تاریخ

رشی کپور کو شہرت کی بلندیوں پر ایک سوشلسٹ ادیب نے پہنچایا

فاروق سلہریا

چند روز پہلے رشی کپور کی وفات کے موقع پر انہیں ہر طرف سے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ بلاشبہ ان میں بلا کی صلاحیت تھی۔ پھر یہ کہ بالی وڈ جیسی فلم انڈسٹری میں کامیابی کے لئے جن زینوں سے چڑھنا ہوتا ہے، ان کے پاس پہلے سے موجود تھے۔ ان کی کامیابی کا کریڈٹ اگر کسی کو دیا بھی گیا تو وہ ان کے والد راج کپور کو دیا گیا۔

بالی وڈ کے سب سے بڑے شومین مانے جانے والے راج کپور نے ’بوبی‘میں رشی کپور کو کاسٹ کر کے نہ صرف انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا بلکہ ’بوبی‘نے بھارتی فلموں میں ایک نیا رجحان متعارف کرایا: ٹین ایجرز کی محبت۔

رشی کپور بارے پڑھے جانے والے حالیہ قصیدوں میں راقم کو صرف ایک جگہ خواجہ احمد عباس کا ذکر ملا جنہوں نے ’بوبی‘کا اسکرپٹ تین دن میں لکھ کر راج کپور کو تھما دیا تھا۔ سچ پوچھئے تو راج کپور کے علاوہ اگر رشی کپور کو شہرت کے آسمان پر فوری طور پر کسی نے پہنچایا تو وہ خواجہ احمد عباس تھے۔

ہوا یوں تھا کہ ’سنگم‘کی کامیابی نے اگر راج کپور کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا تو ’میرا نام جوکر‘…جو بلاشبہ بالی وڈ کی سب سے بڑی نہیں تو کم از کم دو سب سے بڑی فلموں میں سے ایک ہے…نے انہیں دیوالیہ کر کے رکھ دیا۔

’میرا نام جوکر‘پر راج کپور نے ہر طرح کا جوا کھیل دیا تھا۔ اس کا اسکرپٹ بھی خواجہ احمد عباس نے لکھا تھا جو کے.اے.عباس کے نام سے مشہور تھے۔ نہ صرف انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانیوں میں سے تھے، بلکہ انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن (اپٹا) کے بھی بانی ارکان میں سے تھے۔ ہندوستان کی صحافتی تاریخ کا سب سے طویل عرصے تک لکھا جانے والا کالم خواجہ احمد عباس ہی نے لکھا۔

تیس کی دہائی میں صحافت، پھر تھیٹر اور فلم سے وابستہ ہو گئے۔ ہندوستان میں جب عام لوگوں نے عالمی فلمی میلوں کا نام بھی نہیں سنا تھا، ان کی فلمیں ان فلم فیسٹیولز سے انعام جیت رہی تھیں۔

پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں جن فلمی شخصیات نے بالی وڈ کو ترقی پسند آرٹ سے متعارف کرایا ان میں خواجہ احمد عباس ایک اہم ترین نام تھے۔ ان لوگوں کی اصل کامیابی یہ تھی کہ ان کی بنائی ہوئی فلمیں کمرشل سینما کے طور پر بھی مقبولیت کا ہر ریکارڈ توڑ دیتی تھیں۔

یہی نہیں۔ یہ خواجہ احمد عباس کا ہی وژن تھا کہ ہندوستانی فلمیں سوویت دنیا اور چین میں مقبول ہونے لگیں۔ خواجہ احمد عباس ہی تھے جنہوں نے ’آوارہ‘لکھی۔ یہ فلم چین میں اتنی مقبول ہوئی کہ ماو زے تنگ بھی جھوم جھوم کے ’آوارہ ہوں، آوارہ ہوں‘گاتے۔

نوبل انعام یافتہ روسی مصنف الیگزندر سولنز نستین کے ناول ’کینسر وارڈ‘ میں بھی اس فلم کا ذکر موجود ہے۔ شری 420، انہونی، جاگتے رہو اور میرا نام جوکر جیسی فلمیں بھی خواجہ احمد عباس کے قلم سے نکلیں جنہوں نے راج کپور کو سوویت روس میں اس قدر مقبول بنا دیا کہ پنڈت نہرو کو بھی خوش گوار مو ڈ میں کہنا پڑاکہ سوویت روس میں ان سے زیادہ راج کپور مشہور ہیں۔ روس یا مشرقی یورپ میں آج بھی لوگ راج کپور کی ’آواراہ‘ کو نہیں بھولے۔

فلم، کسی بھی دوسرے آرٹ کی طرح، سماجی عمل ہے۔ اس میں بہت سارے لوگ اور ذہن مل کر کام کرتے ہیں تب ہی آرٹ کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے۔ فلم تو کیا موسیقی یا ایک کتاب لکھنا بھی بغیر سماجی عمل کے ممکن نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بہت سے ہیرو گمنام رہتے ہیں۔ سرمایہ داری نظام بالخصوص انفرادیت کو پرموٹ کرتی ہے۔ اسکرین پر نظر آنے والے فلمی ہیرو تو سامنے آ جاتے ہیں مگر فلمی ورکرز بمشکل فلموں کے ٹائٹلز میں ہی جگہ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راج کپور اور رشی کپور تو سب کو یاد رہے مگر ایسے بے شمار نام پس منظر میں رہے جن کی ذہنی محنت نے ان کو سٹار بنایا۔

گو فلم کا ہر شعبہ اہم ہوتا ہے مگر کہانی کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ کوئی بڑی فلم ایک دلچسپ کہانی کے بغیر نہیں بن سکتی۔ راج کپور کو اچھے سے علم تھا۔ اس لئے ’میرا نام جوکر‘کی ناکامی کے بعد وہ ایک دن خواجہ احمد عباس کے دفتر پہنچے جو تیسری منزل پر تھا۔ خواجہ صاحب سے ایک ایسی کہانی جلد از جلد لکھنے کی درخواست کی جو بالکل عام رجحان سے ہٹ کر ہو، جو ایک مرتبہ ہلچل مچا دے۔

خواجہ احمد عباس نے راج کپور سے کہا کہ تین دن بعد آئیں۔ ٹھیک تین دن بعد جب راج کپور خواجہ احمد عباس کے دفتر پہنچے تو ’بوبی‘کا اسکرپٹ راج کپور کو مل گیا۔ دی ریسٹ از ہسٹری۔

اگر کسی کو خواجہ احمد عباس کے ادبی جینیئس سے ابتدائی تعارف حاصل کرنا ہے تو فوری طور پر ان کی تحریر کی ہوئی (ڈائریکٹر: گلزار) ’اچانک‘ دیکھئے۔ ’جاگتے رہو‘ بھی ایک اچھا آغاز ہو گا۔ ’میرا نام جوکر‘ تو دنیا بھر کے فلم اسکولوں میں سلیبس کا حصہ ہونی چاہئے اور ہر فلم بین کو یہ فلم ضرور دیکھنی چاہئے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔