دنیا

کرونا بحران: ہم پبلک سروسز کو ریاستی ملکیت میں لاکر بہتر دنیا بنا سکتے ہیں

اندرجیت پرمار/اتل بھردواج

مترجم: محمد علی

بشکریہ: لندن اسکول آف اکنامکس (ویب سائٹ)

کرونا وائرس کی وبا کے پھیلنے سے دنیا بھر کے محنت کشوں کی زندگیاں تباہ ہوکر رہ گئی ہیں، خاص کر کسان اور محنت کش اس وبا کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ یہی وہ طبقات ہیں جومعاشی سرگرمیوں کی یکدم رکاوٹ کے اثرات دیر تک محسوس کرتے رہیں گے۔

کرونا بحران کے بعد کی دنیا میں یہ روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے افراد، جن کی اکثریت کو آج ہیرو اور’کلیدی مزدوروں‘ کے طور پر دیکھا جارہا ہے، ان مزدوروں کے لئے اس ڈارونین ڈسٹوپیا۔ ۔ ۔ ۔ جہاں مارکیٹ، بینکوں اور کارپوریشنز، حکومتوں کی جانب سے نچھاور کردہ ریلیف پیکج حاصل کررہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ میں زندہ رہنا مشکل ہو گا۔ اور ہاں اس دوران یہ بحث منظر عام پر آ ہی نہیں رہی کہ ان اخراجات کا بل کون دے گا؟

کارپوریشنز کی پشت پناہ ریاستیں اپنی پوری تیاری میں ہیں کہ نجی اداروں اور ارب پتی قرض خوروں کی مدد کی جائے تاکہ یہ لوگ صحت کے بحران سے نئے سرمایہ دارانہ نیو لبرل ازم کے جذبے کے ساتھ ”انسانیت کے مسیحاؤں“ کی صورت میں ابھریں۔ لیکن، کرونا بحران سے پہلے کے ’معمول‘ کی طرف لوٹ جانے میں ان کو شدید سیاسی اور اخلاقی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزدوروں کو عوامی شناخت ملی ہے اور ریاست پر دباؤ ہے کہ وہ محنت کشوں کی مدد کرے۔

سیاسی منظرنامہ بالکل بدل چکا ہے۔ کرونا بحران کے بعد کی دنیا کے خدوخال کے لیے سیاسی، اخلاقی اور فلسفیانہ جدوجہد کا آغاز ہوچکا ہے۔ اب نیولبرل معمول یا پھر امریکی غلبے کی طرف آٹومیٹک واپسی نہیں ہوگی کیونکہ اس وائرس نے عالمی سیاست کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔

کارپوریٹ فلاح و بہبود

2008ء کے بیل آؤٹ کا نقشہ اپناتے ہوئے، امریکی کانگریس نے 1 ٹریلین ڈالر کے محرک پیکیج (Stimulus Package ) کا اعلان کردیا ہے۔ اس پیکیج کی فنڈنگ زیادہ تر امریکی ٹیکس دہندگان کریں گے، وہی ٹیکس دہندگان جو پچھلے ہفتے فوڈ بینکس اور بیروزگار افراد کے لیے بنائے گئے دفتروں (حکومت کی طرف سے بنائے گئے دفاتر جو بے روزگارافراد کو نوکری ڈھونڈنے میں مدد کرتے ہیں: مترجم) کے باہر قطار بناکر کھڑے تھے۔

پلان کے مطابق 4 ٹریلین ڈالر قومی قرضے میں شامل کردئے گئے ہیں تاکہ کارپوریشنز کو لیکویڈیٹی (Liquidity) فراہم کی جاسکی۔ امریکہ کی ناکامی کی طرف گامزن ریاست کی دیکھا دیکھی، فیصلہ سازی کرنے والے عالمی حکمرانوں نے، انسانی ہمدردی سے سرشار ہوکر، سرمائے کی منطق کے تحت، بڑے کاروباری اداروں کے لیے عالمی سطح پر بیل آؤٹ پیکیج دینے شروع کردیے ہیں۔

اس کارپوریٹ لالچ کا پیٹ بھرنے کی دوڑ میں اس بات کو نظر انداز کردیا گیا کہ یہ ’بیل آؤٹ پیکیج‘ پہلے سے بڑھتے ہوئے عالمی قرضہ جات کی وجہ سے معاشی گراوٹ کو مزید تیز کردیں گے۔ اس سارے کھیل میں ممکن ہے کہ دنیا ایک قرضے کے بحران میں دھنس جائے۔

کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے صحت کے بحران سے پہلے ہی، عالمی بینک نے خبردار کیا تھا کہ عالمی معیشت چوتھے عالمی قرضہ جات کے دور سے گزر رہی ہے۔ مجموعی عالمی قرضے کی رقم ستمبر 2019ء کے اختتام پر 253 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ ممکن یہی ہے کہ سود کی مقدار میں کمی کی فضا میں، حکومتی، نان فنانشل کارپوریٹس اور ذاتی سطح پر قرض لینے کے رجحان کی وجہ سے اس رقم میں اضافہ ہوا ہو۔ یہ بڑھوتری قرضہ جات کی مقدار کو عالمی معاشی پیداوار سے پانچ یا اس سے بھی زیادہ گنا بڑھا دے گی۔ یہ ایک خطرناک معاشی بحران کے بیج بو رہے ہیں جو سب سے کمزور طبقات کو شدت سے متاثر کریں گے۔ قرضہ جات کی پچھلی تین لہریں، جو پچاس سال کے دوران آئیں، انہوں نے شدید مالی بحرانوں کو جنم دیا۔ چوتھی لہر مزید خوفناک ثابت ہو سکتی ہے۔ مسقبل قریب یا بعید میں ممکن ہے کہ عالمی مالی آرڈر تباہ ہوجائے۔

عالمی اشرافیہ کے پاس ریاستی بیوروکریسی، تعلیم اور میڈیا کے شعبے سے وابسطہ لوگوں کی شکل میں وسیع معلوماتی ڈھانچے ہیں مگر یہ متبادل حل سے ڈرتے ہیں۔ وہ متبادل نقطہ نظر کو ناکام کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ وہ میڈیا میں ان چند چیدہ چیدہ آوازوں کو دبادیتے ہیں جو اس بحران کے حوالے سے عوام دوست حل فراہم کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایسی تجاویز جو امرا پر مزید ٹیکس لگانے کی بات کریں، صحت، تعلیم اور فلاحی سرگرمیوں کے اخراجات بڑھانے کی بات کریں ان کو فوری طور پر ناقابل عمل یا یوٹوپیائی کہہ کر ہٹا دیا جاتا ہے۔

کارپوریٹ دنیا کے رہنما اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس بحران سے نپٹنے کے لیے کئے گئے اقدامات مزید غربت اور عدم مساوات کو جنم دیں گے۔ ہم ایک ایسی سطح پر ہیں جہاں کئی غربا، ترقی پذیر معیشتیں اور ترقی یافتہ ممالک بھی، وسیع بیروزگاری اور غذائی قلت کی وجہ سے فسادات کا سامنا کریں گے۔ اشرافیہ کو درکار خطرات سے بچنے کے لیے’امیر شریف زادوں‘ نے بحران کا سہارا لیتے ہوئے سرمایہ داری کو’سرویلنس سرمایہ داری‘ میں تبدیل کردیا ہے۔ اس میں چوتھے صنعتی انقلاب کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے سول آزادیوں کوزائل کیا جائے گا اور لوگوں کی انفرادی رازداری میں مصنوعی ذہانت کی بدولت مداخلت کی جائے گی۔

کرونا وائرس کے بحران کی شدت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سماج میں رائے عامہ تو تشکیل دیا جارہا ہے تاکہ ایک آمرانہ ریاست کو اپنی مرضی سے نگرانی کی اجازت دی جاسکے۔ گلین گرین والڈ ایک ایسے لبرٹیرین (Libertarian) ہیں جو 2014ء میں پلٹزر انعام جیت چکے ہیں۔ انہیں یہ انعام ایڈورڈ سنوڈین کے انکشافات کی رپورٹنگ کرنے پر ملا۔ وہ بھی حالات کے مد نظر، ہچکچاہٹ کے ساتھ سہی مگر سرویلنس کی حمایت کرچکے ہیں۔

دائیں بازو کی پاپولسٹ ریاستیں بھی اس تنگ نظر آمرانہ اور الیٹسٹ ایجنڈے کو اپنانے میں پیچھے نہیں ہیں۔ ہنگری نے پہلے ہی وزیراعظم وکٹر اربان کو ایک ایکٹ کے ذریعے غیر معینہ مدت تک حکمرانی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس دوران نام نہاد جمہوری حکمران بھی اس بھیڑ میں شامل ہوجائیں گے۔

عالمی جیوپالیٹیکل مالیخولیا (Global Geopolitical Schizophrenia)

جیو پالیٹیکل فرنٹ پر، کچھ تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ چین اور امریکہ تعلقات بہتر ہوں گے۔ اس کی وجہ وہ ڈالر کی گراوٹ کو بیان کرتے ہیں۔ امریکہ کے قرضہ جات جن کی رقم اب 25 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے امریکی اشرافیہ کو چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ معاشی سست رفتاری اور اس سے وابستہ سٹیملس پیکیج کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں کمی کا عمل تیز ہوگا۔ روئے سیباگ کی ایک ٹویٹ کے مطابق ”امریکی ڈالر کے سود کا تناسب اب سرکاری طور پر صفر پر آ چکا ہے، آج کا دن اس فیاٹ ڈالر تجربے کا آخری دن ہے جو 1971ء میں شروع ہوا تھا۔ گولڈ سٹینڈرڈ کی طرف کا راستہ اب پہلے کی نسبت زیادہ قریب ہے“۔

جنگ کے بعد کے گولڈ سٹینڈرڈز کا انعقاد امریکہ کو مجبور کرسکتا ہے کہ وہ ان ممالک کو جگہ دے جن کے پاس خاطر خواہ مقدار میں سونا موجود ہے۔ ان ممالک میں روس، چین، برطانیہ اور کچھ دیگر ممالک شامل ہیں، جن کے ساتھ کثیر الجہتی معاہدے کے تحت عالمی مالی آرڈر کو طے کیا جاسکے گا۔ یہ نئی ترتیب چھوٹے یا درمیانے ممالک جیسا کہ انڈیا اور برازیل کے لیے کیا صورتحال اختیار کرتی ہے، اس کی پیشن گوئی کرنا مشکل ہے۔ لیکن ممکن یہی ہے کہ یہ نیا آرڈر ان کو کوئی خاطر خواہ گنجائش فراہم نہ کرسکے کہ جس کے تحت وہ معاشی یا سٹریٹجک خود مختیاری اختیار کرسکیں۔

لیکن، امریکی صدر ٹرمپ کی دوبارہ الیکشن میں کامیابی صورت حال کو مزید گھمبیر بنادے گی۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ وہ امریکہ کی چین کے حوالے سے طے شدہ پالیسی کو تبدیل کریں گے؟ یہ پالیسی جو کہ معاشی جنگ کے ذریعے، چین کو ماتحت کرنے کی پالیسی ہے۔ ایک ایسا امریکی صدر جو کرونا کی وبا کو ”چینی وبا“ یا ”وہان وائرس“ کہتا ہے کیا اس سے ایسی توقع باندھی جا سکتی ہے؟ جو بھی خدوخال ہوں، چین امریکہ تعلقات کئی سالوں تک ہنگامہ آرائی کا شکار رہیں گے۔ معاشی تجدید نو اور فوجی برتری کو برقرار رکھنے کی خواہش کے نتیجے میں ممکن ہے، سپر پاور اور مڈل کنگڈم کے بیچ ایسا مالیخولیا کا شکار رشہ قائم کرے جس میں کبھی مقابلہ بازی ہو اور کبھی تعاون۔

جیسا کہ انٹونیو گرامشی نے کافی عرصے پہلے کہا تھا، ”جب ایک پرانا نظام مررہا ہو اور نیا پیدا نہ ہوپارہا ہو، تو دنیا ایک مزید خطرناک جگہ بن جاتی ہے۔ لیکن پھر بھی، ایک دوسرے پر گہرا انحصار برقرا ر رہنے کی وجہ سے دشمنیاں ایسا رخ اختیار نہیں کریں گی کی صلح ممکن نہ رہے۔“

بایاں بازو کیا کرے

صرف نیولبرلز پر ہی کارپوریشنز کی وجہ سے کی جانے والی کٹوتیوں کا الزام نہیں ٹھرایا جاسکتا۔ بائیں بازو کی دانشورانہ کاہلی اور انسٹیٹیوشنلائزڈ پارٹیوں کا اسٹبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کرنا، موجودہ صورتحال میں برابر کے قصوروار ہیں۔ جمود میں ڈوبی ہوئیں بائیں بازو کی پارٹیاں، طبقاتی جدوجہداور احتجاجی سیاست کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ بائیں بازو کے دانشور مستقبل اور متبادل کی ممکنات کو عوام تک پہنچانے میں بھی مجموعی طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

بائیں بازو ں نے اپنے آپ کو شناخت کی سیاست تک مخصوص کرکے خود کو بندگلی میں پہنچا دیا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ مزدوروں اور محنت کشوں کے لئے نسل، مذہب اور جنس سے بالاتر ہوکر بنیادی معاشی سوالات کو لے کر سیاست کرتے، بائیں بازو نے اپنے آپ کو عمومی طور پر ان رجحانات میں الجھائے رکھا۔ برطانیہ میں جیرمی کوربن اور امریکہ میں برنی سینڈرزکے استثنا کے ساتھ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ شناخت کی سیاست کس حد تک لبرل جمہوریتوں میں کس قدر اثر رکھتی ہے (ایسی سیاست کی قیادت کا تعلق اقلیتوں کے متمول طبقے سے ہوتا ہے اور وہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کرتے ہیں)۔

مزید یہ کہ پرائیویسی میں دخل اندازی کو روکنے کا ایک جنون ہے جس کی وجہ سے بایاں بازو ٹیکنالوجی کو بنیادی تبدیلی لانے میں معاون آلے کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔ مارکس کبھی بھی فیکٹری میں ٹیکنالوجی لانے کے خلاف نہیں تھا۔ مارکس اور اینگلز ہمیشہ صنعتی انقلاب کے ذرائع پیداوار کو محنت کش طبقات کی حاکمیت قائم کرنے میں مددگار کے طور پر دیکھا۔

کرونا کی وبا نے ہمیں مستقبل میں ٹیکنالوجی سے چلنے والی دنیا میں زندگی کا صرف ایک اشتہار دکھایا ہے۔ یہ مستقبل ایک گولڈمین سیچس کی مرضی کا مستقبل ہے، جہاں مینیجریل اور پروفیشنل طبقات گھر میں بیٹھ کر ہی کام کریں گے اور بنیادی سروسز جیسا کہ نرسز، ڈاکٹرز، ڈلیوری ڈرائیورز اور دکانداروں کو مزید خودکار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ امیر افراد ظاہری طور پر اپنی زندگیوں کو مزے کے ساتھ، غریب طبقات سے سماجی دوری میں گزاریں گے۔ جہاں وہ ضروری سمجھیں گے، وہ اس تفاوت کو قانون سازی کے ذریعے نافذ کرائیں گے۔ بائیں بازو پر یہ لازم ہوگیا ہے کہ وہ شناخت کی سیاست اور شہری آزادیوں کے جال سے باہر آکر ایک ایسا نیا منشور تیار کریں جو چوتھے صنعتی انقلاب سے عوام کو لاحق خطرات کا حل بیان کرسکے۔

سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوچکا ہے

اگر کسی چیز کو کرونا وبا کے بحران نے واضح کیا ہے تو وہ یہ ہے کہ بنیادی ورکرز کو لے کر عوامی حمایت اور ہمدردی دنیا بھر میں موجود ہے۔ پبلک سروسز خاص طور پر ہیلتھ کیئر کے لیے فنڈز کی کمی اپنی تمام تر خوفناک صورتحال میں واضح ہوگئی ہے۔ یہ خوفناک صورت حال وبا اور اموات کی شرح اور صحت کے شعبے سے وابستہ محنت کش جو کہ ایک جان لیوا مرض کے خلاف ماسکس، دستانوں اوردیگر بچاؤ کے سامان کے بغیر لڑرہے ہیں کی صورت میں نظر آتی ہے۔

ایک اور وبا پھیلے گی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی خوفناک صورتحال کے ادراک کے ساتھ اور عوامی دباؤ کے تحت پبلک سیکٹر کو فنڈنگ کی فراہمی کے ساتھ یقینی طور پر”ریاست کی واپسی“ ہوئی ہے۔ لیکن، کارپوریٹ کے اثر سے متاثر نیو لبرل ریاست اپنی مرضی سے پیچھے نہیں ہٹی۔ اس کو پیچھے دھکیلا گیا ہے تاکہ عوامی مرضی کو پورا کیا جاسکے اور اشرافیہ کو لاحق سماجی اور سیاسی ہلچل کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

کینز اور سوشل ڈیماکریسی شاید واپس نہ آسکے، لیکن کارپوریشنز، فرضی کاروباری مسیحا اور مارکیٹ کی اخلاقی اور مادی اقتدار بھی دھول کی طرح اڑ چکی ہیں۔ قومی ریاست اور عالمی دنیا کا سیاسی اور اخلاقی منظرنامہ ضرور تبدیل ہوا ہے۔