پاکستان

چینی جیسے غیر منافع بخش کاروبار کے لئے 78 شوگر ملیں کیوں لگائی گئیں؟

طاہر کامران

ترجمہ: رانا مبشر

بشکریہ: دی نیوز آن سنڈے

سماجی ماہر ین کو پاکستان میں چینی کی صنعت کے لوگوں کے معاشی و معاشر تی حالات پر پڑنے والے اثرات کی جانچ پڑتال کرنا ہوگی۔ اب چونکہ چینی کی صنعت اتنی طاقتور ہو گئی ہے کہ اس نے تمام تر طاقت اور وسائل کی حامل ریاست کے لئے بحران پیدا کر دیا ہے تو ضروری ہے کہ 1980ء کی دہائی کے اوخر سے اس صنعت کے پھیلاؤ کا ایک غیر جذباتی تجز یہ کیا جائے۔

ایسا لگتا ہے کہ صنعت کاروں (ان میں سے کچھ کے سیاسی عزائم تھے) نے اچانک اس صنعت میں بھاری سرمایہ کاری شروع کی اور چینی بنانے والے کئی یونٹ لگائے۔ 1990ء کی دہائی کے آغاز میں تقریباً ملک کے ہر کونے میں شوگر ملیں لگائی جا چکی تھیں۔ آپ پاکستان کے کسی بھی سیاستدان کا نام لے لیں تو وہ چینی کی صنعت کا سرمایہ دار نکلے گا۔ اس دھندے میں پنجاب کا تقریباًہر سیاسی خاندان، لاہور کے شریفوں سے لے کر گجرات کے چودھریوں تک اور سرگودھا کے چیموں سے لے کر جہانگیر ترین تک شامل ہیں۔ یہاں ہمایوں اختر اور اس کے اہل خانہ کا نام مت بھولیں۔ انہوں نے زراعت پر مبنی صنعت میں سرمایہ کاری کی، جو بعد ازاں اتنے طاقتور ہو گئے کہ ریاست کی معاشی ترجیحات کے فیصلے کرنے لگے۔

شوگر انڈسٹری کے ذریعے ہی ایک نیا کاروباری طبقہ وجود میں آیا۔ اس طبقے نے کاروباری اخلاقیات کے نئے طریقے اپنائے۔ یہ لوگ ان کاروباری خاندانوں سے کافی مختلف پائے گئے جو کاروبار کے روایتی اصولوں کے مطابق چلتے ہیں۔

صوبہ سندھ میں بھی طاقت اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ بھی اس گھن چکر میں شامل ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ سندھ میں اس کاروبار پر آصف علی زرداری کی اجارہ داری ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے قریبی دوست اور کارندے گنے کی خریداری میں کسانوں کے ساتھ کسی بھی مرحلے پر اوچھے ہتھکنڈے آزمانے سے باز نہیں آتے۔ کاشتکاروں سے گنے کی خریداری سے لے کر پیداواری قیمت کو طے کرنے تک، زرداری کے ایجنٹوں کی آواز حتمی اور فیصلہ کن سمجھی جاتی ہے۔ جس بھی شخص نے زرداری سے کوئی فائدہ یا منافع حاصل کرنا چاہا زرداری نے اسے شوگر انڈسٹری میں سرمایہ کاری کرنے کا مشورہ دیا۔ اس سرمایہ کاری کیلئے بینک قرضوں کے ذریعہ رقم کا بندوبست کیا گیا۔ یہ بھاری قرض بینکوں کو کبھی واپس کیا گیا یا نہیں اس کا کچھ حساب نہیں۔

لیکن یہاں ہماری سب سے بڑی تشویش زرعی معیشت سے متعلق ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ ایک با ر جب گنے نے کپاس (پاکستان میں سب سے زیادہ منافع بخش فصل) کی جگہ حاصل کرلی تو اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ جب یہ تبدیلی رونما ہورہی تھی تو کوئی فزیبلٹی اسٹڈی کی گئی تھی یا نہیں۔ کیا مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی کی گئی تھی؟ اگر کوئی ماہر معاشیات ان سوالات پر اپنی قیمتی رائے دے سکے تو اچھا ہوگا۔

وسطی اور جنوب مشرقی پنجاب میں کپاس کی کاشت مفقود ہو چکی ہے۔ ایک زمیندار قبیلے کے فرد کی حیثیت سے میری سمجھ بوجھ کے مطابق کپاس کی فصل قومی معیشت کیلئے کہیں زیادہ منافع بخش تھی اور کاشتکار بھی خوشحال تھے۔ اس نے ٹیکسٹائل کی صنعت کو پالا، جسے پاکستان کی غیر ملکی زرمبادلہ آمدن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل تھی۔

کپاس کی ٹیکسٹائل اور اس کے ذیلی سازوسامان والی چیزیں پاکستان کی بڑی برآمدات تھیں لیکن اب اس میدان میں پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش اور ملائشیا نے لے لی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ممالک کپاس اگاتے ہی نہیں۔ وہ صرف اسے درآمد کرتے ہیں اور اس کے باوجود ان کی کپاس کی برآمدات پاکستان سے کہیں زیادہ ہیں۔

کپاس کی ٹیکسٹائل کی صنعت میں تجارتی منافع میں اضافے کی زیادہ گنجائش ہے۔ خام روئی، صاف کی ہوئی کپاس، سوت، کپڑا (جس کی متعدد قسمیں ہوسکتی ہیں) زیادہ ملازمت پیدا کرنے اور زیادہ سے زیادہ مالی منافع کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ جب صنعتی دور زراعت کی جگہ لے رہا تھا تو کپاس تبدیلی کے متعدد محرکاتی قوتوں میں سے ایک تھی جس کے تحت صنعت نے دولت کی تخلیق کی۔ صنعتی انقلاب کا مطالعہ کرنے والے اس حقیقت سے واقف ہیں۔

گنے کو اہم فصل کی حیثیت دیتے ہی صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ہے۔ گنا نہ صرف ایک زیادہ محنت مزدوری کرنے والی فصل ہے بلکہ یہ کاشتکارکی جیب پر بھی بھاری ہے۔ حکومت گنے کے مینوفیکچررز کو اپنی پیداوار برآمد کرنے کے قابل بنانے کے لئے بھاری مقدار میں سبسڈی کی ادائیگی کر رہی ہے۔ نیز گنے کی فصل کے لئے آبپاشی کے پانی کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ پاکستان کی چینی پر مینوفیکچرنگ لاگت بین الاقوامی منڈی میں اس کی لاگت سے زیادہ ہے۔ پھر بھی ہم نے ایک غیر منافع بخش جنس کی تیاری کے لئے 78 شوگر ملیں قائم کیں۔

کپاس پرگنے کو ترجیح دیتے ہوئے رسد اور طلب یا مارکیٹ کے رجحانات کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا۔ یہ ایک ستم ظریفی ہے۔ کاشتکاروں کے بارے میں شوگر مل مالکان کے ظالمانہ رویے کو اجاگر کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ شوگرمل مالکان کی جانب سے کسانوں کو ادائیگی پوری نہیں کی جاتی اور اگر کی بھی جائے تو بہت تاخیر سے کی جاتی ہے۔ جھنگ چنیوٹ کے علاقے میں رمضان شوگر مل کاشتکاروں کے ساتھ اس طرح کے سلوک کی وجہ سے سرعام بدنام ہے۔ میں اپنے قارئین کو ماضی کا مختصر پس منظر بتانا چاہتا ہوں۔

جب 1859ء میں انگریزوں نے پنجاب میں کچھ علاقوں کو بذریعہ نہر کاشتکاری کے قابل بنانے کا سوچا تو اس اقدام کی بنیادی وجہ ٹیکس وصولی میں اضافہ تھا۔ اسی سال انہوں نے ریلوے کا جال بچھانا شروع کردیا۔ 1861ء تک، صورت حال خراب ہو چکی تھی کیونکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے انگلینڈ کو کپاس کی فراہمی بند کردی تھی۔ انگریزوں کو اس لئے اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی فکر لاحق تھی۔

ان ہنگامی حالات کے پیشِ نظر انہوں نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ بڑے منصوبوں پر مسلسل محنت کی۔ مسلسل پیشرفت کو یقینی بنایاگیا اور بہت بڑے غیر آباد رقبے کو قابلِ کاشت بنایا گیا۔ جنوبی پنجاب اور سندھ کے کچھ حصے بھی کپاس کی کاشت کے لئے موزوں پائے گئے۔ نتیجتاً امریکی کپاس کا متبادل مل گیا۔

نوآبادیاتی پنجاب میں کسانوں کو قائل کیا گیا کہ وہ کپاس اور گندم کی تیاری میں اپنی ساری توانائیاں لگا د یں۔ نئی صدی کی آمد سے قبل پنجاب کپاس کی کاشت میں ایک اہم پیداواری صلاحیت حاصل کر چکا تھا۔ جہاں تک اس کی گندم کی پیداوار کا تعلق ہے تو اس صوبے سے پورے برصغیر کو گندم ملنے لگی۔ کپاس ہمیشہ سے کسان طبقے کی معاشی مجبوریوں کو دور کرنے کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔ بلاشبہ ان دو فصلوں نے کسانوں کے لئے نسبتاً زیادہ خوشحالی کے دروازے کھولے ہیں۔ گنے کی کاشت بھی کی جاتی لیکن بڑے پیمانے پر نہیں۔ جب سے ٹاپ ڈاؤن پالیسی فریم ورک نافذ کرنے کے نتیجے میں گنے کی کاشت کا آغاز ہوا ہے تب سے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔ تاجروں کے مفادات، جو سیاسی کھلاڑی بھی ہیں، کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ا ن کا بنیادی مقصد اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ جہاں تک قومی مفاد کا تعلق ہے تو اس کی نہ تو کبھی کسی کو پرواہ رہی اور نہ اب ہے۔

Tahir Kamran

طاہر کامران بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، لاہور میں لبرل آرٹس کی فیکلٹی میں پروفیسر ہیں۔ تاریخ پر نصف درجن کتابوں کے علاوہ وہ کئی تحقیقی مقالات شائع کر چکے ہیں۔