دنیا

سعودی عرب دیوالیہ ہو سکتا ہے: 233 ارب ڈالر نقصان کے بعد تیل اور کرونا بحران

ڈیوڈ ہرسٹ

ترجمہ: محمد علی

بشکریہ: مڈل ایسٹ آئی

سعودی شہزادہ محمد بن سلمان اب اپنی جوانی اور تجربے کی کمی کا بہانہ نہیں بناسکتا، اس کا وقت اب گزر چکا ہے۔ جو دکھتا ہے وہی بکتا ہے والی کہاوت کو مدنظر رکھ کر اگر دیکھا جائے تو، یکے بعد دیگرے غلطیاں اور جنگیں جوکہ محمد بن سلمان بطور شہزادہ کر چکا ہے، بحیثیت بادشاہ بھی ان کے ساتھ منسوب رہیں گی۔

شہزادے کی وسیع النظر اسٹیٹ کرافٹ کا اندازہ اس کی اس فون کال سے لگایا جااسکتا ہے جو اس نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو پچھلے مہینے ہونے والی اوپیک (OPEC) سے پہلے کی۔ اس کال کے بعد سعودیہ عرب اور روس کے درمیان تیل کی قیمتوں کی ایک جنگ چھڑ گئی۔

ایک بہت بڑی غلطی

محمد بن سلمان خودہی دیکھ سکتا ہے کہ یہ کال کتنی بڑی غلطی تھی۔ تیل کی قیمت شدت سے گر چکی ہے، ذخیرہ کیا ہوا تیل جلد ختم ہوجائے گا اور تیل کی کمپنیوں کوتیل کے کنویں بند بھی کرنا پڑسکتے ہیں۔ تیل اور گیس کا سیکٹر سعودی جی ڈی پی کا پچاس فیصد ہے اور 70 فیصد درآمدات بھی اسی سیکٹر کی مرہون منت ہیں۔ یہ سب دھول میں مل گیا ہے۔

جو کوئی بھی صدر پیوٹن سے مل چکا ہے وہ آپ کو یہی بتائے گا کہ آپ روسی صدر سے جتنی شدت کے ساتھ چاہیں سودے بازی کرسکتے ہیں۔ آپ شام اور لیبیا میں ہونے والی دو علاقائی جنگوں میں روس کے مخالف گروہ کا ساتھ دے سکتے ہیں، جیسے کہ ترکی کے صدر طیب اردگان دے رہے ہیں، آپ پھر بھی صدر پیوٹن کے ساتھ ایک پیشہ ورانہ رشتہ قائم رکھ سکتے ہیں۔

لیکن آپ کو صدر پیوٹن پر ہرگز رعب جھاڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ سعودی بادشاہ نے اپنی بادشاہت کے زعم میں یہی غلطی کرڈالی جب وہ پیوٹن پر چیخے اور اسے انتباہ کیا۔ پیوٹن نے بھی جواباً سلمان کوچیخ چیخ کر جواب دیا۔ پیوٹن جانتے تھے کہ ان کی روسی ادائیگیوں کا توازن اور معیشت سعودی معیشت سے بہت بہتر ہے، انہوں نے سلمان کو چاروں شانے چت کرڈالا ہے۔

سلمان کو شدت کے ساتھ اندازہ ہورہا ہے کہ اس کے پتے کتنے کمزور ہیں۔ اگر غیر جانبدار ہوکر دیکھا جائے، تو سلمان نے روسی صدر کو کال کرنے سے پہلے ایک ایسے شخص سے مشورہ لیا تھا جو اس کی طرح مغرور اور فارغ العقل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا داماد اور مشرق وسطیٰ کا مشیر جیرڈ کشنر ( Kushner Jared)، جیرڈ نے جب سنا کہ سلمان کیا کرنے جارہا ہے تواس نے نہ سلمان کو روکا اور نہ ہی اس عمل کے حوالے سے اعتراض کیا۔

اسی لئے جب تیل کی قیمتیں گریں تو ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے سمجھا کہ تیل کی قیمت کم ہونے سے امریکہ میں صارفین کی قوت خرید بڑھے گی لیکن بعد میں جب ٹرمپ نے دیکھا کہ اس کی اپنی تیل کی صنعت پر اس گرتی ہوئی قیمتوں کے کیا اثرات پڑرہے ہیں تب اس نے ہوش سنبھالا۔

تیل سے محروم سعودیہ عرب

خام تیل کی قیمت 20 ڈالر سے بھی گر چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو اب پتہ چلے گا کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا جب دنیا کو اس کے تیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس سے پہلے، جب کبھی بھی اس مفروضے کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا تو اس کا جواب صرف آنکھیں دکھا کر دیا جاتا تھا۔ لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہے۔ اب عین ممکن ہے سعودیہ عرب ایک قرض خور ریاست بن جائے۔

سعودیہ کا معاشی زوال ایک عرصے سے پنپ رہا تھا۔ جب شہزادے کے باپ سلمان نے 23 جنوری 2015ء کوتخت سنبھالا، اس وقت زر مبادلہ کی مالیت کل ملا کر 732 بلین ڈالر تھی۔ پچھلے سال دسمبر تک یہ 499 بلین ڈالر تک رہ گئی تھی، سعودیہ عریبین مانیٹری اتھارٹی کے مطابق سعودی عرب چار سالوں میں 233 بلین ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے۔

مزید یہ کہ ورلڈ بینک کے مطابق، سعودیہ کا فی کس جی ڈی پی 2012ء میں 24,243 ڈالر تھا جو 2018ء میں 23,338 ڈالر تک پہنچ گیا۔ گھونسلے میں انڈے تیزی کے ساتھ کم ہونے لگ گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے حساب سے سعودی قرضہ جات کی شرح جی ڈی پی کا 19 فیصد ہوجائیگی۔ یہ شرح اگلے سال 27 فیصد تک پہنچ جائے گی جبکہ کرونا وائرس اور تیل کا بحران قرضے کی مقدار کو 2022ء تک پچاس فیصد تک لے جائیں گے۔

یمن کی جنگ اور مصر میں ہونے والی بغاوت اور ساری عرب دنیا میں مداخلت، جنگی ساز و سامان کا وافر مقدار میں امریکہ سے خریدنا، زیبائیش کے لیے بنائے گئے پراجیکٹس جیسا کہ نیوم میں ایک جدید شہر، سلمان کی ذاتی تین کشتیاں، پینٹنگز اور محلات، یہ سب سعودی خزانے کو نچوڑیں گے۔

سعودی معیشت کرونا بحران سے پہلے ہی مشکلات کا شکار تھی۔ معیشت میں اضافے کی شرح 0.3 فیصد پر پہنچ گئی تھی اور تعمیرات میں 2017ء کے بعد سے 25 فیصد گراوٹ دیکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جب کرونا وبا کی وجہ سے عمرہ اور حج پر پابندی عائد کردی گئی، تو سالانہ ایک کروڑ حجاج کی وجہ سے ملنے والی 8 ارب ڈالر کی آ مدنی بھی رک گئی۔ مسئلہ صرف سلمان کی طرف سے کیے جانے والے اخراجات کا ہی نہیں تھا۔ اس کا تعلق اس چیز سے بھی تھا کہ سلمان نے جہاں بھی پیسے لگائے وہ چیز برباد ہوگئی۔

خراب سرمایہ کاری

بری سرمایہ کاری کی ایک مثال خودمختار فنڈز کی مالیت میں کمی آنابھی ہے۔ بڑا بھائی سعودیہ عرب اب اپنے آپ کو ارد گرد کی چھوٹی خلیجی ریاستوں کے سامنے خودکواس معاملے میں چھوٹا محسوس کرتا ہے۔

پبلک انوسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) جو کہ خودمختار فنڈز کا سب سے بڑا فنڈ ہے، یہ اس وقت دنیا بھر میں اپنی ساکھ میں گیارہویں نمبر پر ہے۔ یہ ابو ظہبی انوسٹمنٹ اتھارٹی، کویت انوسٹمنٹ اتھارٹی اور قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی سے پیچھے ہے۔ جب خودمختار فنڈز ریاستوں کے حساب سے ناپے جاتے ہیں تو متحدہ عرب امارات 1.213 ٹریلین ڈالر کے فنڈز کے ساتھ پہلے نمبر پر آتا ہے، کویت 522 بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر، قطر 328 بلین ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر اور سعودیہ 320 بلین ڈالر کے ساتھ چوتھے نمبر پر۔

کرونا وبا کے پھیلنے سے پہلے ہی آئی ایم ایف نے پلان بنائے تھے کہ اگر سعودیہ تیل کی کمائی پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے تو پی آئی ایف کو ٹریلین ڈالرتک لے جانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ آئی ایم ایف نے اس وقت لکھا تھا: ”اگر سعودیہ عرب اپنا پی آئی ایف موجودہ 300 بلین ڈالر سے بڑھا کر اس سطح تک لے جاتا ہے، پھر بھی فنانشل رٹرن خود سے اتنے نہیں ہوں گے کہ وہ تیل کے انحصار سے چھٹکارا پاسکے۔ موجودہ صورتحال میں تیل کی ایک کروڑ بیرل روزانہ کی پیداوار، 65 ڈالر ایک بیرل کی قیمت پر، ہر سعودی کے لیے 11,000 ڈالر میں تبدیل ہوپائے گی“۔

گراوٹ کا تخمینہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کی جانے والی انوسٹمنٹ کے ساتھ کیا ہوا۔ ماسایوشی سون (Masayoshi Son) جو کہ جاپان کے سافٹ بینک کے سی ای او ہیں کے مطابق انہیں اپنے 100 بلین ڈالر کے وژن فنڈ کے لیے 45 بلین ڈالر سلمان نے صرف پینتالیس منٹوں کی میٹنگ کے بعد دے دیے۔ ”یہ ایک بلین ڈالر پر منٹ“ کے حساب سے دیے جانے والا فنڈ ماسایوشی سون کے لیے حیران کن تھا۔ پچھلے ہفتے سافٹ بینک نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ وژن فنڈ 16.5 بلین ڈالر کا نقصان اٹھا سکتا ہے۔

پی آ ئی ایف نے2017ء میں ہر شیئر کے لیے تقریباً 49 ڈالر دے کر ’Uber Technologies INC‘ کے شیئرخریدے تھے۔ اُبر کے شیئر اس کے بعد سے بک چکے ہیں۔ اس نے ٹیسلا میں اپنے 2 بلین ڈالر کے حصص 2019ء کے اختتام میں فروخت کردیے۔ اس کے بعد ٹیسلا کے اسٹاک آسمان کو چھونے لگ گئے، ان میں 80 فیصد مزید اضافہ اس سال کے دوران ہوا۔ اس ریٹ کے مطابق پی آئی ایف کے نیو کیسل یونائٹڈ میں حصص، دیگر کے مقابلے میں سب سے زیادہ قابل اعتماد انوسٹمنٹ لگ رہی ہے۔

تیل کا بحران تب سامنے آیا ہے جب صرف دو ہفتے قبل پی آئی ایف نے مزید 1 بلین ڈالر کے یورپی تیل ساز کمپنیوں اور کارنیول کروز لائنر (Carnival Cruise Liner) میں انوسٹ کرڈالے۔ اس سب سے پی آئی ایف کی تیل کے علاوہ آمدن بڑھانے کی حکمت عمل پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ”مجھے سمجھ نہیں آتا کہ پی آئی ایف یہ سب کررہا ہے، خاص کر جب ان کے ملک کو ہر سکے کی ضرورت پڑے گی“ ایک بینکار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا۔

”یہ مجھے کافی حد تک قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی کے شروعات کے سال کی یاد دلاتا ہے۔ ایک حکمت عملی توہے لیکن وہ اس پر عمل نہیں کررہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی پہچان بنے لیکن وہ پیسے بھی بنانا چاہتے ہیں۔ وہ معیشت کو پھیلانا بھی چاہتے ہیں لیکن موقع پرست بھی بن جاتے ہیں“۔

کوئی مالی محرک نہیں

سعودیہ عرب آج وبا کے بحران کو کم کرنے کے لیے کسی قسم کا مالیاتی محرک نہیں دے سکتا، جیسا کہ اس کے خلیجی ہمسائے کررہے ہیں۔ یہ شاہی ملک اپنی ملکی معیشت کووبا سے بچانے کے لیے جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد لگا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں قطر 5.5فیصد، بحرین 3.9 فیصد اور متحدہ عرب امارات 1.8 فیصد لگارہے ہیں۔

ہمیں پیسے ختم ہونے کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ وبا کے لاک ڈاؤن کے دوران ریاست اجرتوں کا ساٹھ فیصد دے گی۔ لیکن سعودیہ کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی ایس ٹی سی کو اجرتوں کا صرف 10 فیصد مل رہا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس کی وجہ حکومت کی طرف سے ایس ٹی سی کو چھٹی پر بھیجے گئے ورکروں کی ادائیگیاں نہ ہونا ہے۔

سعودی وزارت صحت نے ہوٹلوں کو ہسپتالوں میں تبدیل کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔ بجائے ہوٹلوں کے مالکان کو اس کے عوض ادائیگیاں دینے کے وہ ان کو کمروں کو ڈس انفیکٹ کرنے کا معاوضہ دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یا پھر ان مصری ڈاکٹروں کی مثال لے لیجیے جو اپنی تنخواہوں میں کٹوتیوں کے باوجود سعودی پرائیویٹ ہیلتھ سیکٹر میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ جو لوگ سال بھر کی چھٹیوں پر ہیں انہیں تو تنخواہ ہی نہیں دی جارہی۔ جن لوگوں کو انفیکشن کو روکنے کے لیے گھر پر سے کام کرنے یا شفٹوں میں کام کرنے کوکہا جارہا ہے ان کو یا تو اپنی سالانہ چھٹیوں میں سے کام کرنے کا کہہ رہے ہیں یا پھر مفت میں کام لیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں جیسا کہ بلوم برگ نے کہا تھا، سعودیہ کا ایک قرضہ لینے والی مملکت میں تبدیل ہونا ایک حقیقت بن چکا ہے، اب سوال یہ ہے کہ ایسا کتنی جلدی ہوگا۔

آئی ایم ایف نے حساب لگایا کہ تیل کی قیمتیں تقریباً 50-55 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں گی۔ ایسی صورت میں، 2024ء تک سعودیہ کا زر مبادلہ صرف پانچ مہینے کی در آمدات کے قابل ہو گا۔ جب تیل صفر پر پہنچ جائے گا توادائیگیوں کے توازن کا بحران، جس کا کبھی سعودی عرب نے سوچا بھی نہ تھا، بھی آ سکتا ہے اور سعودی کرنسی کو امریکی ڈالر سے جوڑنے والا فیصلہ بھی واپس لینا پڑ سکتا ہے۔

علاقائی اثرات

محمد بن سلمان کے اپنے ملک کو جدید اور بہتر بنانے کے منصوبوں کے تمام ستون گر رہے ہیں۔ اس کا بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے آرامکو (Aramco) کے پانچ فیصد سٹاک فارن ایکسچینج کے ذریعے بیچنے کا منصوبہ اور اب پی آئی ایف جو کہ وہ بنیادی ذریعہ تھا جس کے تحت وہ سعودی معیشت کا تیل پر انحصار کو کم کرنا چاہتا تھا، اب مکمل انتشار کا شکار ہے۔

خطے میں کئی لوگ سلمان کی ناکامی پر خوش ہوں گے۔ اس نے کئی لوگوں کا بہت نقصان کیا ہے، خاص کر مصر میں۔ بعد از تیل کے دور میں، سلمان اپنی طاقت کھوبیٹھے گا، ایک تیل کے سیٹھ کی طاقت، جو کھربوں ڈالر ایک منٹ میں خرچ کرکے فکر بھی نہیں کرتا، ختم ہونے والی ہے۔ لیکن، سعودیہ کی معیشت کی تباہ کاری سے دور رس نقصانات ہوں گے۔ خطے بھر کی معیشت کا انحصار سعودی معیشت پر تھا، مصر، سوڈان، اردن، لبنان، شام او ر تیونس کے لاکھوں مزدور اور پروفیشنل سعودیہ جاکر کماتے تھے۔ ان ممالک کی معیشتوں کا انحصار سعودیہ سے بھیجے جانے والی رقم پر تھا۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس پر کسی کو بھی جشن نہیں منانا چاہیے۔  

David Hearst

ڈیوڈ ہرسٹ مڈل ایسٹ آئی کے ایڈیٹرہیں۔ ان کا صحافت میں 29 سالوں کا تجربہ ہے۔ اس سے پہلے وہ دی گارڈین اخبار کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔