پاکستان

’لاک ڈاؤنز‘ کے دوران گھریلو تشدد میں اضافہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) برازیل سے لے کر چین تک، کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاونز کے دوران خواتین اور بچوں کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر چین کے ہو بائی صوبے کی بات کی جائے تو وہاں پورے پچھلے سال میں گھریلو تشدد کی 47 شکایات موصول ہوئی تھیں۔ اس سال اب تک وہاں 162 شکایات متعلقہ حکام کو موصول ہو چکی ہیں۔

سپین کے کاتلان خطے میں 9 مارچ، جب لاک ڈاون شروع ہوا، کے بعد سے گھریلو تشدد کے واقعات میں 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اٹلی سے بھی ایسی خبریں آئی ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق اٹلی میں ٹیلی فون کالز کم اور گھریلو تشدد کے خلاف پولیس کی مدد کے لئے ٹیکسٹ میسج زیادہ موصول ہو رہے ہیں۔ ایک اطالوی خاتون نے خود کو غسل خانے میں بند کر لیا اور وہاں سے ایس ایم ایس کے ذریعے مدد مانگی۔

اسی طرح برازیل کے شہر رئیو ڈی جنیرو میں گھریلو تشدد کے خلاف مدد کے لئے قائم کئے گئے ڈراپ اِن سنٹر میں آنے والوں کی تعداد میں چالیس سے پچاس فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بعض ممالک میں کچھ اچھے اقدامات بھی دیکھنے کو ملے ہیں مثلاً شدید لاک ڈاؤن کے باوجود سپین کی حکومت نے کہا ہے کہ اگر عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہیں تو وہ گھروں سے نکل سکتی ہیں اور ان کے خلاف کوئی تا دیبی کاروائی نہیں ہو گی۔

بھارتی ریاست اتر پردیش، جہاں عورتوں کے خلاف بہت زیادہ تشدد ہے، ایک نئی ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔ یونان میں بھی ایسی سہولتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جن کے ذریعے تشدد کا شکار خواتین مدد حاصل کر سکتی ہیں۔