دنیا

کرونا وبا کے عالمی معیشت پر اثرات

علی تراب

آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ گیتا گوپی ناتھ کے مطابق ’’عظیم کرونا لاک ڈاؤن‘‘ نے عالمی معیشت کو 1930 کے عظیم بحران کے بعد سب سے گہرے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ عالمی معیشت کی شرح نمو اس سال منفی 3 فیصد ہوگی جو کہ جنوری 2020 میں 6۔3 فیصد تھی۔ اگر اس گراوٹ کا موازنہ 2008 کے معاشی بحران سے کیا جاۓ تو 2009 میں عالمی شرح نمو میں گراوٹ محض منفی 0۔1 فیصد تھی۔

کرونا لاک ڈاؤن ختم ہو بھی جائے تو عالمی سپلائی چینز ٹوٹ چکی ہیں جن کو دوبارہ فعل بنانے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ امریکہ میں ریکارڈ 25 ملین سے زیادہ بےروزگاری انشورنس کی درخواستیں موصول کی گئیں ہیں۔ پورپی ممالک کی صورتحال بھی کوئی مختلف نہیں۔اسی طرح جنوبی ایشیا پچھلے چالیس سال کے سب سے گہرے بحران میں ہے۔

اس عالمی صورت حال میں اگر ہم پاکستان پر نظر ڈالیں تو پاکستان کی اس سال شرح نمو منفی 1۔4-5 فیصد پروجیکٹ کی گئی ہے۔ جبکہ اگر حکومتی ہیر پھیر کو ہٹائیں تو نمو اس سے بھی کہیں زیادہ ابتر ہے۔ 12- 18ملین لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

پاکستان میں فی دس لاکھ لوگوں کے 330 کرونا ٹیسٹ کیے جارہے ہیں جو کسی بھی ترقی پذیر معیشت کے مقابلے میں بہت کم ہیں، بھارت میں یہی شرح 700-800 فی ملین ہے۔ اب جب کرونا کیسز میں ایک بار پھر نمو دیکھی جارہی ہے، اس صورت میں حکومت کی جانب سے لاک لاک ڈاؤن جزوی طور ر کھول دیا گیا ہے۔

پاکستان کی معیشت کا انحصار درآمدات پر ہے اور جب عالمی تجارت ہی بند ہوتو کیسی درآمدات۔ جس تعمیراتی صنعت کو تاریخ کی سب سے بڑی ایمنیسٹی سکیم کے ذریعے فعل بنانے کی کوشش کی گئی ہے وہ بھی جون سے پہلے فعل ہوتی نظر نہیں آتی بشمول اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوۓ کہ پاکستان کرونا پر قابو پاسکتا ہے یا نہیں۔

اکانومسٹ جریدے کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر پسماندہ ممالک میں کرونا ختم نہیں ہوتا تو  ترقی یافتہ ممالک میں یہ دوبارہ پھیل سکتا ہے۔ اس صورت واضح امکان ہے کہ پاکستان سے کوئی ملک تجارت نہ کرے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جن 25 ممالک کو ریلیف دینے کا اعلان کیا گیا ہے ان میں بھی پاکستان کا نام شامل نہیں۔ پاکستان کی عوام کو ہزاروں ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ ایک شدید معاشی کیفیت کی ابھی سے تیاری شروع کردینی چاہیے۔ اس بحران سے نکلنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ریاست ہسپتالوں، فیکٹریوں اور دیگر اداروں کو قومی تحویل میں لیتے ہوۓ منصوبہ بند معیشت کی بنیاد پر اس بحران کا سامنا کرے۔

Ali Turab

علی تراب جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے طالب ہیں اور بیروزگار نوجوان تحریک کے رہنما ہیں۔