طنز و مزاح

پاکستانی یونیورسٹیاں ہمیشہ کے لئے بند کر دی جائیں

فاروق سلہریا

پاکستانی یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور پڑھانے کے بعد اور پاکستان کے معاشی، سیاسی، سماجی، مذہبی، دفاعی، عسکری، ثقافتی، جغرافیائی، علاقائی، تاریخی،ادبی، جمہوری، زرعی اور ماحولیاتی پس منظر کا طائرانہ جائزہ لینے کے بعد میں اس حتمی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کے تمام ادارے بند کر دئے جائیں تو نہ صرف یہ کہ ہم پاکستانیوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ اس دانش مندانہ فیصلے سے پاکستان کا مستقبل مزید تباہ ہونے سے بچ جائے گا۔

علاوہ ازیں، ہائر ایجوکیشن کی مد میں ضائع ہونے والے اربوں روپے سے ہم نہ صرف اپنا دفاع مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ مدارس میں اصلاحات بھی جاری رکھ سکیں گے۔ کرونا نے جس طرح مدرسوں کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، اس کے پیش نظر یہ اقدام اور بھی ضروری ہے۔

ویسے بھی کرونا وبا کے بعد سب سے پہلا سبق تو ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ ہمیں میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ضرورت تو سرے سے تھی ہی نہیں۔ مولوی حضرات کے ہوتے ہوئے ڈاکٹروں کی اول تو کوئی ضرورت نہیں، دوسرا ان ڈاکٹروں کی سنتا کوئی نہیں۔ پھرجب عجوہ کھجور میں قدرت نے ہرمرض کی شفا رکھ دی ہے تو میڈیکل کالجوں پر ٹیکس دہندگان کے پیسے ضائع کروانا میری سمجھ سے بالا تر ہے۔ اگر خدانخواستہ عجوہ کھجور بھی کام نہ آئے تو پیر و مرشد شاہ محمود قریشی کی مقدس پھونک کس دن کام آئے گی۔ گولڑہ شریف والے بھی کرامات پر عبور رکھتے ہیں۔

اسی طرح مفتی منیب اور مفتی پوپلزئی کے ہوتے ہوئے ائرو سپیس کے ڈیپارٹمنٹ چلانا فضول خرچی کے سوا کچھ نہیں۔

جہاں تک تعلق ہے جرنلزم اسکولوں کا تو پاکستان میں صحافت کا جو معیار پچھلے تیس سال سے رہ گیا ہے اس کے پیشِ نظر جرنلزم کے اسکول اور ڈیپارٹمنٹس بند کرنے کی بجائے ان پر پابندی لگانے کی ضرورت تھی۔ مزید براں وزارتِ اطلاعات میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں اوردفاعی تجزیہ نگاروں کے ہوتے ہوئے بہتر صحافت کے لئے ہمیں جرنلزم اسکولوں کی بجائے پی ایم اے کاکول پر وہ توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کا وہ مستحق ہے۔

جو ملک ستر سال سے دیوالیہ پن کا شکار ہو اسے اکنامکس کے ڈیپارٹمنٹ تو کھولنے ہی نہیں چاہئے تھے۔ ویسے بھی جب ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف اتنے پڑھے لکھے ماہرین ِمعاشیات ہر طرح کے ٹیکس لگانے اور مہنگائی کرنے کے لئے ہمارے ہاں بھیج دیتے ہیں تو اکنامکس کے شعبہ جات بند کرنے میں ہرگز کوئی حرج نہیں ہو گا۔

رہیں سوشل سائنسز تو ان کا حال دیکھ کر انہیں بند کرنے کی بجائے ان پر ترس کھانے کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

معزز قارئین! مجھے معلوم ہے آپ کیا سوچ رہے ہیں۔ مجھے بھی احساس ہے کہ یونیورسٹیاں بند ہونے سے دوسو سے زائد ریٹائرڈ جرنیل بے روزگار ہو جائیں گے لیکن جس تیزی سے ملک ریاض بحریہ کو ترقی دے رہے ہیں ہمیں امید ہے ملازمت کے مزید مواقع پیدا ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔