سوچ بچار

یومِ مزدور: مزدوروں کے حقوق کے حصول کا دن

ملیکہ کاکڑ

بنیادی انسانی حقوق سے محروم طبقے کے حقوق سے آگاہی کا دن یومِ مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس سماج میں محنت سے جڑے طبقے کا استحصال کوئی نئی بات نہیں۔ قدیم اشتراکی سماج کے بعد سے ان کے حقوق کی پامالی آقا و غلام اور جاگیردار اور مزارعہ سے سفر کرتی ہوئی سرمایہ دار اور مزدور پر منتج ہوئی ہے۔

صنعتی انقلاب آیا تو سرمایہ داری کے فروغ کے ساتھ ہی تیسرے طبقے کا بدترین استحصال شروع ہوا، تب سے لے کر دورموجودہ تک تیسرے درجے کا طبقہ یعنی مزدور طبقہ اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے۔ جس کی واضح تاریخ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جب سن 1886ء میں محنت کش طبقہ امریکی ریاست شکاگو میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتا۔

نظر دوڑائیں تو یہ اونچی اونچی عماراتیں، دفاتر، بنگلے اور یہ سایہ دار چھت جس کے نیچے ہم آرام سے بیٹھے ہیں یہ سب مزدور کے خون پسینے کی ہی صورت ہے۔ دیہاڑی پر کام کرنے والا مزدور ہو، کھانا پکانے والا خانساماں ہو، کپڑے دھونے یا پونچہ لگانے والی ماسی ہو یا فیکٹری اور کانوں میں کام کرنے والے مزدور۔ یہ سب پہلے ہی سے ریاست کے ہاتھوں اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ اوپر سے ان کے مالکان کی بے حسی کہ کم سے کم اجرت میں زیادہ سے زیادہ کام لیا جائے اور جتنا ممکن ہو ان کا خون نچوڑا جائے۔

جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر سرمایہ داروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا یہ محنت کش طبقہ خود ہی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے، چھت سے محروم ہے، دو وقت پیٹ بھر کر کھانے سے محروم ہے، تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم ہے۔ یہی مزدور یکم مئی کو بھی کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ رہی سہی کسر کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن نے پوری کردی ہے۔ جو گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو کے مترادف ہے۔ لاک ڈاؤن نے پہلے سے استحصال زدہ طبقے کو مزید تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ غربت، بے روزگاری، مالی حالات سے تنگ آکر خودکشی کے واقعات کو مزید ہوا ملی ہے۔

27 اپریل کو اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ مظفر گڑھ کے ایک غریب باپ نے لاک ڈاؤن اور مزدوری نہ ہونے کے باعث بچوں کو پانی سے روزہ کھولتا دیکھ کر برداشت نہ ہوا اور خود کشی کر لی۔ انہی دنوں ایک اور خبر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی کہ لاک ڈاؤن کے باعث رحیم یارخان کے رہائشی بیروزگاری اور بھوک سے روتے ہوئے بچے کا رونا برداشت نہیں کر سکا اور بچے کو دیوار سے لٹکا کر مار ڈالا۔ اب کے موجودہ حالات اس قسم کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافے کو دعوت دے رہے ہیں۔

کرونا وائرس نے قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ معیشت پر بہت برے اثرات مرتب کر دیے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ سب سے بڑا عالمی بحران ہے جس میں دنیا بھر میں کروڑوں افراد اپنے روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں اور سب سے زیادہ اس کی زد میں دیہاڑی دار مزدور اور محنت کش طبقہ آئے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے ریاستیں آنے والے دنوں میں مضبوط منصوبہ بندی کرتی ہے یا ماضی کی طرح جبر و ظلم اور ناانصافی کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے مزدور طبقے کو مزید پسماندگی کی گہرائیوں میں دھکیلتے ہوئے سرمایہ دار طبقے کی ذاتی ملکیت اور منافعوں کا تحفظ کرتی ہیں۔

ہمیں مزدوروں کا عالمی دن محض مزدوروں کے حقوق سے آگاہی کے طور پر نہیں بلکہ ان حقوق کے حصول کے طور منانا چاہئے۔ استحصال و ناانصافی کی ریاست اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے اور مزدروں کے حقوق کی جنگ تب تک جاری رہے گی جب تک ظلم، جبر اور معاشی غلامی سے پاک سماج وجود میں نہیں آتا۔