دنیا

جنوبی ایشیا میں آزادی اظہار کے قبرستان: بنگلہ دیش، پاکستان اور ہندوستان

قیصر عباس

جنوبی ایشیا میں کرونا وائرس کے بعد اگرکوئی اور موذ ی وبا ہے تووہ آزادی اظہار کا قتل عام ہے۔ تازہ ترین عالمی تجزیے برصغیر کے تین بڑے ملکوں، بنگلہ دیش، پاکستان اور ہندوستان کو آزادی اظہار کے وہ قبرستان قرار دے رہے ہیں جن میں ذرائع ابلاغ اور صحافیوں کے لئے ان کے وطن کی سرزمین روز بروز تنگ ہوتی جارہی ہے۔

فرانس کی عالمی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی آزادی صحافت کی انڈیکس 2020ء نے بر صغیر کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں ان تین ممالک کو میڈیا کے لئے سب سے خطرناک قراردیا ہے۔ انڈیکس کے مطابق بنگلہ دیش پورے علاقے میں سب زیادہ خطرناک ملک نظر آتاہے جس کے بعد پاکستان اور پھر ہندوستان آزادی اظہارکے پیمانے پر بدترین ممالک میں شامل ہیں۔ مجموعی طورپر علاقے کے آٹھ ممالک میں بھوٹان اور مالدیپ صحافیوں کے لئے نسبتاً محفوظ ملک ہیں جہاں گزشتہ کئی برسوں سے حالات بہتر ہورہے ہیں۔ نیپال، افغانستان اور سری لنکاان ملکوں میں شامل ہیں جو عالمی سطح پر تو انڈیکس میں خاصے نیچے ہیں مگر برصغیر میں انہوں نے گزشتہ سال بنگلہ دیش، ہندوستان اور پاکستان کے مقابلے میں کہیں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جو انڈیکس میں سب سے نیچے بھی ہیں۔

جنوبی ایشیائی ملکوں کی درجہ بندی اس رپورٹ میں کچھ اس طرح کی گئی ہے:

بنگلہ دیش جو انڈیکس کے 180 ملکوں میں 151 ویں نمبر پرہے، بلاشبہ نہ صرف جنوبی ایشیابلکہ دنیا کے ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں 2016ء سے آزادی اظہار کا گراف مسلسل نیچے کی طرف جارہاہے۔ یہاں برسراقتدار عوامی لیگ اور اس کی وزیراعظم شیخ حسینہ کی جانب سے میڈیا اور رپورٹرز ایک عرصے سے زیرِعتاب رہے ہیں اور انہیں تشدد اور گرفتاریوں کے ذریعے ہراساں کیا جارہا ہے۔ دو بڑے اخبارات کے نمائندوں کو سرکاری پریس کانفرنس میں شرکت نہیں کرنے دی جارہی اور پارٹی کے کارکن رپورٹرز کے خلاف پر تشدد کاروائیوں میں شامل نظر آتے ہیں۔ اس سال کے اوائل میں دس صحافیوں کو بری طرح پیٹا گیا جو ڈھاکہ میں میونسپل انتخابات کی رپورٹنگ کررہے تھے۔ ان کے علاوہ بھی کئی رپورٹرز کو شدید تشدد کا نشانہ بنا یا گیا جنہوں نے حکومت کی جانب سے عوام میں تقسیم کئے گئے اجناس کی تقسیم میں مقامی رہنماؤں کی مجرمانہ کاروائیوں کو بے نقاب کیا تھا۔

پاکستان جہاں سمجھا جارہاتھا کہ 2002ء میں میڈیا کی نجکاری کے بعد صحافت بھی آزاد ہوگی انڈیکس میں 145 ویں نمبر پرہے اور یہاں میڈیا پر پابندیاں کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتی جارہی ہیں۔ ملک میں برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف اور لشکر شاہی نے نہ صرف اقتصادی طور پر ذرائع ابلاغ کی کمر توڑکر رکھ دی ہے بلکہ عملی طورپر تشددکے ذریعے صحافیوں، مدیروں اور اب تو مالکان کوبھی مجبور کردیا ہے کہ وہ آزادانہ طورپر لکھنے کی بجائے یہ سوچتے رہیں کہ ان کی ملازمت بھی باقی رہے گی یا نہیں۔ سرکارپر تنقید کے نتیجے میں ٹی وی نشریات بند کرنا تو اب ایک عام حربہ ہے مگر سرکاری اشتہارات کی بندش اور میڈیا کارکنوں پر تشدد اور دھمکیاں بھی روزانہ کا معمول بنتی جارہی ہیں۔

پاکستان کی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی ایک تازہ رپورٹ Murders, Harassment and Assult: The Tough Wages of Journalism in Pakistan کے مطابق گزشتہ سال مئی اور اس سال اپریل کے ایک سال کے عرصے میں صحافیوں پر تشدد کے 91 واقعات ہوئے۔ ان میں سات صحافیوں کو قتل کیاگیا، دو کواغوا کیا گیا، نو کو گرفتارکیاگیا، دس پر حملے ہوئے، دس پر سنسرشپ عائد کی گئی، تیئیس رپورٹرز کو دھمکیاں دی گئیں اور آٹھ کے خلاف قانونی کاروائیاں کی گئیں۔ ان واقعات کا سب سے زیادہ اثر ٹی وی پر (69فیصد)، اس کے بعد اخبارات و رسائل (28فیصد) اور پھر انٹرنیٹ کے اداروں (3فیصد) پر پڑا۔ خوف وہراس کی اس فضا میں ایک اندازے کے مطابق دو سے تین ہزار صحافی اور میڈیا کارکن بڑھتی ہوئی اقتصادی پابندیوں اور تشدد کے نتیجے میں بیروزگار ہو چکے ہیں یا انتہائی کم اجرتوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے ملک ہندوستان میں، جسے دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہا جاتاہے اور جوانڈیکس میں 142 ویں نمبر پرہے، صورت حال کچھ بہترنظرنہیں آتی۔ گزشتہ انتخابات کے نتیجے میں بی جے پی کی اکژیت حاصل ہونے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے ہندو قومیت کو فروغ دینے کے لئے فسطائی پالیسیوں پر عمل درآمد شروع کردیا ہے جس کا زیادہ تر اثر آزادی صحافت اور مذہبی اقلیتوں پر ہواہے۔ 2018ء میں چھ صحافیوں کے قتل کے بعد اگرچہ گزشتہ سال قتل کا کوئی واقعہ تو نہیں ہوا لیکن حکومت پر تنقیدصحافیوں کے لئے مشکل ہوتی جارہی ہے۔ میڈیا کارکنوں پر پولیس اور سیاسی غنڈوں کے پرتشدد حملے اور بدعنوان مقامی افسران کی جانب سے دھمکیوں کے واقعات اب عام نظرآتے ہیں۔

ہندوستان میں اب کرونا وائرس کے نتیجے میں اخبارات پر سنسرشب بھی بڑھادی گئی ہے۔ یوپی کے ایک اخباری نمائندے نے صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پرٹیکٹ جر نلسٹس (سی پی جے) کو بتایا کہ جب سے بی جے پی نے سرکار سنبھالی ہے یہاں سنسر شپ میں بے حد اصافہ ہوگیا ہے اور پولیس سمیت سرکاری اور غیر سرکاری گروہوں کی جانب سے میڈیا کے ارکان کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ اسکولوں میں غیر صحت مند غذا اور اداروں میں بدعنوانیوں کی رپورٹنگ پر اسی ریاست میں صحافیوں پر مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ 2017ء سے غازی پور میں ایک صحافی کے قتل کی تحقیقات ابھی تک التوامیں پڑی ہیں اور ملزموں پرکو ئی مقدمہ دائرنہیں ہواہے۔

گزشتہ سال اگست میں کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرنے کے بعد علاقے کو عملی طورپر ایک اجتماعی جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ کی سہولتیں اب بحال کردی گئی ہیں لیکن کرونا وائرس سے نپٹنے کے لئے تکنیکی طورپر غیرمعیاری نیٹ ورک اوراس کی سست رفتاری نے اس وبا کا علاج اور تعلیم و تدریس جیسی سرگرمیوں کو تقریباًنا ممکن بنا دیا ہے حالانکہ اب اخبارات کی اشاعت پر پابندی ہٹالی گئی ہے لیکن حکومت پر ہلکی سی تنقید پر بھی صحافیوں کو ہراساں اور گرفتار کرلیا جاتاہے۔ ایسا لگتاہے کہ کرونا وائرس اور ریاستی استبداد کے نتیجے میں جموں وکشمیر کی عوام اور ذرائع ابلاغ دوہرے جبر کا شکارہورہے ہیں۔

صحافیوں کی بڑھتی ہوئی گرفتاریوں کے پیش نظرسی پی جے کی جانب سے اپریل میں ایشیا کے چھ ملکوں کے سربراہوں کوارسال کئے گئے ایک کھلے خط میں مطالبہ کیاگیاہے کہ زیرِحراست صحافیوں کو جلد رہا کیاجائے۔ دنیا کی 73 انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے تحفظ کی تنظیموں کی جانب سے جن رہنماؤں کو یہ خط بھیجا گیا ہے ان میں ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان کے عمران خان بھی شامل ہیں۔ ان ملکوں میں ہندوستان کے گوتم نولکھا اور پاکستان میں جیو گروپ کے مالک اورچیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمان سمیت مجموعی طورپر 63 صحافی زیر ِحراست ہیں۔ خط میں کہا گیاہے:

”ان ملکوں میں جہاں کرونا وائرس پھیل گیا ہے، آزادی اب زندگی اور موت کا مسئلہ بن گئی ہے۔ وہ صحافی جنہیں جیلوں میں بند کیاجارہاہے، انہیں اپنے اردگرد کے ماحول پرکوئی کنٹرول نہیں ہے، وہ دوسرے قیدیوں سے الگ نہیں رہ سکتے اور انہیں علاج کی سہولتیں بھی نہیں دی جاتیں۔ بیشتر صحافیوں کو قانونی تقاضے پورے کئے بغیر جیلوں میں رکھا گیاہے جہاں غیرصحت مندانہ ماحول میں انہیں ملیریا، ٹی بی اور دوسرے امراض لاحق ہورہے ہیں۔“

صحافیوں کی حراست، تشدد، قتل اور اغوا کی وارداتوں کا سب سے اہم پہلو انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ امریکہ کے شہر ڈیلس میں سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں شعبہ انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رِک ہیلپرن (Rick Helperin) نے، جو جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں، اس موضوع پر’روزنامہ جدوجہد‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا:

”روانڈا سے یمن تک پوری دنیا میں صحافیوں کو آج حکومتوں کی جانب سے نشانہ بنایا جارہاہے۔ ان پر تشددکیا جاتا ہے، گرفتارکیا جاتا ہے، جھوٹے الزامات کے تحت ان پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں اور قاتلانہ حملے کئے جارہے ہیں۔ رپورٹرز ودآٹ بارڈرز نے بھی بنگلہ دیش، انڈیا اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں صحافیوں سے اس غیر انسانی سلوک کی نشاندہی کی ہے۔ کرونا وائرس کے اس ہنگامی دور میں جہاں حکومتیں ہلاکتوں کو کم کرنے میں مصروف ہیں وہاں ان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایک آزاد پریس کی ضمانت دیں تاکہ لوگوں میں حالات کا صحیح اندازہ لگاکر ان سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت پیدا ہوسکے۔“

تاریخ گواہ ہے کہ کرونا جیسی بیماریاں اور وباؤں کے نئے ادوار آتے ہیں اور ان پر قابو پالیاجاتاہے لیکن اکیسویں صدی کی جدید ریاستوں میں آزادی اظہاروہ اہم ستون ہے جس کے بغیر جمہوریت، انسانی حقوق اور انصاف کے تمام ستون بھی مسمارہونے لگتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں آزادی اظہار پر پابندیاں لگانے والے ملکوں میں ہندوستان جیسے ملک شامل ہیں جہاں جمہوری روایات بہت مستحکم ہیں، پاکستان جیسے ملک بھی ہیں جہاں ستر سالوں بعد بھی جمہوریت مستحکم نظر نہیں آتی اور افغانستان بھی جہاں انتخابات اور پارلیمان کا قیام بالکل نئے تجربات ہیں۔ لیکن یہ بات انتہائی تشوش ناک ہے کہ بنگلہ دیش، پاکستان اور ہندوستان جو نسبتاً بڑے ملک ہیں اور جمہوری روایات پر بظاہر یقین رکھتے ہیں، صحافیوں اور میڈیا کے لئے دن بہ دن خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔ سب سے بڑا دھوکہ تو یہ ہے کہ جنوبی ایشیاکے بیشتر ملکوں میں میڈیا کے خلاف بڑھتی ہوئی کاروائیاں جمہوری اقدار، قومی سلامتی اور امن وعامہ کے نام پر کی جارہی ہیں لیکن لوگ جانتے ہیں کہ ان سفاکانہ کاروائیوں کا مقصد کہیں فسطائیت، کہیں ذاتی مفاد اور کہیں اقتصادی منافع کے تحفظ کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔

حوالے

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز، 2020ء ورلڈ فریڈم انڈیکس۔
سی پی جے، کمیٹی ٹو پرو ٹیکٹ جرنلسٹس۔
فریڈم نیٹ ورک پاکستان، پریس فریڈم رپورٹ 2019-20ء۔
وائس آف امریکہ ویب سائٹ۔
فرینچ پریس ٹی وی ڈاٹ کام۔
دی بزنس اسٹینڈرڈ، ویب سائٹ۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔