پاکستان

خبر کا قتل

حارث قدیر

پاکستان کی قومی اسمبلی کے دو ارکان ایک نعش دارالحکومت سے اٹھا کر وزیرستان تک لے گئے، ہزاروں افراد تدفین کے عمل میں شریک رہے، نوجوان رہنما کو دن دیہاڑے گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، مذکورہ رہنما ایک ہی خاندان کا اٹھارواں ایسا فرد تھا جو دہشتگردی کے خلاف سیاسی جنگ لڑتے ہوئے قتل ہوا۔

گویا ایک خبر میں درجن بھر ایسی وجوہات تھیں کہ وہ پرائم ٹائم کا اکثریتی حصہ حاصل کر سکتی تھی، دنیا کے معروف نشریاتی اداروں نے مذکورہ خبر کو مناسب جگہ دی لیکن جس ملک میں یہ خبر ہزار پہلو اپنے دامن میں لئے رونما ہوئی وہاں بے دردی سے اسے قتل کیا گیا۔

یہ صرف ایک مثال ہے، ایسی ہزاروں خبروں کا روزانہ گلا گھونٹ دیا جاتا ہے، گلا گھونٹنے والوں کا نام اور مقصد تک ظاہر کرنے پر بھی سخت پہرہ ہے۔

آج وہی سب لوگ پاکستان میں صحافت کے عالمی دن پر سعودی عرب، ایران اور ترکی جیسی مثالیں لئے یہ دعوی بھی کرتے نظر آئیں گے کہ پاکستان میں صحافت جتنی آزاد ہے اتنی دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ ان کا یہ دعوی درست بھی ہے کیونکہ حکمرانوں کی صحافت واقعی آزاد ہی نہیں بے لگام بھی ہے، البتہ عام عوام کی صحافت قتل ہو چکی ہے۔

ٹی وی چینلز اور دیگر صحافتی ادارے سرمایہ داری کے جن اصولوں کے تحت چلائے جاتے ہیں، ان اصولوں پر بھی اب کام کرنا محال ہو چکا ہے۔ ایسے اداروں کو اشتہار دینے والے کارپوریٹ سیکٹر کو دھمکایا جاتا ہے، ان کی سرکولیشن کو متاثر کیا جاتا ہے، کیبل نیٹ ورکس پر چینلز کے نمبر تبدیل کئے جاتے ہیں، معروف اینکرز کو اداروں سے فارغ کئے جانے پر مجبور کیا جاتا ہے، نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہر ادارے کے ادارتی سیکشن کو خبر اور معلومات کو سامنے رکھتے ہوئے خود ہی تہیہ کرنا پڑتا ہے کہ اسے کیسے ناظرین تک پہنچایا جائے کہ مانیٹرنگ کرنے والوں کو اعتراض نہ ہو سکے۔

لیکن اس سب کیفیت میں کچھ ایسے میڈیا ہاؤسز کو بھی مارکیٹ میں لایا گیا ہے جو ان کی اپنی سرمایہ داری کے اصولوں کے بغیر چل رہے ہیں۔ کوئی اشتہار نہیں، کوئی ظاہر کردہ آمدن کا ذریعہ نہیں لیکن کروڑوں روپے انعامات کی شکل میں تقسیم کر کے ایسے چینلز کو مقبول کرنے کی کوشش جاری ہے۔ حالانکہ سرکاری ٹی وی کو چلانے کیلئے سرکاری خزانہ اور نجی اشتہارات کم پڑنے کی صورت میں ایک سو روپے کابجلی بل میں ٹیکس لگانا پڑا ہے۔

یہی وہ خفیہ سرمائے کے ذرائع ہیں جو ان پروپیگنڈہ چینلز کو مدر پدر آزاد اور پاکستان میں صحافت کو پوری دنیا سے زیادہ آزاد ثابت کر رہے ہیں۔

بحران زدہ سرمایہ داری کو پاکستان جیسے پسماندہ معاشروں پر مسلط رکھنے کا اب یہی واحد طریقہ باقی رہ گیا ہے، لیکن اس گھٹن، دباؤ، ظلم، جبر اور استحصال کی بھی ایک حد ہے جب وہ حد سے تجاوز کرے گا تو بغاوت کا سامنا کرے گا، جس بغاوت کے خوف سے یہ پیشگی اقدامات کئے جا رہے ہیں اسکا ایک جھٹکا بھی یہ لولی لنگڑی ریاست برداشت نہ کر پائے گی۔

یہیں سے اٹھے گا شور محشر، یہیں پہ روز حساب ہوگا

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔