اداریہ

شہزادی ہند بمقابلہ ہندو طالبان: جبر اور استحصال آمنے سامنے

اداریہ جدوجہد

ایک ماہ کے اندر اندر اماراتی شہزادی ہند القاسمی دوسری بار ہندوستان اور پاکستان میں شہ سرخیوں کا موضوع ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے امارات میں مقیم ایک بھارتی نژاد شہری سوربھ اپادھیائے کے ایک نفرت انگیز ٹویٹ کا نوٹس لیا تھا۔ اس شخص کے خلاف کاروائی کی گئی۔ اس ٹویٹ کا ایک مثبت نتیجہ یہ بھی نکلا کہ بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پر متحرک ہندو طالبان کو بھی تھوڑی نکیل ڈالی۔

اب ایک تازہ ٹویٹ میں شہزادی ہند نے آر ایس ایس کے ایک کارکن راجیشور سنگھ کے چھ سال پرانے ایک بیان کا نوٹس لیا ہے جس میں راجیشور سنگھ نے کہا تھا کہ 2021ء تک ہندوستان سے مسلمانوں اور عیسائیوں کا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا۔

اپنے ان ٹویٹس کے بعد حسب توقع شہزادی ہند پاکستانیوں کی ہیرو بن گئی ہیں۔

ادھر، ہندوستان میں ہندو طالبان نے شہزادی ہند کو یاد دلایا ہے کہ وہ اپنے ملک میں ہندوستانی اور پاکستانی مزدوروں کے حقوق پر بھی تھوڑی توجہ دیں جو خلیج کے ممالک میں جانوروں والی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

شہزادی اور ہندو طالبان کے مابین یہ لڑائی ایسی ہی ہے کہ جیسے ریچھ سانپ کو طعنہ دے کہ وہ معصوم پرندوں کے گھونسلوں میں گھس کر ان کے بچے ہڑپ کر جاتا ہے اور جواب میں سانپ ریچھ کو یاد دلائے کہ وہ خود بھی کون سا سبزی خور ہے۔ ان دونوں کی مثال اس منافق شیر جیسی ہے جو سبزی خوری کا پرچار کر رہا ہو۔

اس میں شک نہیں کہ ہندتوا کا منصوبہ انتہائی خطر ناک ہے۔ ان کے نشانے پر صرف مسلمان نہیں، ہندوستان کے مارکسسٹ، سیکولر اور جمہوریت پسند بھی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارتی مزدور طبقہ ان کا نشانہ ہے۔ ہندتوا والے مذہب کی بنیاد پر محنت کشوں کو تقسیم کر تے ہوئے سرمایہ دارانہ اور اونچی ذات کے مفادات کو آگے بڑھاتے ہیں۔

ادھر، سعودی عرب سمیت خلیج کے تمام حکمرانوں نے پچاس سال سے دیگر ممالک سے منگوائی گئی لیبر کا زبردست استحصال کیا ہے۔ سوشلسٹ انقلاب کے خوف سے ان ممالک میں ایک تو مقامی فوج نہیں بنائی گئی نہ ہی مقامی پرولتاریہ کو پنپنے دیا گیا۔ 950 1ء کی دہائی میں مصر اور عراق میں جو انقلابات ناصر اور قاسم کی قیادت میں آئے انہوں نے عرب بادشاہتوں اور ان کے امریکی آقاوں کو ایسا خوفزدہ کیا کہ فوجی اور مزدور خلیجی ممالک میں ہمیشہ باہر سے منگوائے گئے۔

مزدوروں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک خلیجی ممالک میں روا رکھا جاتا ہے اس کے پیش ِنظر کہا جا سکتا ہے کہ بیسویں صدی میں دور ِغلامی واپس آ گئی ہے۔ مزدور عرب ملکوں سے آئے ہوں یا جنوبی ایشیا سے، سب کے ساتھ برابر ظلم کیا جاتا ہے۔

ادھر، مصر سے لے کر ہندوستان اور سری لنکا تک، حکمران طبقہ اس بات پر خوش ہے کہ ان کی لیبر کا ایک قابلِ ذکر حصہ خلیجی ممالک میں کھپ جاتا ہے۔ ان حکمرانوں کا تعلق بھی چونکہ استحصالی طبقات سے ہوتا ہے لہٰذا کبھی کسی نے خلیجی ممالک میں مزدور حقوق کی بات نہیں کی اور تو اور سامراجی ممالک کو بھی خلیج میں کبھی انسانی حقوق پر تشویش نہیں ہوئی۔

اس سب پر مستزاد وہ سرکاری اعزازات جو لگ بھگ ہر خلیجی ریاست نے ’گجرات کا قصائی‘کہلانے والے نریندر مودی پر نچھاور کئے ہیں۔ جب یہ اعزازات مودی کو دئیے جا رہے تھے تب بھی ان کے ہاتھ ہندوستانی مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے لیکن شہزادی ہند نے کوئی احتجاجی ٹویٹ جاری نہیں کیا تھا۔

سچ تو یہ ہے کہ حکمران طبقے، فاشسٹ حلقے اور مذہبی جنونی (وہ کسی بھی مذہب سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں) انسانی حقوق اور انسانیت کا ڈھونگ اسی وقت رچاتے ہیں جب ان کو اپنے دامن پر لگے داغ چھپانے ہوں۔

ہمارا ہندتوا والوں سے کہنا ہے کہ اگر آپ کو خلیج میں کام کرنے والی جنوب ایشیائی لیبر کا اتنا خیال ہے تو ہندوستان میں مزدوروں کسانوں کے خلاف ہونے والے ظلم کے خلاف بولئے اور مودی سرکار کی ان پالیسیوں کے خلاف ہڑتال کیجئے جس نے محنت کشوں کو خود کشیوں پر مجبور کر دیا ہے۔

اسی طرح شہزادی ہند کی خدمت میں عرض ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں سے پہلے خلیج میں رہنے والے مسلمانوں کی حالت پر رحم کھائیں۔ بغیر جمہوریت کے وہ کس منہ سے انسانی حقوق کی بات کر رہی ہیں۔ ان کا تو شہزادی والا اپنا سٹیٹس ہی انسانی حقوق اور جمہوریت کی نفی ہے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کی مذہبی اقلیتیں ہوں یا خلیج اور پاکستان کے محنت کش، ان کے انسانی حقوق کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب مذہبی جنونی قوتوں اورغیر جمہوری قوتوں کو طبقاتی بنیادوں پر شکست دی جائے گی۔