شاعری

دائرے اور آسمان!

قیصر عباس

مصوری: زویا زیدی

ہماری سب لکیریں
دائروں میں
گھومتی ہیں
ہمارے سارے رستے
ایک ہی محور
کی جانب
لوٹ آتے ہیں،
صبح دم
اسپ تازہ کی طرح
گھرسے نکل کر دوڑنا
اور دن ڈھلے
آخر اسی مرکزپہ
واپس لوٹ آنا ہی
ہماری زندگی ہے،
ہمیں بس ایک جانب
دیکھنے کا حکم صادر ہے
ہما ری سوچ
بینائی، مقدر
سب ان ہی
رستوں کے قیدی ہیں،
ہمیں معلوم ہے
ان دائروں کے پار بھی
اک اور دنیا ہے
دور تک پھیلا ہوا
اک آسماں ہے
چاند ہے، سورج ہے
تارے ہیں
مگر ہم کو
ہمارے دائروں
کی ان لکیروں سے
نکلنے کی اجازت ہی
نہیں ہے،
ہماری سب لکیر یں
دائروں میں
گھومتی ہیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔