خبریں/تبصرے

کشمیر گلوبل کونسل کی جانب سے کشمیری صحافی مرتضیٰ شبلی پر قاتلانہ حملے اور دھمکیوں کی مذمت

واشنگٹن (پریس ریلیز/روزنامہ جدوجہد) کشمیر گلوبل کونسل نے اپنے ایک بیان میں معروف کشمیری صحافی اور مصنف مرتضیٰ شبلی جو پچھلے چند مہینوں سے لاہور، پاکستان میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہیں، پر ایک قاتلانہ حملے، ان کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ مہم اور نامعلوم ذرائع سے دی جانے والی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

کشمیر گلوبل کونسل کے مطابق: ”مرتضیٰ شبلی نے حال ہی میں ایک سینئر پاکستانی صحافی انیق ناجی کے ساتھ اپنے ویڈیوانٹرویو میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اس کردار کی رونمائی کی جس کی وجہ سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے لوگوں کے حالات مزید ابتر ہوگئے ہیں“۔ کونسل کے بورڈممبر اور امریکہ میں مقیم کشمیری رہنما راجہ مظفر نے اس حملے کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حرکت دراصل ایک کشمیری دانشور کو خاموش کرانے کی ایک کھلی دھمکی کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیق کی جائے اورمرتضیٰ شبلی کو تحفظ دیا جائے۔

کشمیر گلوبل کونسل نے اپنے بیان میں کہا ”اس انٹر ویو میں مرتضیٰ شبلی نے بھارتی قبضے میں گھرے اپنے ہموطنوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے بہت سے نئے خیالات پیش کئے جن سے لگتا ہے کہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے اندر کچھ عناصر جھنجلا گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کردار کشی کی ایک باضابطہ مہم شروع کی گئی ہے جس کا واحد مقصد کشمیری دانشوروں اور صحافیوں کو اپنی آزادانہ رائے سے روکنا ہے تاکہ صرف سرکاری طورپر تصدیق شدہ خیالات کی ترویج کی جاسکے اور کشمیریوں کے جذبات اور احساسات کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا جاسکے“۔

کونسل کی ترجمان حمیرہ گوہر کے بیان کے مطابق مرتضیٰ شبلی کے خلاف اس زہریلے پروپیگنڈے اور دھمکیوں سے یہ بات پھر واضح ہو جاتی ہے کہ بھارت اور پاکستان میں آزادانہ رائے رکھنے والے کشمیری صحافیوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کی اس سے پہلے بھی کشمیری صحافیوں کو پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا گیاجو بعد میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں انکے قتل کاباعث بنا۔

انہوں نے کہا ”کشمیر گلوبل کونسل ہر فرد کی رائے یا نقطہ نظر سے قطع نظر آزادانہ اظہارخیال اور تقریر کے حق کا احترام اور اسے برقرار رکھنے پر یقین رکھتی ہے۔ ہم کسی بھی آواز خاص کر ان صحافیوں اور دانشوروں کو جو کشمیر کے بارے میں ایک باقصد مکالمے کو فروغ دینا چاہتے ہیں، کوان مکروہ طریقوں سے دبانے اور خاموش کرانے کی مذمت کرتے ہیں“۔