پاکستان

لائیو شوز میں غلطی سے جو سچ دیا جاتا تھا اس کا بھی بندوبست کر دیا گیا ہے

التمش تصدق

سرمایہ دارانہ نظام میں ذرائع ابلاغ پر بھی سرمایہ دار حکمران طبقے کا اسی طرح قبضہ ہے جیسے ذرائع پیداوار پر ہے۔ حکمران طبقہ میڈیا کے ذریعے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے نان ایشوز کو پیدا کرتا ہے جس سے عوامی شعور کو مسخ کیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جو انسانی روح کو گھائل کریں، ان میں مایوسی اور بدگمانی پیدا کریں اور ایسے واقعات کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے جو مروجہ نظام کے مفادات کے خلاف ہوں۔

پاکستان میں نجی ٹیلی ویژن چینلزکی آمد کے بعد مسلسل آزاد میڈیا کا واویلا کیا جاتا رہا ہے۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پی ٹی وی کے علاوہ تمام میڈیا آزاد اور غیر جانبدار ہے۔ لمبے عرصے تک یہ غیر جانبداری کا ڈھونگ رچایا جاتا رہا ہے لیکن عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی نمائندہ ریاست کے داخلی بحران اور حکمران طبقات کی آپسی لڑائی نے نہ صرف ’مقدس‘اداروں میں چھپی غلاظتوں کو سب کے سامنے آشکار کیا بلکہ کارپوریٹ میڈیا کے غیر جانبدار اور آزاد ہونے کا پول بھی کھول دیا ہے۔ ساتھ ہی نام نہاد جمہوری حکومت کی حقیقت بھی اس وقت سب کے سامنے عیاں ہو گی تھی جب نواز لیگ کی حکومت نے جیو نیوز کو کھولنے کی تمام تر کوششیں کیں لیکن اسکے باوجود کیبل آپریٹرز پر اسکا اختیار نہیں چل سکا۔

اشرافیہ کی جمہوریت میں شفافیت کی تلاش میں محودرمیانے طبقے کی دانش آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے اپنے ہی جھوٹ پر ایمان لائی اور آج سخت پریشانی کے عالم میں مبتلا ہے۔ وہ نام نہاد خود ساختہ دانشور حضرات جو عمران خان کو مسیحا بنا کر پیش کر رہے تھے اور تمام مسائل کا واحد حل بتا رہے تھے، پی ٹی آئی کے جمہوری مارشل لانے ان لوگوں کی سب سے پہلے چیخیں نکالیں۔

آج وہ بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کی آقاؤں کی رائے کے علاوہ اپنی کوئی رائے نہیں ہے اورپی ٹی ایم کی تحریک پر ہونے والے ریاستی جبر اور قتل عام پر جن کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل سکا۔ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے جن کی حمایت ٹی وی چینلوں کے مالکان اور وہ اینکر پرسن بھی کر رہے تھے جو لمبے عرصے سے ریاست کے حقیقی مالکوں کے ثنا خوان رہے ہیں۔

آخر کیا وجوہات تھیں جنہوں نے کچھ عرصے کے لیے کب کے مر چکے ضمیروں کو اچانک زندہ کر دیا تھا…؟ نظام ِزر میں زر پرستوں کے ضمیر کی آواز بھی اس وقت نکلتی ہے جب مالیاتی مفادات کا حصول مقصود ہو۔ ٹی وی چینلوں کے مالکان کے ضمیر کو بھی سرکاری اشتہارات کے پیسے نہ ملنے نے جگایا تھا جو پیسے ملنے کے بعد پھر سے مر گئے۔ میڈیا مالکان نے شعبہ صحافت سے وابستہ محنت کشوں کی صحافتی آزادی کی تحریک کو استعمال کر کے اشتہارات کے پیسے نکلوائے۔ اشتہارات کے پیسے ملنے کے فوراً بعد اظہار رائے کی آزادی کا ڈرامہ اختتام پذیر ہو گیا اور پھر سے مالیاتی مفادات غالب آگے۔

دوسری طرف شعبہ صحافت سے منسلک محنت کشوں کی حیثیت نکیل ڈالے جانور سے مختلف نہیں ہے جو کئی طرح کے جبر و استحصال کا شکار ہیں۔ پاکستان دنیا میں صحافت کے حوالے سے خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں دہشت گردوں، ریاستی اداروں اور میڈیا مالکان کی جانب سے صحافیوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ مطلوبہ نتائج نہ آنے کی صورت میں جانی اور مالی نقصان کی ذمہ داری خود صحافی پر عائد ہوتی ہے۔ کئی صحافیوں کو قتل کر کے اور ملازمت سے بے دخل کر کے دوسرے صحافیوں کے لئے نشان عبرت بنا دیا گیا ہے تاکہ سچ بولنے یا لکھنے سے پہلے ہی انجام کی خبر ہو۔

وقت گزرنے کے ساتھ ریاست کا میڈیا پر کنٹرول مسلسل بڑھ رہا ہے۔ براہ راست ٹیلی ویژن پروگراموں میں غلطی سے جو کسی کی زبان سے سچ نکل جاتا تھا اس کا بھی بندوبست کر دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ حکمران طبقے کے اپنے نمائندوں کو بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی اجازت نہیں ہے جس کی واضح مثال مریم نواز اور آصف زرداری کے انٹرویوز کو نشر نہ ہونے دینا ہے۔ تمام پروگرام ریکارڈ کر کے پیش کیے جاتے ہیں۔

اس تمام تر صورتحال سے جہاں سرمایہ دارانہ میڈیا کا اصل چہرہ سامنے آیا ہے وہاں شعبہ صحافت سے منسلک محنت کشوں کے شعور میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ صحافی سوشل میڈیا پر میڈیا مالکان کے خلاف طبقاتی نفرت اور اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ بے بسی ریاست کے طاقتور اداروں کے خلاف بھی نفرت اور انتقام کا جذبہ پیدا کر رہی ہے۔ اس کی انفرادی طور پر کئی مثالیں نظر آتی ہیں جس کا اظہار اجتماعی طور پر بھی ہو سکتا ہے۔ جس جرات سے ماضی میں محنت کش صحافیوں نے فوجی آمروں کے ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اس سے صحافیوں کی لڑاکا جدوجہد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں بھی معاشی مسائل اور جبر محنت کش صحافیوں کو جدوجہد کی طرف راغب کریں گے۔

جمہوری آزادیوں کے حصول کی جدوجہد کو معاشی آزادی سے منسلک کر کے تمام محنت کشوں کی طبقاتی یکجہتی کی بنیاد پر کی جانے والی جدوجہد ہی ہر قسم کی آزادی کی ضامن ہو سکتی ہے۔ شعبہ صحافت سے منسلک محنت کشوں کا دیگر شعبوں کے محنت کشوں کے ساتھ وہی تعلق ہے جو میڈیا مالکان کا صنعت کاروں، سکول مالکان، جرنیلوں وڈیروں اور عالمی اجارہ داریوں سے ہے۔

جہاں حکمران طبقات کے مفادات مشترکہ ہیں وہیں محنت کشوں کی جدوجہد بھی مشترکہ ہے۔ محنت کشوں کا تاریخی فریضہ ہے کہ وہ ایک فیصد سے اقتدار چھین کر ننانوے فیصد لوگوں کا اقتدار قائم کرے اور مساوات پر مبنی حقیقی انسانی معاشرے کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں ہر انسان کو بولنے، سوچنے اور لکھنے کی آزادی ہو۔  

Altamash Tasadduq

مصنف ’عزم‘ میگزین کے مدیر ہیں۔