سوچ بچار

کیا انسان فطرتاً لالچی ہے؟

لال خان

سرمایہ داری کے عذر خواہ اکثر یہ توجیح پیش کرتے ہیں کہ ’’ترقی‘‘ کے لیے پیسے کا لالچ اور مقابلہ بازی ضروری ہیں۔ اس فلسفے کے مطابق اساتذہ کی تدریس، لکھاریوں کی تحریر، صحافیوں کی رپورٹنگ، ڈاکٹروں کی مسیحائی، انجینئرز کی تعمیرات، کسانوں کی محنت اور مزدوروں کی مشقت کا واحد مقصد صرف پیسہ ہے۔

انسان کی قوتِ محرکہ کیا ہے؟ اس کے متعلق سرمایہ داری کی سمجھ بوجھ نہ صرف انتہائی تنگ نظر بلکہ انسان دشمن ہے۔ سرمایہ داری کے علمبردار قوت محرکہ کو محض پیسے کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ جبکہ انسان بہت سے کام صرف اپنے شوق اور لگن کے تحت کرتے ہیں۔ درحقیقت ایسے تمام کام جو ہمیں حیوان سے انسان بناتے ہیں، ہماری حس جمالیات کو جلا بخشتے ہیں، ہماری زندگی کو مقصد فراہم کرتے ہیں اور انسانوں کے مابین بے لوث تعلقات پیدا کرتے ہیں، وہ زر کی زہریلی ملاوٹ سے پاک ہوتے ہیں۔

کیا یہ نظام انسانوں کو مشقت پر مجبور کرنے اور سرمائے کا غلام بنانے کے لیے لالچ اور ہوس کی نفسیات کو مصنوعی طور پر مسلط نہیں کرتا؟ اگر انسان کے ’’فطری طور پر لالچی‘‘ ہونے کا خیال درست ہے تو پھر حادثے میں زخمی ہونے والوں کو بچانے، اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کو جلتی آگ سے نکالنے، بزرگوں کی مدد اور بچوں، معذوروں اور کمزوروں کا خیال رکھنے میں کسی کو کیا ’’لالچ‘‘ ہے؟ خود سرمایہ دارانہ سماج میں آئن سٹائن، نکولا ٹیسلا اور جوناس سالک (پولیو ویکسین دریافت کرنے والا) جیسے درجنوں عظیم سائنسدان کیا ’’لالچ‘‘ میں سب کچھ کر رہے تھے؟ جدید سائنسی تحقیقات تو یہاں تک کہتی ہیں کہ حادثاتی لمحات میں اپنا خیال کیے بغیر دوسرے انسان کا احساس انسان کی جبلت میں ہے۔

سرمایہ داری کے کچھ ماہرین بھی ان حقائق کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ 2013ء میں دنیا کے سب سے مستند سائنسی جریدے ’’نیچر‘‘ میں طویل تحقیق کے بعد شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’’ اگر انسانی فطری طور پر لالچی ہوتا تو نسل انسان اب تک معدوم ہو چکی ہوتی۔‘‘ مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی میں کی جانے والی اس تحقیق میں جدید ترین طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے کئی تجربات کیے گئے جن کے نتائج کے مطابق ارتقا خود غرضی اور لالچ کو پسند نہیں کرتا اور فطرت معاونت کو پسند کرتی ہے۔

مئی 2012ء میں بی بی سی پر شائع ہونے والے کیرین پیکیما کے ایک مضمون میں مختلف ممالک میں مختلف طریقہ کار سے کی جانے والی سات تحقیقات کا نچوڑ پیش کیا گیا جس کے مطابق پیسے کی ہوس انسان کی قوت محرکہ نہیں ہے۔ پیسے کا لالچ ترغیب دینے کی بجائے کام کی ترغیب، فعالیت اور لگن کو ختم کرتا ہے۔

تاریخی اور سماجی اعتبار سے دیکھا جائے تو انسانی کاوش کے پیچھے لالچ کا یہ نظام ازل سے نہیں چلا آ رہا اور انسانی جستجو کی آزادی، سب کی بھلائی اور اجتماعی نجات کی خاطر کام کرنے کی مسرت کا حصول اس نظام کے خاتمے سے مشروط ہے۔ اسی صورت میں نسلِ انسان حقیقی معنوں میں زندگی کا وہ عروج حاصل کر سکتی ہے جہاں انسان ٹیکنالوجی کا غلام نہیں بلکہ ٹیکنالوجی انسانی ضروریات اور فلاح کی تابع ہو۔

اکثر سنتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ کارکردگی کا راز مقابلہ بازی ہے لیکن یہ مقابلہ بازی درحقیقت سرمایہ داری کی سب سے بڑی سماجی لعنت ہے جو انسان اور انسان کے درمیان حسد، نفرت اور عداوت کو جنم دیتی ہے۔ معاشی نقطہ نظر سے یہ ’’مقابلہ بازی‘‘ انسانی محنت، دولت اور قدرتی وسائل کے زیاں کا سب سے بڑا ماخذ ہے۔ ایک ہی چیز  ایک سے زیادہ کمپنیاں بنا رہی ہیں اور اربوں ڈالر ہر سال صرف اشتہاروں پر خرچ کیے جارہے ہیں جن کا مقصد صارف کو جھوٹ اور فریب میں جکڑنا ہے اور پیسے بھی صارف ہی بھر رہا ہے۔ منیجمنٹ، تحقیق اور پیداواری لاگت میں ہونے والا کئی گنا اضافہ اس کے علاوہ ہے۔ پھر ’’پیٹنٹ‘‘ اور ’’کاپی رائٹ‘‘ ہیں جن کے تحت نسل انسان کے ہزاروں سالوں کے علم کو ہی ملٹی نیشنل اجارہ داریوں نے یرغمال بنا لیا ہے۔ کاروباری رازداری اور تخلیقی ملکیت کے حقوق (Intellectual Property Rights) کی وجہ سے بہترین خیالات اورتحقیقات سرمائے کی زنجیروں میں جکڑ دی گئی ہیں۔

دنیا کے بہترین دماغ باہم معاونت سے انسانی سماج کی کایا ہی پلٹ سکتے ہیں لیکن اس نظام میں بے شمار کمپنیوں میں بٹے سائنسدان، انجینئر اور ڈیزائنر ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں اور سائنسی تحقیق انسانی فلاح کی بجائے منافع کی باندی بنا دی گئی ہے۔

مقابلہ بازی کے نتیجے میں صارف کو ملنے والی ’’کوالٹی‘‘ کا بھی بڑا چرچا کیا جاتا ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔ بصورت دیگر پاکستان میں موبائل فون کمپنیوں کا جوبازار سجا ہوا ہے اس کے نتیجے میں موبائل سروس مفت ہو چکی ہوتی اور معیار آسمان سے باتیں کر رہا ہوتا۔ حقیقی صورتحال سب کے سامنے ہے کہ صارفین کو بیہودہ اشتہاروں، فریب اور اذیت کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔ دوسرے شعبوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

پچھلے دنوں میں برطانوی جریدے ’’گارڈین‘‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ’’موبائل سروس کے معیار میں گراوٹ اور قیمتوں میں مسلسل اضافے کا واحد حل ہے کہ تمام موبائل کمپنیوں کو نیشلائز کر کے ایک کمپنی میں مجتمع کیا جائے اور عوام کی منشا کے مطابق چلایا جائے۔ ‘‘ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ منڈی کی مقابلہ بازی کے تحت چلنے والا امریکہ کا نظام صحت ترقی یافتہ دنیا میں مہنگا ترین ہونے کے ساتھ ساتھ نااہل ترین بھی ہے جہاں علاج ایک عذاب بن کے رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس منافع اور مقابلہ بازی سے پاک نظام صحت کہیں زیادہ سستے (بعض صورتوں میں مفت) اور کارگر ہیں جن میں سر فہرست کیوبا ہے۔

لیکن سامراجیت کے اس عہد میں حقیقی مقابلہ بازی بھی ایک مفروضہ بن چکی ہے۔ صرف 47 ملٹی نیشنل اجارہ داریاں عالمی معیشت کو کنٹرول کرتی ہیں۔ بڑی کمپنیاں آپس میں ساز باز کر کے کارٹیل بنا کر مختلف منڈیوں پر مناپلی بنا لیتی ہیں کیونکہ سرمایہ دار جانتے ہیں کہ آزاد منڈی کے انتشار کے مقابلے میں معاشی منصوبہ بندی زیادہ کارگر ہے۔ لیکن یہ ساز باز بھی انسانوں کی فلاح کی بجائے منافعوں اور استحصال میں اضافے کے لئے کی جاتی ہے۔

منصوبہ بند معیشت کو ’’انسانی آزادی‘‘ کے منافی قرار دینے والے سرمایہ داروں کی اپنی کمپنیوں اور فیکٹریوں میں تمام انتظام اور  پیداوار بڑے پیمانے کی جامع منصوبہ بندی اور اشتراکِ عمل کے ذریعے ہوتی ہے جس کا مقصد کارکردگی اور منافعوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

’’ملٹی نیشنل کارپوریٹ حکمت عملی: عالمی منڈیوں کے لیے منصوبہ بندی‘‘میں جیمز سی لیون ایک الیکٹرانک کمپنی ’ٹیکساس انسٹرومنٹس‘ کی مثال دیتا ہے جو ایک ملٹی نیشنل کارپوریشن ہے اورڈلاس میں موجود ہیڈ کواٹرز سے سخت مرکزی کنٹرول اور منصوبہ بندی کے تحت چلتی ہے۔ اس مثال میں پرانے سماج کے اندر نئے سماج کے بیج دیکھے جا سکتے ہیں۔

سوشلسٹ سماج بھی معاشی منصوبہ بندی کا استعمال کرے گا لیکن سوشلزم میں اکثریت کے مفادات کے لیے منصوبہ بندی ہوگی، نہ کہ مٹھی بھر افراد کے منافعوں کے لیے۔ یہ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت اور منافع کی لعنت سے پاک فراوانی پر مبنی سماج کی بنیاد ہے جہاں انسانی ضروریات کے تحت دوررس معاشی منصوبہ بندی کے تحت پیداوار کی جائے گی۔ پہلا قدم زمین، بینک، بھاری صنعت، سروسز، توانائی اور انفرا سٹرکچر جیسے اہم معاشی ستونوں کو نیشنلائز کے کے اشتراکی تحویل میں لینا ہو گا۔

آج ٹیکنالوجی جس مقام پر ہے اس کے پیش نظر منصوبہ بند معیشت کی بنیاد پر معجزاتی ترقی ہوگی، فی کس آمدن میں تیز اضافہ ہوگااور کام کے اوقاتِ کار بہت کم ہو جائیں گے۔ صحت بخش خوراک، علاج، تعلیم، روزگار اور رہائش جیسی ضروریات کی سماج کے ہر فرد کو فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

مارکسسٹوں سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ایک سوشلسٹ نظام میں محنت کرنے کے لیے کیا ترغیب ہو گی؟ موجودہ سماج میں اکثریتی آبادی کی زندگی فکر معاش کی ذلت میں کٹ جاتی ہے۔ اس کے بر عکس سوشلزم، مجبوری کے کام سے آزادی کا نام ہے۔ سوشلزم میں کام کرنے کی ترغیب یہ ہو گی کہ ہم ایک ایسے سماج کی تعمیر کر رہے ہیں جہاں ہم کام کرنے کی مجبوری سے آزاد ہوں گے۔

جہاں تک ’’انسانی فطرت‘‘ کا گھسا پٹا سوال ہے تو یہ نام نہاد انسانی فطرت تاریخ میں مسلسل بدلتی رہی ہے۔ قدیم اشتراکی سماجوں میں نجی ملکیت کو ایک جرم تصور کیا جاتا تھا۔ پھر غلام داری کی ذلت ’’انسانی فطرت‘‘ بن گئی۔ جاگیر داری بھی آئی اور ’’انسانی فطرت‘‘ بن کے گزر گئی۔ ایک وقت میں ’’فطری‘‘ سمجھے جانے والے ماضی کے یہ سماج آج کتنے غیر فطری لگتے ہیں! لیکن ساتھ ہی ساتھ سرمائے کے لالچ اور ہوس کو ’’انسانی فطرت‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔

تاریخ کا ہر حکمران طبقہ اپنے نظام کو ازلی اور ابدی قرار دیتا رہا ہے لیکن انقلابات کے انجن تاریخ کو آگے بڑھاتے رہے ہیں۔ مارکس نے واضح کیا تھا کہ مادی حالات انسانی شعور کا تعین کرتے ہیں۔ جب قلت اور محرومی کے حالات بدلیں گے تو ان سے وابستہ نفسیات بھی قصہ ماضی ہوجائے گی۔

Lal Khan

ڈاکٹر لال خان روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رُکن تھے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری ہیں اور تقریباً چار دہائیوں تک بائیں بازو کی تحریک اور انقلابی سیاست سے وابستہ رہے۔