دنیا

فوجی اخراجات کرنے ہیں، صحت پر خرچ نہیں کرنا!

 فاروق طارق

حکومتیں فوجی اخراجات کرتی رہیں۔ صحت پر خرچ کرنا بھول گئیں، جس کی وجہ سے اب تک دنیا میں 2 لاکھ 10 ہزار افراد کرونا کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق امریکہ نے 2019ء میں فوجی اخراجات پر 732 ارب ڈالر خرچ کئے، اس وقت دنیا میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی امریکہ میں ہے جہاں 27 اپریل تک 56,000 افراد کرونا سے ہلاک ہو چکے تھے اور اس مرض کے شکار افراد کی تعداد 9 لاکھ 80 ہزار ہو چکی تھی۔

دوسرے نمبر پر زیادہ فوجی اخراجات، 261 ارب ڈالر، چین نے کئے جہاں کل تک کرونا سے ہونے والی ہلاکتیں 4,633 ہو چکی تھیں اور کرونا کا آغاز بھی چین سے ہوا تھا۔

تیسرے نمبر پر، 71 ارب ڈالر کے اخراجات کے ساتھ، بھارت ہے جہاں کرونا کی وجہ سے پورا ملک بند ہے اور اس کے شکار افراد کی تعداد 29,451 ہو چکی ہے۔

بھارت کے بعد روس 65 ارب ڈالر، سعودی عرب 61.9 ارب، فرانس 50.1 ارب، جرمنی 49.3 ارب، برطانیہ 48.7 ارب، جاپان 47.6 ارب، ساؤتھ کوریا 43.9 ارب، برازیل 26.9 ارب، اٹلی 26.8 ارب، آسٹریلیا 25.9 ارب، کینیڈا2.2 2 ارب اور اسرائیل 20.5 ارب ڈالر۔ یہ ان پندرہ ممالک میں شمار ہوتے ہیں جہاں فوجی اخراجات سب سے زیادہ ہیں۔ لگ بھگ ان تمام ممالک میں کرونا نے تباہیاں پھیلائی ہوئی ہیں۔

’SIPRI‘ کے مطابق پاکستان کے فوجی اخراجات میں پچھلے دس سالوں میں 70 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ پوری دنیا میں فوجی اخراجات 1.9 کھرب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ یوں 2018ء میں پچھلے سال کی نسبت 3.6 فی صد اضافہ ہے۔

پچھلے پورے عرصے میں فوجی اخراجات زیادہ کرنے کی دوڑ لگی ہوئی تھی، ہر سال اس میں اضافہ ہو رہاتھا۔ یہ صحت کو مکمل طور نظر انداز کئے ہوئے تھے۔ اگر صحت کی ریسرچ پر انہوں نے چند سو ارب ڈالر ہی مختص کئے ہوتے تو کرونا کی ویکسین دریافت کی جا چکی ہوتی۔ اب یہ افراتفری میں کرونا کی ویکسین ڈھونڈنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ کسی بیماری کی ویکسین کو پورے اعتماد کے ساتھ عوام میں علاج کے لئے استعمال کرنے سے قبل جو ٹیسٹ سالوں کے عرصے پر محیط ہوتے تھے وہ اب مہینوں میں کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر صحت سے پیسوں کی حوس کو نکال دیا جائے تو تمام بیماریوں کا علاج چند مہینوں میں ڈھونڈھا جا سکتا ہے۔

حالت یہ ہے کہ دنیا میں تباہی پھیلانے کے جدید ترین ہتھیار تیار کرنے والوں اور میزائل سینکڑوں میل دور ٹارگٹ کو ٹھیک نشانہ بنانے والوں کے پاس موجودہ بیماری سے بچنے کے لئے ماسک تک موجود نہ تھے۔ پچھلے تین ماہ میں دس ہزار سے زیادہ نئی فیکٹریاں اب دن رات ماسک بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ امریکہ کی جو فیکٹریاں طیارے بناتی تھیں اب ایمرجنسی میں وینٹی لیٹرز بنانے میں مصروف ہیں۔

مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ سرمایہ داری نظام میں حکومتیں عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی بجائے ہتھیاروں اور دیگر جان لیوا اقدامات پر تو اربوں ڈالر خرچ کرنے کو تلی ہوتی ہیں مگر صحت کے میدان میں بالکل فارغ ہیں۔ جدید ترین ممالک میں ماسک اور سینیٹائزرز بھی نہیں مل رہے۔ یہ سوچتے ہی کچھ اور تھے۔ کرونا نے ان کے ہاتھ پاؤں پھولا دئیے ہیں۔ اب سب کچھ جلدی جلدی میں کرنے کو بھاگ رہے ہیں۔ دنیا بند ہو چکی ہے۔ کروڑوں افراد مزید ان حکمرانوں کی صحت پر خرچ کرنے میں غفلت کی وجہ سے بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں عمران خان حکومت نے ابتدا سے ہسپتالوں کی نجکاری کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ صحت پر جو خرچ کیا ہوا تھا اسکو بھی ریاست کے کنٹرول سے باہر اپنے پیاروں کے حوالے کرنے کے لئے ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس سے لڑائی پر لڑائی کر رہے تھے، انہیں مار پیٹ رہے تھے، گرفتار کر رہے تھے اور ابھی تک کر رہے ہیں اور پوری جستجو میں ہیں کہ ہسپتال ان کے حامیوں کے نجی کنٹرول میں آ جائیں۔

اس سال مارچ کے آغاز تک پنجاب اسمبلی بل منظور کر رہی تھی کہ پنجاب کے ہسپتال سرمایہ داروں کے حوالے ہو جائیں۔ یہی صورتحال اس سے پہلے کی حکومتوں کی بھی تھی۔ صحت پر خرچ نہیں کرنا فوجی اخراجات پر کرنا ہے۔ اس ترجیح نے آج عوام کو مرنے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فوجی اخراجات کو کم از کم دس فیصد کم کیا جائے اور صحت پر خرچ ہونے والے اخراجات کو دس فیصد تک بڑھا دیا جائے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔