑے کروا دیں مگر انہیں یہ علم ضرور ہے کہ کرونا سے بچنے کے لئے خانہ کعبہ بند ہی کرنا کافی نہیں بلکہ اس کی صفائی سائنسی طریقے سے کرانا ضروری ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔