نقطہ نظر

وبا کے دنوں میں سیاست

اسد الرحمٰن

فرانس تمام سماجی، سیاسی و معاشی اعشاریوں کے مطابق ایک ’جدید‘ ترقی یافتہ اور ’مہذب‘ملک ہے کہ جہاں قانون کی حکمرانی، آزادی اظہار رائے اور بہترین حکومت کے تمام لوازمات موجود ہیں۔ کرونا وبا کے دوران اس کی ریاست نے جو کردار ادا کیا ہے اسکا پورا احاطہ تو ادھر نہیں کیا جا سکتا لیکن صرف ایک ایشو کہ کلوروکین کو استعمال کیا جائے یا نہیں اس پہ ہونی والی سیاست کی مدد سے، کئی اعتبار سے، یورپ میں کرونا سے ہونے والی بد انتظامی کا ایک طائرانہ خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔

فرانس میں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیاسی تنازعے کے دو کردار ہیں۔ جنوبی فرانس کے شہر مارسلیز میں موجود ڈاکٹر دیدیغ راؤلٹ (Dider Rault) جو کہ وبائی امراض کے ماہر ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ایک قومی تحقیقاتی ادارے ’ادارہ برائے تحقیق وبائی امراض‘ کے سربراہ بھی ہیں۔ دوسرا کردار ہیں: اولیور ویران (Olivier Veran) جو کہ اس وقت وزیرِصحت بھی ہیں اور ساتھ ساتھ ایک نیورالجسٹ یعنی کہ دماغ کے ڈاکٹر بھی۔

مارچ کے شروع میں ڈاکٹر راؤلٹ نے ایک تحقیق پیش کی جس میں انہوں نے چھتیس ایسے مریض کہ جو کرونا کے باعث شدید علیل تھے انکو کلوروکونین اور ایک دوسری دوا ایزتھرومائیسین کے مشترکہ استعمال کیساتھ استعمال کیا۔ اس دوا سے نوے فیصد مریض اس وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔ ان تجرباتی بنیادوں پہ پیش گئے نتائج کو فرانس کے وزیرِ صحت نے مکمل طور پہ رد کر دیا اور اس سے پہلے کلوروکونین جو کہ فارمیسی سے ڈاکٹر کے نسخے کے بنا بھی مل جاتی تھی اس کو مکمل طور پہ ممنوع کر دیا گیا۔ ڈاکٹر راولٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم ان نتائج کو اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ تاکہ موجودہ ایمرجنسی میں زیادہ سے زیادہ مریضوں کی جان بچائی جا سکے‘جبکہ وزیرِصحت کا کہنا تھا کہ ’میں کیسے صرف چھبیس لوگوں پہ کئے گئے ایک تجربے کی بنیاد پہ اس دوا کے استعمال کی اجازت دے سکتا ہوں‘۔

تاہم اسکے باجود فرانس کی ہیلتھ منسٹری نے اس دوا کے استعمال کو صرف بگڑتے ہوئے سیریس مریضوں کیلئے قانونی قرار دے دیا۔ اس پالیسی کے جواب میں ڈاکٹر راؤلٹ کا کہنا تھا: ’حکومت دراصل اس دوائی کا استعمال آخری سٹیج پہ آئے ہوئے مریضوں پہ کروا کے اس دوائی کے نتائج کو منفی طور پہ پیش کرنا چاہتی ہے حالانکہ اس دوائی کا استعمال اس وقت نتائج کے اعتبار سے زیادہ مثبت ہے کہ جب وائرس نے ابھی زیادہ زور نہ پکڑا ہو‘۔

اس تنازعے میں نیا رخ گذشتہ روز اس وقت آیا کہ جب وزیر موصوف نے پارلیمنٹ میں امریکہ کے ایک ہسپتال میں ہونے والی ایسی ہی ایک تحقیق کو بنیاد بنا کر یہ عذر پیش کیا کہ کلوروکونین کے نتائج حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ جس کے جواب میں ایک سینٹ کے رکن برونو ریتائیو (Bruno Retailleau) نے کہا:’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ڈاکٹر راؤلٹ کے کام کو نااہل قرار دینے کیلئے بھی کچھ تحقیقات کا سہارا لیا جا رہا ہے جبکہ مارسلیز میں مرنے والوں کی تعداد بقیہ فرانس سے تین گنا کم ہے‘۔

فرانس نے ایک ہزار سے زیادہ مریضوں پہ اس دو ا کے تجربات کا آغاز کیا ہوا ہے جس کے آنے تک بحث کا کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکتا لیکن اگر ڈاکٹر راؤلٹ ٹھیک کہتے ہیں تو پھر شاید اکیس ہزار فرانسیسی جو کہ اب تک کرونا کے ہاتھوں موت کی گھاٹ اتر چکے ہیں ان میں سے بہت سوں کو بچایا جا سکتا تھا۔

وبا کے دنوں میں پیدا ہونے والے اس سیاسی تنازعے کو کئی رنگ سے دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ اس کی وجہ پیرس میں موجود متعصبانہ رویے کو سمجھتے ہیں کہ جو پیرس کی انتظامی اشرافیہ بقیہ فرانس کے چھوٹے علاقوں یا ریجنز کے ساتھ رکھتی ہے۔ کچھ اس میں چھپے ہوئے مفادات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ حقیقت کیا اس پہ کئی آرا موجود ہیں تاہم کرونا کی وبا نے صرف پاکستان جیسی ’پچھڑی‘ ریاستوں کو نہیں بلکہ فرانس جیسی ’ترقی یافتہ‘ ریاست کو بھی سیاسی تنازعات کا شکار بنایا ہے اور اسکی قیمت شاید عام شہری ہی ادا کر رہے ہیں۔

Asad Ur Rehman

اسد الرحمٰن پیرس کے اسکول فار ہائر ایجوکیشن اینڈ سوشل سائنسز (ایف ایچ ای ایس ایس) میں سیاسی عمرانیات کے شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔