تاریخ

انسانیت اپنے لیے وہی اہداف طے کرتی ہے جنہیں وہ پورا کرسکے: کارل مارکس

کارل مارکس

ترجمہ: علی تراب

سیاسی معاشیات پر تنقید میں اضافہ کے دیپاچے سے اقتباس۔ اس مختصر تحریر میں مارکس نے مارکسزم/سائنسی سوشلزم کا خلاصہ پیش کیا ہے۔

اپنی بقا کے لیے سماجی پیداوار کے دوران انسان ناگزیر طور پر ایسے خاص رشتوں میں بندھ جاتے ہیں جو انکی خواہشات سے ماورا ہوتے ہیں۔ یہ رشتے ذرائع پیداوار کے ارتقا کے مخصوص مرحلے سے مطابقت رکھتے ہیں اور پیداواری رشتے کہلاتے ہیں۔ یہ پیداواری رشتے مجموعی طور پر سماج کے معاشی ڈھانچے کا تعین کرتے ہیں، یعنی وہ حقیقی بنیاد جس پر سماج کا قانونی اور سیاسی بالائی ڈھانچا کھڑا ہوتا ہے۔ اور جس سے سماجی شعور کی مخصوص صورتیں مطابقت رکھتی ہیں۔ طرزِ پیداوار ہی سماجی، سیاسی اور ذہنی پیداوار کے عمومی عمل کا تعین کرتا ہے۔ لوگوں کا شعور انکے وجود کا تعین نہیں کرتا بلکہ انکا سماجی وجود انکے شعور کا تعین کرتا ہے۔ ارتقا کے ایک مخصوص مرحلے پر سماج کے مادی ذرائع پیداوار اور موجودہ پیداواری رشتوں کے درمیان کشمکش شروع ہوجاتی ہے، یا یوں کہیے کہ ملکیتی رشتوں اور اب تک چلے آرہے سماجی ڈھانچے کے درمیان کشمکش شروع ہوجاتی ہے۔ اس چیز کا اظہار محض قانونی اصطلاحوں کی صورت میں نظر آتا ہے۔ کیونکہ اب یہ پیداواری رشتے ذرائع پیداواری کو ترقی دینے کی بجائے انکی بیڑیاں بن جاتے ہیں۔ پھر سماجی انقلابات کا ایک دور شروع ہوتا ہے۔ معاشی بنیاد میں آنے والی تبدیلیاں جلد یا بدیر پورے بالائی ڈھانچے کو تبدیلی کی جانب لے جاتی ہیں۔

ان تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے دو چیزوں کے درمیان ہمیشہ فرق رکھنا چاہیے۔ 1) پیداوار کے معاشی حالات میں مادی تبدیلی، جس کا اندازہ فطری سائنس کے ذریعے درستی سے لگایا جاسکتا ہے۔ 2) قانونی، سیاسی، مذہبی، فنی یا فلسفیانہ، مختصراً وہ نظریاتی صورتیں جنکے ذریعے لوگ اس کشمکش کو سمجھتے اور حل کرتے ہیں۔ جس طرح ایک انسان کے بارے میں یہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کیا جاتا کہ وہ اپنے بارے میں کیا سوچ رکھتا ہے، اسی طرح ایسی تبدیلی کے عہد کے بارے میں اس عہد کے شعور کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس کے الٹ اس شعور کی وضاحت مادی حالات میں موجود تضادات اور سماجی ذرائع پیداوار اور موجودہ پیداواری رشتوں کے درمیان کشمکش سے ہوگی۔ کوئی بھی سماج تب تک ختم نہیں ہوتا جب تک اس میں ذرائع پیداوار کو ترقی دینے کی سکت ختم نہ ہوجائے اور نئے بلند تر پیداواری رشتے پرانوں کی جگہ تب تک نہیں لیتے جب تک انکے وجود کیلئے درکار مادی حالات پرانے سماج کے شکم میں پک کر تیار نہ ہوجائیں۔

چونکہ تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی مسئلہ بھی تب ہی کھڑا ہوتا جب اس کے حل کیلئے مادی حالات پہلے تیار ہوں یا تیاری کے مراحل میں ہوں۔ اسی لیے انسانیت ناگزیر طور پر اپنے لیے وہی اہداف طے کرتی ہے جنہیں وہ پورا کرسکے۔ ایشیائی، قدیم، جاگیردارانہ اور جدید بورژوا طرزِ پیداوار وہ تاریخی عہد ہیں جنہوں نے سماج کو معاشی ترقی دی ہے۔ سرمایہ دارانہ طرزِ پیداوار سماجی پیداوار کی وہ آخری شکل ہے جس میں تضادات موجود ہیں، تضادات سے مراد انفرادی تضادات نہیں بلکہ وہ تضادات جو فرد کے وجود کے سماجی حالات سے پیدا ہوتے ہیں، لیکن بورژوا سماج میں ذرائع پیداوار کی ہونے والی ترقی نے وہ مادی حالات بھی پیدا کئے ہیں جن سے ان تضادات کو حل کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے اس نظام کے خاتمے کے ساتھ انسانی سماج کی طبقاتی تاریخ کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔