اداریہ

روزنامہ جدوجہد! پہلی سالگرہ مبارک

اداریہ جدوجہد

22اپریل! آج کا دن، انقلابِ روس کے مرکزی رہنما ولادیمر لینن کی سالگرہ کا دن۔ اِسی دِن کی مناسبت سے پچھلے سال ہم نے ’روزنامہ جدوجہد‘ کا اِس یقین کے ساتھ آغاز کیا تھا کہ ”جدوجہد امید کا سرچشمہ ہے“۔

اسی یقین کے سہارے، گذشتہ ایک سال سے ہر روز (تعطیلات کے دن چھوڑ کر) ہم آپ کے ورچوئل دروازے پر آن لائن دستک دیتے ہیں۔ یہ ایک محدود سی کامیابی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہر روز ہزاروں کی تعداد میں آپ ہمیں خوش آمدید کہتے ہیں، ہماری لکھی تحریروں کو غور سے پڑھتے ہیں، کبھی متفق ہوتے ہیں تو کبھی تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہر دو صورتوں میں ہماری بات کو آگے پہنچاتے ہیں۔ اس سارے سلسلے میں ہم مل کر اس نصب العین کی تکمیل کرتے ہیں جو ’روزنامہ جدوجہد‘کی اساس ہے: تجارتی، عوام دشمن، گمراہ کن اور گٹر میڈیا کے مقابلے پر ایک ایسے میڈیا پلیٹ فارم کی تعمیر جو سوشلزم، جمہوریت، ماحولیات، مزدور یکجہتی، انٹرنیشنل ازم اور انسانی حقوق کی بات کرتا ہے۔

محدود سی کچھ اور کامیابیاں بھی ہیں جن سے ’روزنامہ جدوجہد‘کے ادارتی بورڈ کو حوصلہ ملتا ہے اور اس ٹیم میں شامل رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرنے والے ساتھی اور تندہی سے کام کرنے لگتے ہیں۔ سب سے اہم کامیابی تو یہ ہے کہ’روزنامہ جدوجہد‘کے پڑھنے والوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے اور لکھنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اس ایک سال کے دوران اگر تین لاکھ کے لگ بھگ لوگوں نے ہمیں پڑھا ہے تو ’روزنامہ جدوجہد‘میں لکھنے والوں کی تعداد بھی بڑھ کر سو کے قریب جا پہنچی ہے۔

ہم نے نہ صرف نئے لکھنے والوں کو متعارف کرایا بلکہ عملاً جرنلزم ورکشاپس کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں اب تک یونیورسٹی کے طلبہ نے حصہ لیا۔ ان میں سے اکثر طلبہ اب جدوجہد کے علاوہ بھی اپنا صحافتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگلے مرحلے میں ہم ایسی ورکشاپس کا انعقاد ٹریڈ یونین کے ساتھیوں کے لئے بھی کریں گے۔

اسی طرح ہماری ایک کامیابی یہ بھی تھی کہ ایک سے زائد موقعوں پر ہماری رپورٹنگ نے مین اسٹریم میڈیا کو مجبور کیا کہ وہ ان مسائل پر بات کرے جو ہم نے اٹھائے۔ اس کی ایک مثال تو کرتار پور کے ان کسانوں کا مسئلہ تھا جن کی زمینوں پر کرتار پور راہداری تو بنا دی گئی مگر انہیں ان کی زمینوں کا معاوضہ نہیں دیا جا رہا تھا۔ ’روزنامہ جدوجہد‘کی ایک رپورٹ کے بعد نہ صرف مین اسٹریم میڈیا نے اس مسئلے کو اٹھایا بلکہ ان کسانوں کو ان کا حق بھی ملا اور ’روزنامہ جدوجہد‘ کی ایک سالہ تاریخ میں بھی یہ فیس بک پر اس کی سب سے زیادہ شیئر کی جانے والی خبرتھی جسے پندہ ہزار سے زائد مرتبہ شیئر کیا گیا۔ اسی طرح گذشتہ ماہ عورت مارچ کے موقع پر جدوجہد کی خبریں اور تجزئے نہ صرف ایک متبادل بیانیہ بن کر ابھرے بلکہ پاکستان میں صنفی نا برابری بارے ہماری ایک خبر کا مین اسٹریم نے، صحافتی اصطلاح میں، فالو اپ کیا۔ ۔ ۔ اور ایک نہیں کئی بار ہماری خبریں دسیوں ہزار دفعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئیں۔

یاد رہے کسی خبر کے وائرل ہونے کو ہم اپنی کامیابی کا واحد معیار نہیں سمجھتے۔ صحافتی اخلاقیات اور معیار کی پاسداری ہماری اولین ترجیح رہتی ہے۔ اس سے بھی اہم مشن جو ہم نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے وہ ہے اردو صحافت کے قارئین کو ان موضوعات اور مباحث سے متعارف کروانا جن پرمین سٹریم میڈیا، ادبی و علمی حلقے، اسکول سسٹم یا نظریاتی تشکیل کے دیگر دھارے بات نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر عالمی حالات و واقعات کی رپورٹنگ یا تجزیہ یا تو غائب ہے یا انتہائی سطحی اور نفرت آمیز۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا گیا ہے، ’روزنامہ جدوجہد‘ نظریاتی طور پر انٹرنیشنل اسٹ ہے۔ ہم محنت کشوں کی عالمی یکجہتی کے قائل ہیں۔ اس لئے عالمی حالات و واقعات کو ترقی پسند نقطہ نظر سے پیش کرنا ہمارا روز کا معمول ہے۔ سچ تو یہ ہے ہماری انٹرنیشنل کوریج کافی مقبول سلسلہ ثابت ہوا ہے۔

اسی طرح ہم نے نوم چامسکی اور طارق علی سے لے کر جلبیر اشقر جیسے معروف عالمی دانشوروں کی درجنوں تحریریں ترجمہ کیں۔ ایک زمانہ تھا اردو اخبارات میں ایسے تراجم شائع ہوتے تھے مگر اردو صحافت جوں جوں دانشورانہ اور ثقافتی زوال پذیری کا شکار ہوئی توں توں نہ صرف یہ سلسلہ رکتا چلا گیا بلکہ عالمی واقعات کی رپورٹنگ تو اب غائب ہی ہو چکی ہے۔ یوں ’روزنامہ جدوجہد‘ ایک صحافتی کوشش ہی نہیں بلکہ اس کا ایک نصب العین یہ بھی ہے کہ ان کوششوں کا حصہ بنے جن کے نتیجے میں لوگوں کا دانشورانہ اور ثقافتی افق وسیع ہو۔

یقیناکچھ مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز اور آن لائن دنیا کی جمالیات ہماری سوچ اور نظرئے کی جمالیات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ہم اجتماعیت، گہری سوچ و فکر (جس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے) اور بے غرضی کے قائل ہیں۔ سوشل میڈیا کی جمالیات نرگسیت، انفرادیت اور برق رفتاری پر مبنی ہے۔ سوشل میڈیا کی جمالیات نیو لبرل آئیڈیالوجی سے مطابقت رکھتی ہے۔ یوں ہم بہاؤ کی مخالف سمت میں تیر رہے ہیں۔

دوم، سرمایہ دارانہ منطق کے تحت سوشل میڈیا پر بھی مین اسٹریم وہی ہے جس کے پاس زیادہ وسائل ہیں۔ وسائل، جو سرمایہ داری کے تحت خریدے اور بیچے جا سکتے ہیں، کی کمی ہمارے لئے ایک مسلسل درد ِسر ہے۔ مناسب فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ہم اس تیزی سے ترقی نہیں کر پا رہے جو ہمارے لئے ممکن ہے۔

سوم، ڈیجیٹل تقسیم (پاکستان میں 35 فیصد لوگوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے) کی وجہ سے ہم بہر حال محنت کش طبقے کی ایک بڑی اکثریت تک، آج کے حالات میں، پہنچ ہی نہیں پائیں گے۔

عملی مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے۔ قارئین سے ان کا ذکر کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہمیں آپ سے عملی مدد کی توقع ہے۔ مندرجہ بالا مسائل اور رکاوٹوں کو ہم فقط آپ کی مدد سے دور کر سکتے ہیں۔

ہمارے کچھ خواب بھی ہیں۔ سب سے اہم خواب تو ایک ایسے پاکستان کی تشکیل ہے جہاں سرمایہ دارانہ، پدر شاہانہ، جاگیردارانہ اور طبقاتی استحصال نہ ہو۔ ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں معاشی، صنفی اور ماحولیاتی انصاف ہو۔ ایسے خواب کی تشکیل کا تقاضا ہے کہ ایک نہیں ’روزنامہ جدوجہد‘جیسے درجنوں میڈیا، کلچرل اور نظریاتی پلیٹ فارمز ہوں۔ مین اسٹریم ہم ہوں نہ کہ تجارتی اور بکاؤ میڈیا۔ اس لئے ہم نہ صرف ’روزنامہ جدوجہد‘ کی تحریروں کو مین اسٹریم بنانا چاہتے ہیں بلکہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ملٹی میڈیا پلیٹ فارم بن کر ابھریں اور ہمیں یقین ہے۔ ۔ ۔ ”ہم دیکھیں گے“۔

اس پہلے سال کے دوران ہم نے ایک صدمہ بھی سہا۔ ہمارے ادارتی بورڈ کے بانی رکن کامریڈ لال خان ہم سے بچھڑ گئے۔ وہ پاکستان میں عہدِ حاضر کی انقلابی سیاست اور انقلابی فکر کی ترویج کے حوالے سے ایک اہم ترین کردار تھے۔ ’روزنامہ جدوجہد‘ کے ابتدائی ایام میں، کینسر کے موذی مرض سے لڑتے ہوئے بھی، انہوں نے بے شمار مضامین لکھے۔ ان کی کمی قارئین جدوجہد تو محسوس کریں گے ہی، ادارتی بورڈ کے لئے یہ کئی طرح کا نقصان ثابت ہوا۔ ارکان ِ ادارتی بورڈ کے لئے وہ ایک ساتھی اور کامریڈ ہی نہیں، ایک ایسے سیاسی اور دانشور قائد بھی تھے جو نظریاتی رہنمائی کے علاوہ انسپائریشن کا بھی موجب تھے۔ ہمارا اپنے اس عظیم ساتھی سے وعدہ ہے کہ ہم اُس مشن کی تکمیل کے لئے جدوجہد کے پلیٹ فارم سے بساط بھر کوشش جاری رکھیں گے جس کے لئے کامریڈ لال خان نے عمر بھر ناقابل مصالحت جدوجہد کی۔