دنیا

کرونا سے انسانی زندگیاں بچائیں، منافع نہیں: فورتھ انٹرنیشنل

فورتھ انٹرنیشنل

ترجمہ: فارو ق سلہریا

فورتھ انٹرنیشنل کی بنیاد انقلاب روس کے رہنما اور لینن کے قریبی ساتھی لیون ٹراٹسکی نے رکھی تھی۔ اس عالمی انقلابی تنظیم کی شاخیں دنیا کے لگ بھگ پچاس ممالک میں موجود ہیں۔ کرونا بحران کے حوالے سے فورتھ انٹرنیشنل نے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا ہے۔

کرونا وائرس سے پھیلنے والی وبا نے صحتِ عامہ کے حوالے سے ایک ڈرامائی شکل اختیار کر لی ہے اور اس کے نتیجے میں بے اندازہ انسانی مصائب سامنے آنے والے ہیں۔

مغربی یورپ میں تو پہلے ہی صحت کی سہولتوں کی سانس اکھڑ گئی ہے۔ اگر یہ وبا ترقی پذیر ممالک میں پھیل گئی جہاں چالیس سال سے جاری نیو لبرل پالیسیوں کی وجہ سے پبلک ہیلتھ سسٹم بری طرح متاثر ہو چکے ہیں، تو شرح اموات بہت بڑھ جائے گی۔

یہ وبا اس صدی کی سب سے بڑی وبا بن چکی ہے۔ 1918-19ءمیں آنے والے سپینش فلو (Spanish Flu) سے ہونے والی اموات کا صحیح اندازہ لگانا تو مشکل ہے مگر اس وبا سے بڑی تعداد میں انسانی جانیں لقمہ اجل بن گئیں اور اس وبا کا نشانہ بننے والوں کی اکثریت نوجوا ن تھے۔ یہ وبا پہلی عالمی جنگ کے بعد پھیلی۔ اس لئے اس کے اثرات بہت ہی تباہ کن ثابت ہوئے۔

کرونا وائرس کی وبا اگر اس تیزی سے پھیلی ہے تو اس کی وجہ جاننے کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ وبا نیو لبرلزم کے ہاتھوں کمزور ہوتی مزاحمت اور عارضی نوکریوں کے دور میں ہوئی ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ عالمگیریت، عمومی کمرشلائزیشن کے علاوہ قانونِ منافع کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

نئی نوع کے اس کرونا وائرس کے بارے میں گذشتہ سال نومبر میں پتہ چل گیا تھا۔ جن ڈاکٹروں اور سائنس دانوں نے خبردار کرنے کی کوشش کی، ان کی آواز دبا دی گئی۔ اگر چینی کمیونسٹ پارٹی نے جلد اقدامات اٹھائے ہوتے تو ممکن ہے اس آفت کا شروع میں ہی قلع قمع ہو گیا ہوتا۔

خطرے سے آنکھیں چرانے کی پالیسی صرف چینی حکومت کا حصہ نہیں۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ’غیر ملکی‘ وائرس کا مذاق اڑایا۔ بولسونارو نے، کہ جب برازیل میں یہ وبا پہلے ہی پھوٹ چکی تھی، اعلان کیا کہ ”فٹ بال کے میچوں پر پابندی لگاناخوف پھیلانے کے سوا کچھ نہیں“۔ بولسونارو نے محکمہ صحت کی ان ہدایات اور اصولوں کا مذاق اڑایا جو انصاف اور پارلیمان کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے خلاف جاری کی گئیں۔

برطانیہ میں بورس جانسن نے ابتداً اجتماعی قوتِ مدافعت (Herd Immunization) کی بات کی [مطلب یہ کہ وائرس کو ستر فیصد آبادی تک پھیلنے دیا جائے جو اس وائرس کے پھیلنے کی آخری حد ہے]۔ بورس جانسن کو اس حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی پڑی۔

بلجیم کی وزیر اعظم سوفی ویلمس(Sophie Wilmes)نے بھی کافی دیر تک اس پر توجہ نہیں دی۔ جنوری 2020ءمیں جب یہ وبا فرانس پہنچی تو وہاں تزویراتی اہمیت رکھنے والے ذخیرے (حفاظتی لباس اور اشیاوغیرہ)پر توجہ نہیں دی گئی۔ مشرقی یورپ میں اِس وبا نے زور نہیں پکڑا مگر وہاں کی حکومتوں نے بھی مغربی یورپ کی حکومتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اس وبا کا زبر دست نشانہ بننے والے اٹلی کے ساتھ یورپی یونین نے بنیادی نوعیت کی یکجہتی کا بھی اظہار نہیں کیا۔ ۔ ۔ گو اٹلی اپنے ملک میں بنیادی ماسک بھی تیار نہیں کرتا۔

مندجہ بالا حکومتی نا اہلیوں کی وجہ یہ ہے کہ وہ معاشی سرگرمیوںاور اشیا کی تجارتی ترسیل میں کوئی خلل نہیں چاہتیں۔ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت پر کم سے کم خرچ کرنا چاہتی ہیں۔ ان حالات میں بھی معاشی اصلاحات جاری رکھنے کی خواہش دراصل محنت پر سرمائے کا حملہ ہے۔ معاشی بحران کا خوف اس قدر حاوی ہے کہ لوگوں کی صحت کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

طبی اور سائنسی تحقیق میں اس قدر ترقی کے باوجود کرونا وائرس بارے کوئی حتمی بات کرنا ممکن نہیں۔ کیا کرہ شمالی میں موسم بہتر ہونے کے بعد یہ وائرس دم توڑ جائے گا؟ کیا اس وائرس کی نوع یا فطرت میں کوئی تبدیلی (Mutation) ہو سکتی ہے؟ اگر کوئی تبدیلی آئی تو کیا اس کا زہریلا پن بڑھے گا یا کم ہوگا؟

چین سے پھیلنے والی اس بیماری کا محور مشرق سے مغرب (یورپ، ایران، امریکہ)کی جانب تھا۔ [صحت عامہ کے حوالے سے] مغربی ممالک میں صورت حال بہتر ہے۔ یہ وائرس اب ترقی پذیر ممالک میں بھی پہنچ چکا ہے۔ ان ممالک میں موسم کی آئندہ تبدیلی اور ترقی یافتہ ممالک میں واپسی سے قبل یہ وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس کی ویکسین بنانے میں وقت لگے گا۔ یہ توقع رکھنا کہ کرونا وائرس مستقبل قریب میں اپنی موت آپ مر جائے گا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

یہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد اور انفیکشن کا شکار ہونے والوں کے مابین کیا تناسب ہے اس کا حتمی اندازہ لگانا تو مشکل ہے مگر اس وائرس کے نقصانات بارے کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد مختلف ملکوں میں مختلف ہو سکتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 80 فیصد مریض خطرے سے دوچار نہیں ہوئے، 20 فیصد مریضوں کے لئے یہ بیماری خطرناک اور 5 فیصد کے لئے انتہائی خطرناک جبکہ دو فیصد کے لئے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔

صرف بوڑھے اور انتہائی بیمار لوگوں کو شدید خطرات لاحق نہیں ہیں۔ جہاں وبا پھیل رہی ہے وہاں انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں پہنچنے والے مریضوں میں نوجوان سے نوجوان افراد بھی شامل ہیں۔

مین سٹریم میڈیا اور حکومتیں عمر کے فرق کی بات تو کر رہی ہیں مگر وہ طبقاتی فرق کی بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ بات بھی نہیں کی جا رہی کہ کرونا وائرس کس طرح لوگوں کی آمدن اور دولت کے حساب سے حملہ آور ہو گا۔ قرنطینہ اور انتہائی نگہداشت کی سہولتیں ستر سال کی عمر اور غربت میں اس طرح میسر نہیں ہوتیں جس طرح جیب میں پیسے کی صورت میسر ہوتی ہیں۔

کرونا کے خلاف مدافعت کے لئے لوگوں میں اینٹی باڈیز (Anti Bodies) موجود نہیں ہیں۔ شدید بیمار لوگوں کے علاج کے لئے انتہائی جدید ساز و سامان اور انتہائی تربیت یافتہ طبی عملہ درکار ہے۔ اگر ایسا نہ ہو (یا یہ کہ ہسپتال پر مریضوں کا دباﺅ بڑھ جائے) تو بے شمار ایسے مریض ہلاک ہو سکتے ہیں اور ہو رہے ہیں جن کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اگر بہت بڑے پیمانے پر اقدامات نہ کئے گئے، اگر چار ارب لوگ اس وبا کی لپیٹ میں آ گئے تو آٹھ کروڑ افراد ہلاک ہو جائیں گے۔

اس لئے ترقی پسند سیاسی تنظیموں بشمول فورتھ انٹرنیشنل کے ملحقہ سیکشنز کو چاہئے کہ وہ اس وبا کو انتہائی سنجیدگی سے لیں۔ جب یہ وبا پھیلے تو اس کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں تا کہ لوگوں کی حفاظت کی جا سکے۔ لوگوں کی زندگیوں کو سرمایہ دارانہ منافع پر ترجیح دی جانی چاہئے۔ جو ممالک پہلے اس وبا کا شکار ہوئے ہیں، ان سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس وبا پر قابو پایا جا سکے اور حکومتوں کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ممکنہ اقدامات کریں۔

ٹھوس حفاظتی اقدامات

تیاری نہ ہونے کے باعث بہت سارے متاثرہ ممالک میں حکومتوں کو قلت کا سامنا تھا۔ وہ جو کر سکتی تھیں کر رہیںہیں۔ جہاں حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں وہاں ان کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے، وہاں فوراً اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ان انتظامات کا مقصد یہ بھی ہونا چاہئے کہ صحت عامہ کے نظام کو از سر نو منظم کیا جائے۔ وبا پھیلنے کی صورت میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ فوری طور پر یہ کرنا ہو گا کہ طبی عملے کی تعددا میں اضافہ کیا جائے۔ طبی عملے کی کمی پہلے ہی محسوس کی جا رہی ہے۔ ہسپتالوں کے بجٹ کم کئے گئے ہیں، ان کی سہولتوں میں کمی کی گئی ہے، ہسپتالوں کی نجکاری کی گئی ہے حالانکہ وباﺅں سے نپٹنے اور انتہائی نگہداشت فراہم کرنے کے لئے ہسپتال اہم ترین ستون ہیں۔

نجی شعبے میں چلنے والی طبی سروسز یا دوا سازی اور طبی سامان کی پیداوار کو فوراً عوامی و سماجی کنٹرول میں لیا جائے۔ سپین کی حکومت نے نجی ہسپتالوں کے کمرے حاصل کرنے کے لئے کچھ اقدامات کئے ہیں۔ حفاظتی لباس، ہائیڈرو الکوحلک جیل اور اسکرینگ کِٹس ترجیحی بنیادوں پر طبی عملے یا متعلقہ عملے کے علاوہ خطرے کا شکار افراد کو فراہم کی جائیں۔

حفاظتی اقدامات میں طبی اور سائنسی تحقیق کو بھی شامل کیا جائے۔ تحقیق بھی معاشی اصلاحات کی وجہ سے کٹوتیوں کا شکار ہوئی ہے۔ تحقیق کے شعبے میں کام کرنے والی تمام نجی کمپنیوں کو عوامی اور سماجی کنٹرول میں لیا جائے۔

جنوبی کوریا نے عوامی پیمانے پر اسکرینگ کا عمل انجام دے کر اس وبا کو سمجھنے اور روکنے کے لئے جلد اقدامات اٹھانے کے حوالے سے اچھی مثال قائم کی ہے البتہ بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسکرینگ سے حاصل ہونے والا وہ ڈیٹا محفوظ نہیں رکھا جا سکا جس کی وجہ سے یہ ڈرامائی صورت حال پیدا ہوئی۔ قلت کی صورت میں حفاظتی سامان کا ذخیرہ موجود ہونا چاہئے تا کہ طبی عملے اور ان کے اہل خانہ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

بل، کرائے اور قرضوں کی قسطیں معطل کی جائیں تا کہ لوگوں کے حالاتِ زندگی ساز گار بنائے جا سکیں۔ قرقی کا سلسلہ فوراً بند ہونا چاہئے۔ بے گھر افراد کو فوراً مناسب سہولیات کے ساتھ چھت فراہم کی جائے۔ جو گھر خالی پڑے ہیں ان کو استعمال میں لایا جائے۔ بے گھر افراد سیلف آیسولیشن میں نہیں جا سکتے۔

آنے والے معاشی و سماجی بحران جس کی فوری وجہ تو یہ وبا بنی ہے مگر جس کی بنیادیں سرمایہ داری کے اندر جڑ پکڑ رہی تھیں، دولت کے ارتکاز اور لوگوں کے حقوق پر حملے کا جواز نہیں بننا چاہئے۔ ترقی پسند تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ مفاد عامہ کے پیشِ نظر ایسے حل پیش کریں جس کی بنیاد وسائل کی تقسیم پر ہو۔

اس ضمن میں آخری بات یہ کہ وبا کے پیش نظر ملنے جلنے، سفر کرنے، معاشی سرگرمی میں حصہ لینے سے بچاﺅ کے لئے اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ اس لئے جو بھی اقدامات اٹھائے جائیں اس کا مقصد ہونا چاہئے کہ عوام کو بڑے پیمانے پر مدد ملے تا کہ غربت مزید نہ پھیلے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ صحت کے اس بحران میں کوئی اکیلا نہ رہ جائے۔ تنخواہ دار ملازم ہیں یا دیہاڑی دار، ہر کوئی ان اقدامات سے فیض یاب ہو سکے۔ ان اقدامات پر ہونے والے اخراجات کو بڑے کاروباری اداروں اور کمپنیوں پر ٹیکس لگا کر پورا کیا جائے۔

تنظیم سازی کی اہمیت

ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومتیں عوام کی صحت اور سماجی بہبود کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں مگر صرف حکومتوں پر انحصار انتہائی خطر ناک ہو گا۔ لوگوں کو منظم اور متحرک کرنا انتہائی اہم ہو گا۔

مزدور تحریک کا مطالبہ ہونا چاہئے کہ ہر طرح کی غیر ضروری پیداوار اور ٹرانسپورٹ بند کی جائے۔ ایسے شعبے جن کو بند نہیں کیا جا سکتا وہاں مزدوروں کو ہر طرح کی حفاظتی سہولیات فراہم کی جائیں علاوہ ازیں مکمل یا جزوی بے روزگاری کے باوجود ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جائیں اور ان کے ساتھ کئے گئے نوکری کے معاہدے کی پاسداری کی جائے۔

پہلے ہی ایسی مثالیں سامنے آ چکی ہیں کہ مزدور غیر ضروری پیداوار، جیسا کہ کاریں بنانے کی صنعت، کے خلاف ہڑتال کر چکے ہیں۔ اس کی ایک مثال [سپین میں] باسک خطے کے شہر وکٹوریا میں مرسیڈیز بینز بنانے والے مزدوروں کی ہڑتال ہے۔ اسی طرح فرانس اور سکاٹ لینڈ میں صفائی مزدوروں نے بہتر حفاظتی تدابیر کے لئے ہڑتال کی۔

مقامی تنظیموں کو کئی سطحوں پر کام کرنا ہے۔ ایک کام تو یہ ہے کہ لوگوں کی تنہائی کو توڑا جائے۔ عورتیں خاص کر اس تنہائی کے دوران مزید بوجھ تلے دب جائیں گی۔ ان پر بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ نسل پرستی، زینو فوبیا، ایل جی بی ٹی فوبیا کے خلاف جدوجہدسے یہ مقامی تنظیمیں ممکن بنا سکتی ہیں کہ دیہاڑی دار مزدور، مہاجرین، بغیر دستاویزات کے لوگ اور امتیازی سلوک کا شکار اقلیتیں موجودہ صورت حال کا نشانہ نہ بنیں۔ اگر کسی عورت کے لئے گھروں میں بند رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے متشدد شوہر کی وجہ سے گھر اس کے لئے ایک عذاب بن گیا ہے تو اس عورت کی مدد کی جائے۔ یہ تنظیمیں اس بات کو بھی یقینی بنا سکتی ہیں کہ سوشل ڈسٹینسنگ کے اصول پر عمل ہو رہا ہے۔

گلیوں محلوں کی سطح پر بے شمار ایسی گراس روٹس تنظیموں کی مثالیں سامنے آئی ہیں جہاں مدد کے طلب گار (بوڑھے، معذور، قرنطینہ میں موجود ) افراد اور مدد فراہم کرنے والوں کے درمیان بعض اوقات پہلی مرتبہ رابطہ ہوا۔ یہ مثالیں علاوہ اور ملکوں کے برطانیہ، نیدر لینڈز اور فرانس میں بھی دیکھنے کو ملیں۔ اٹلی میں عملی مدد فراہم کرنے کے علاوہ محلوں کے لوگوں نے سماجی تنہائی دور کرنے کے لئے چوباروں سے گانے گانا شروع کر دئےے تا کہ یکجہتی کا اظہار ہو سکے۔

سماجی تحریکوں کو چاہئے کہ آزادانہ طبی اور سائنسی مہارت پر بھی انحصار کریں تا کہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کونسے اقدامات مفید اور لازمی ہیں اور عالمی سطح پر تبادلہ خیالات کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔

آخر میں یہ کہنا ہے کہ سماجی تحریکوں کی کاروائی وہ جمہوری گارنٹی ہے جس کا کوئی توڑ نہیں۔ صحت کا بحران ہو تو کارکردگی (Efficiency) کے نام پر اہلِ اقتدار کی مطلق العنانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے کسی بھی مطلق العنان رجحان کے خلاف وسیع ترین متحدہ محاذ ناگزیر ہے۔

سرمایہ دار معاشرے کا عالمی بحران

وبا کسی بھی معاشرے کا امتحان ہوتی ہے۔ شمالی اٹلی میں واقع لمبورڈی (Lambordy) کی ڈرامائی صورتحال اس بات کا اظہار ہے کہ وبا کی صورت میں مروجہ نظام کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ لمبورڈی شمالی یورپ کے خوشحال ترین خطوں میں سے ہے۔ یہاں کا ہسپتال کا نظام بہترین تصور کیا جاتا ہے گو نیو لبرزم کے ہاتھوں یہ نظام کمزور ہوا ہے۔ اب یہاں کا ہسپتال سسٹم مریضوں کے سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ صورت حال یہ بن چکی ہے کہ ’Association of Anaesthetists and Resuscitation ‘ نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے کہ صرف ان مریضوں کا علاج کیا جائے جن کے بچنے کا امکان زیادہ ہے۔ باقیوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہ وہ صورت حال نہیں کہ جب حادثے کے بعد ابتدائی طبی امداد دینے والا عملہ یہ دیکھتا ہے کہ کون زیادہ زخمی ہے اور کسے سب سے پہلے طبی امداد چاہئے۔ مندجہ بالا صورت حال ایک پورے نظام کی ناکامی ہے۔ اس ناکامی سے بچا جا سکتا تھا بشرطیکہ ایک مختلف طرز کی صحت پالیسی پر عمل کیا جاتا۔ امن کے دور میں علاج کے جنگی طریقہ کار پر عمل کیا جا رہا ہے کہ جب سب کی جان بچانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ معیشت کے لحاظ سے امیر ترین اور ترقی کے لحاظ سے جدید ترین خطے میں اگر یکجہتی یوں زوال پذیر ہو گئی ہے۔ ۔ ۔ کل کلاں کو شمالی یورپ کے کسی دوسرے ملک میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

مروجہ سرمایہ دارانہ نظام کے منہ پر طمانچہ

سوال یہ نہیں کہ کیا آنے والے دنوں میں کرونا وائرس کی یہ وبا ’معمول کی بات‘ بن جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ اس کے ’نارملائز‘ ہونے کی قیمت کتنی جانوں کو چکانی ہو گی اوراس کی وجہ سے کتنے سماجی ابھار ہوں گے۔ یہ سوال بار بار پیش آ رہا ہے کیونکہ ہم ایسے عہد میں زندہ ہیں کہ جب بڑی بڑی وبائیں پھیل رہی ہیں (سارس، ایڈز، ایچ ون این ون، زیکا، ایبولا)۔ صحت کے مسلسل بحران کے ساتھ ماحولیاتی بحران بھی شامل ہو گیا ہے (گلوبل وارمنگ اس کا ایک اظہار ہے)، مسلسل جنگیں جاری ہیں، نیو لبرل عالمگیریت اور سرمائے کی فنانشلائزیشن کا عدم استحکام، قرضوں کا بحران، مستقل نوکریوں کا فقدان، سماجی ڈھانچے کی تباہی، مطلق العنان حکومتوں کا ابھار، امتیازی سلوک، نسل پرستی اور زینو فوبیا۔ ۔ ۔

صحت کے بحران کے خلاف لڑنے کا مطلب ہے دوا ساز لابیوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے خلاف لڑائی۔ اس لڑائی کا مطلب ہے ایگرو انڈسٹری کی جگہ کسانوں کی ایگرو اکانومی اور ایگرو فاریسٹری جس کے نتیجے میں ماحولیات میں ایک توازن قائم ہو سکے گا۔

اس لڑائی کا مطلب یہ بھی ہے کہ شہری اصلاحات کی جائیں اور غیر صحت مندانہ بڑے بڑے شہروں کا پھیلاﺅ روکا جائے۔ اس لڑائی کا ایک مطلب یہ ہے کہ منافع کی جگہ بلا منافع دیکھ بھال: ہر بیمار کا مفت علاج چاہے اس کا سماجی رتبہ کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ ہماری زندگیاں ان کے منافع سے زیادہ اہم ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کے اس عالمی بحران کا متبادل ہے ماحول دوست سوشلزم (Eco Socialism)۔ صحت کے موجودہ بحران کا جواب ہے کہ دیگر شعبوں میں ہونے والی جدوجہدوں کے ساتھ مل کر ماحول دوست سوشلزم کو ممکن بنایا جا ئے۔ ماحول دوست سوشلسٹوں، فیمن اسٹوں اور مزدوروںکی مشترکہ جدوجہد کا مقصد ہونا چاہئے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کیا جائے جوہماری اور اس کرہ ارض کی زندگی کا دشمن بن چکا ہے۔ اس مشترکہ جدوجہد کامقصد ایک نئے سماج کی تعمیر ہونا چاہئے۔