طنز و مزاح

ارتغرل قومی ہیرو ہو سکتا ہے تو جاوید جبار بلوچستان کا نمائندہ کیوں نہیں؟

فاروق سلہریا

ہمارے کچھ ترقی پسند پاکستانی دوست اور بلوچ قوم پرست اس بات پر شدید ناراض ہیں کہ جاوید جبار این ایف سی میں صوبہ بلو چستان کی نمائندگی کریں گے۔

مجھے اس ناراضی کا سبب سمجھ میں نہیں آ رہا۔ پچھلے ستر سال سے محمد بن قاسم ہمارے قومی ہیرو کے طور پر مطالعہ پاکستان میں ہماری نمائندگی کر رہے تھے۔ کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی خلا سے خلا تک والے تجربات میں ہماری نمائندگی کر رہے تھے۔ یہ تجربات بھی کامیاب رہے اور نمائندگی پر بھی افغانستان کے علاوہ کبھی کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

ابھی چند دنوں سے ہم نے سلطان ارتغرل کو اپنی اسکرینوں پر دیکھا تو دل ہی ہار بیٹھے۔ اترتغرل برانڈ کے پاپڑ سے لے کر نسوار تک سب مارکیٹ میں دستیاب ہو چکا ہے۔ ترکوں کی ایسی نمائندگی تو انہیں ترکی میں بھی نصیب نہیں ہوئی ہو گی۔ ہم شائد پہلی قوم ہیں جنہوں نے ستر سال کے بعد اپنا قومی ہیرو دریافت کیا ہے۔

رہی بات محترم جاوید جبار صاحب کی تو ان کے نمائندہ کردار پر اعتراض کرنا اس لئے بھی نہیں بنتا کہ انہیں تو ہر طرح کی نمائندگی کا تجربہ حاصل ہے۔ موصوف فوجی آمریتوں میں فوج کی نمائندہ کابینہ میں اور جمہوری ادوار میں جمہوریت کی نمائندگی کرنے کے لئے وزارت اطلاعات کا قلمدان قبول کرتے رہے۔

پھر نمائندگی کے سلسلے میں تو پاکستان کا ریکارڈ اتنا اچھا ہے کہ مشروبِ مغرب اور مشغولِ مشرق (بشمول معشوقِ مشرق) کے با وصف جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد مرحوم نے جرنل یحییٰ کو اسلام کا بہترین نمائندہ قرار دیا تھا۔

سچ تو یہ ہے کہ صحیح صحیح نمائندگی کے چکر میں پڑیں تو ہمارے وطن ِ عزیز کی سلامتی ہی خطرے میں پڑ جائے۔ اب دیکھئے نہ شرارت تو علی گڑھ کے لونڈوں نے کی تھی، نمائندگی کا بھرم رکھنے کے لئے اہل ِ پنجاب ستر سال سے سو طرح کے جتن کرتے پھر رہے ہیں۔

ایک ایسے پر امن دور کے آغاز میں کہ جب ہماری فوج مارشل لا کی بجائے ریٹائرڈ جرنیل لگا رہی ہے، بلوچستان کو جاوید جبار کی صورت میں ایک سویلین کی نمائندگی پر اعتراض چنداں زیب نہیں دیتا۔

ویسے ہمیں تو جاوید جبار کی نمائندگانہ صلاحیتوں پر رشک آ رہا ہے۔ مارشل لا، جمہوریت اور اب بلوچستان کی نمائندگی کے بعد اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک دن وہ اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی نمائندگی کا فریضہ بھی سر انجام دے سکتے ہیں۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔