خبریں/تبصرے

لاک ڈاؤن کے دوران بچوں کے آن لائن جنسی استحصال میں اضافہ: یورو پول

لاہور (جدوجہد رپورٹ) یورپی یونین میں قانون نافذ کرنے والے ادارے یورو پول کی سربراہ کیتھرین دیبول نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کے تمام رکن ممالک، جن کی تعداد 27 ہے، سے بچوں کے آن لائن جنسی استحصال میں اضافے کی خبریں آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بچے آن لائن پڑھائی کر رہے ہیں اور بچوں نے انٹرنیٹ پر زیادہ وقت گزارنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا جب بچے دوبارہ سکول جانا شروع کریں گے تب ہی پتہ چل سکے گا کہ یہ مسئلہ کتنا گھمبیر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا بحران کے دوران لوگ زیادہ آن لائن خریداری کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سائبر جرائم میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ادھر ای سی پی اے ٹی (ECPAT) نامی سماجی تنظیم کا کہنا ہے کہ بچوں تک آن لائن رسائی جتنی آج آسان ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔

یاد رہے کرونا بحران میں معاشیات کے حوالے سے بے شمار بحثیں اور تجزئے ہو رہے ہیں مگر بچوں کے حوالے سے مسائل کا ذکر بہت کم ہو رہا ہے۔ پچھلے عرصے میں مختلف ممالک سے یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران بچوں کے خلاف گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ روز ہی ’روزنامہ جدوجہد‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ کرونا بحران کے دوران غریب اور ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی اموات بڑھ سکتی ہیں اور خدشہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر 6000 بچے ہلاک ہو جائیں۔ یونیسیف کے مطابق یہ خطرناک صورتِ حال دو وجوہات کی بنا پر پیدا ہو سکتی ہے۔ اول، کرونا کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی وجہ سے ہسپتال کا نظام تباہ ہو سکتا ہے اور ممکن ہے بچوں کو ان بیماریوں کے لئے بھی ہسپتالوں میں علاج کی سہولت نہ مل سکے جو قابل ِعلاج بیماریاں ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کرونا بحران کی وجہ سے بچے کم خوراکی کا شکار ہو رہے ہیں۔

ادھر ’ڈیموکریسی ناؤ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں بچوں کے خلاف گھریلو تشدد کی شکایتوں میں کمی آئی ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ اعداد و شمار حقیقت کے عکاس نہ ہوں کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بچے سب کی نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں، اب بچوں کے اساتذہ، کوچ یا سوشل ورکر ان سے رابطے میں نہیں ہیں لہٰذا ٰ وہ نہیں بتا سکتے کہ بچوں کے ساتھ کیسا سلوک ہو رہا ہے۔