پاکستان

بیرونی قرضے واپس کرنے سے انکار کیا جائے

فاروق طارق

ٹیکسٹائل پاکستان کی سب سے اہم ایکسپورٹ انڈسٹری ہے۔ کرونا کی وجہ سے پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ اپریل کے مہینہ میں 64.5 فیصد کم ہو گئی اور یہ محض 403.834 ملین ڈالر رہ گئی۔ یہ پچھلے 17 سالوں میں ٹیکسٹائل کی سب سے کم ایکسپورٹ تھی۔ اس ایک صنعت کے بحران سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برآمدات پر انحصار کرنے والی انڈسٹریز کو مستقبل میں کس قدر مسائل کا سامنا ہو گا۔

پاکستانی سرمایہ درانہ معیشت کا جو بحران بعد از کرونا دور میں نظر آنے والا ہے، اس کا اندازہ یہ حکومت کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے اس سہ ماہی میں بھی عالمی مالیاتی اداروں کو تقریباً تین ارب ڈالر قرضہ جات کی مد میں واپس کئے ہیں۔ اسی مقصد کے لئے تو حفیظ شیخ آیا ہے۔ پچھلے سال تقریباً 12 ارب ڈالر قرضہ جات کی مد میں واپس کئے گئے جس میں تین ارب ڈالر تو صرف سود کی مد میں ادا کئے گئے ہیں۔

اب یہ بزنس معمول کے مطابق نہیں چلے گا۔ حکومت نے اگر اپنی سامراجی چاپلوسی کی معاشی سرگرمیاں جاری رکھیں تو بے تحاشہ بے روزگاری پھیلے گی اور فیکٹریاں بند ہوں گی۔

ہمارا مطالبہ ہے: فوری طور پر غیر ملکی قرضہ جات دینے سے انکار کیا جائے۔

عمران خان اُن سے قرضوں کی ری شیڈولنگ کی اپیل کر رہے ہیں۔ یہ تو ننگی تلوار کو ایک دو سال کے لئے استعمال نہ کرنے والی بات ہے۔ یہ وقت ہے بولڈ معاشی ترجیحات کا۔ قرضہ جات ادا کرنے سے انکار کیا جائے۔ فوجی اخراجات کم کئے جائیں۔ صحت اور تعلیم کا بجٹ بڑھایا جائے۔ محنت کشوں کی کم از کم تنخواہ تیس ہزار مہینہ مقرر کی جائے جس سے معیشت نیچے سے بہتر ہونا شروع ہو گی لیکن سرمایہ داروں اور تاجروں کے مفادات کرنے والی اس حکومت سے ہمیں کوئی توقع بھی نہیں رکھنی چاہئے۔

مندجہ بالا مطالبات تب ہی منوائے جا سکتے ہیں اگر ملک بھر کی سماجی تحریکیں، ٹریڈ یونینیں اور ترقی پسند قوتیں ایک زبردست تحریک چلائیں اور موجودہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں۔ ہم نے ماضی میں بھی اپنے مطالبے منوائے ہیں۔ ہم آئندہ بھی منوائیں گے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔