دنیا

کرونا وبا کے دوران سیاست کیوں ضروری ہے؟

عمار علی جان

ترجمہ: علی رضا

ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں ہنگامی صورتحال معمول بن چکی ہے۔ 2001ء سے شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ، 2008ء کا معاشی بحران، مشرقِ وسطی کی خانہ جنگی، اس سے پیدا ہونے والا مہاجرین کا بحران اور ماحولیاتی بحران جو کہ آج کرہ ارض کے وجود کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ ۔ ۔ تمام اس خلاف ِمعمول صورتحال کا مظہر ہیں جس میں ہم زندہ ہیں۔

ہیلتھ ایمرجنسی نے ان معاشی اور معاشرتی بحرانوں کو بڑھاوا دیا ہے جس نے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ ایڈز کی وبا نے پوری دنیا کو متاثر کیا خاص طور پر افریقہ کو جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ اس خطرناک وائرس کا شکار ہوا۔ اگرچہ ایبولا وائرس اور ڈینگی بخار جنوبی خطوں تک محدود رہا لیکن یہ بھی پوری دنیا میں شدید خوف کا باعث بنا۔ کرونا وائرس بھی ایسی ہی ایک بلا ہے جس کی وجہ سے ہم پر بے یقینی اور خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ مزید حکومتوں بشمول امریکہ کی طرف سے آنے والے نامناسب ردِعمل نے عالمی سطح پر نا صرف لوگوں کے خوف میں اضافہ کیا ہے بلکہ اس خطرے کو بھی واضح کیا ہے جس کا ورلڈ آرڈر شکار ہے۔

ایسی صورتحال میں لوگوں کا پریشان ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ایسی صورتحال میں انسانی بقا لوگوں کی پہلی ترجیح ٹھہرتی ہے اور وہ طرز حکمرانی پر سوال اٹھانا بند کر دیتے ہیں اسی لیے حکومتوں کے لیے غیر مقبول اور عوام مخالف پالیسیوں کے نفاذکے لیے ہنگامی صورتحال بہترین صورتحال ہوتی ہے۔

نومی کلائن اس صورتحال کو شاک ڈاکٹرائن کا نام دیتی ہیں۔ آفت عو ام کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ماؤف کر دیتی ہے اور ان کو غیر مقبول فیصلے قبول کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 80-1970ء میں قرضوں کے بحران سے پیدا ہونے والی ہنگامہ خیزی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی ممالک اور طاقتور عالمی اداروں نے تیسری دنیا پر سٹرکچرل ایڈجسٹ منٹ پروگرام مسلط کیے جس میں سماجی فلاح و بہبود کے بجٹ میں کٹوتیاں اور درآمدات پر ٹیکس کی چھوٹ جیسے اقدامات شامل تھے جو تیسری دنیا میں غربت اور عالمی سطح پر ناہمواری کا باعث بنے۔

اسی طرح 11 ستمبر 2001ء کے حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بش انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دائرہ عراق تک بڑھا دیا جس کا القائدہ اور طالبان سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں تھا لیکن خوف کی وجہ سے عوام نے اپنے چیف کمانڈر کے جھوٹ کو بھی قبول کیا جس کے دہشت ناک نتائج نہ صرف عراقی عوام نے بھگتے بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گیا۔

2008ء کے معاشی بحران میں بھی ایسی صورتحال سامنے آئی جس میں حکومتیں دعویٰ تو تمام لوگوں کے برابر متاثر ہونے کا کر رہی تھیں لیکن پھر سماجی فلاح کے بجٹ کاٹ کر ان بینکوں کو فائدہ پہنچایا گیا جو کہ خود بحران کا سبب تھے۔ اسی وجہ سے 2008ء سے ہونے والے غربت میں اضافے اور وسائل کی اشرافیہ کو مسلسل منتقلی نے حکومت کے تمام دعووں کو رد کر دیا ہے۔

بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن اس کو سمجھنے کے لیے دو طرح کی ہنگامی صورتحال کا جائزہ کافی ہے۔ پہلی سطح پر ان بحرانوں کی وجوہات اور حل جڑے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر یورپ میں آنے والا مہاجرین کا طوفان جس سے یورپ آج خوفزدہ ہے انھی مغربی حکومتوں کے مسلسل ظلم کا نتیجہ ہے۔ اس بحران سے خوفزدہ ہو کر لوگوں نے اپنی حکومتوں سے سوال پوچھنے چھوڑ دیے ہیں کہ آخر کیوں خارجہ پالیسی میں جنگ کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے بلکہ اس صورتحال نے دائیں بازو کو موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ ان مہاجرین کو اس سارے فساد کی جڑ قرار دے سکیں جس سے اس نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ اس ساری صورتحال کا سبب ہے۔

دوسری سطح پر ہنگامی صورتحال دنیا کی بڑی آبادی کو غیر ضروری قرار دے کر اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے پر منتج ہوتی ہے۔ وہی نظام جو خود اس عوام کی فلاح کا ذمہ دار تھا ان کو غریب اور مسکین کہہ کر ان سے جان چھڑا رہا ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ہر بحران ان دیواروں اور باڑوں کو مضبوط کرتا ہے جو دنیا میں عام اور خاص کو جدا کرتی ہیں۔

اس ساری تاریخ بیان کرنے کا مقصد کرونا وائرس یا دوسری آفات کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ اس خطرے کو رد کرنا تو انتہائی احمقانہ قدم ہو گا جس کے نتائج ہم سب کو بھگتنے پڑسکتے ہیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس صورتحال میں سوال اٹھانا بند نہ کیا جائے، مسائل پر سوچنا بند نہ کیا جائے اور ان لوگوں کے بارے میں سوچنا بند نہ کیا جائے جن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں وہ کون لوگ ہیں جو گھر میں رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے؟ جواب بڑا سادہ ہے: یہ وہ مزدور اور تنخواہ دار طبقہ ہے جو ابھی بھی کارخانوں کے غیر صحتمند ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہے۔ وہ طبقہ چھٹی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے لیے چھٹی کا مطلب ان کے بچوں کا فاقہ ہے۔ اور اگر یہ لوگ اپنے کوارٹروں تک محدود ہو بھی جائیں تو کیا فائدہ کیونکہ ان کے کوارٹر تو اتنے چھوٹے ہیں کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں اور ان علاقوں میں پانی اتنا گندہ آتا ہے کہ عام دنوں میں بھی یہ علاقے ٹائیفائڈ اور یرقان جیسی وباؤں کے مراکز بنے ہوتے ہیں۔

نہ صرف معاشی حالات غریبوں کو مشکلات کا شکار کر رہے ہیں بلکہ ہمارے شہروں کی بنیاد ہی غریب دشمن اور صحت دشمن ہے۔ وہ لوگ جو پوش علاقوں میں نہیں رہتے گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور پاکستان کی 40 فیصد آبادی کی موت کی وجہ یہی گندہ پانی ہے۔ اس لیے اس طبقہ کے لیے ہر وقت ہی ایمرجنسی کے مترادف ہے۔

کرونا اور ڈینگی دونوں نہ تو فاصلہ رکھنے سے رکے اور نہ ہی کسی اور کوشش سے رکے کیونکہ مسائل کی وجوہات پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ یہ تو وہی بات ہے کہ جس طرح حکومت (سموگ سیزن) میں فیکٹریوں اور ٹرانسپورٹ کو کھلی چھوٹ دے کر عوام کو اپنی حفاظت کی تلقین کرتی رہی۔

اس صورتحال کو اٹلی کے فلسفی جارجیو اگامبن نے بڑے اچھے سے بیان کیا ہے کہ کیسے مسائل کی وجوہات کی بجائے نتائج پر توجہ دینا بحث و مباحثہ کو محدود کر دیتا ہے اور اس ہنگامہ خیزی کو ریاستیں حق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

آج اس مشکل وقت میں مزدور طبقے کے حقوق، ایک بہتر نظام صحت اور (پبلک ہاؤسنگ)کے لیے آواز نہ اٹھانا طبقاتی تقسیم میں مزید اضافہ کرے گا۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ بحران سیاسی مسائل پر بات کرنے کا وقت نہیں ہوتا ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے عہد کے تمام بڑے فیصلے بحرانوں میں ہی ہوئے ہیں۔ اپنے سیاسی و سماجی حقوق سے دستبردار ہونا سیاست سے دستبردار ہونا ہے اور بطور شہری ہم اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

Ammar Ali Jan

عمار علی جان حقوق خلق موومنٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھاتے ہیں۔