خبریں/تبصرے

ٹڈی دل سے 817 ارب کا نقصان ہو سکتا ہے، فوری مدد کی جائے: کسان رابطہ کمیٹی

لاہور (پریس ریلیز/جدوجہد رپورٹ) پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق نے کہا ہے کہ پچھلے چند دنوں میں ٹڈی دل کے حملوں سے پنجاب کے کپاس پیدا کرنے والے اضلاع میں زبردست نقصانات ہوئے ہیں۔ ٹڈی دل کھڑی فصلوں کے پتے کھا گئی ہے۔ خانیوال، وہاڑی، کبیر والا اور ماچھی وال کے دیہاتوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے 15 اضلاع پر بھی ٹڈی دل کے حملوں میں چھوٹے زمینداروں کی فصلیں ناقابل شناخت ہو گئی ہیں۔ بلوچستان کے اضلاع جھل مگسی، سبی، کچھی، نصیر آباد اور دیگر بھی اس کی زد میں آ گئے ہیں۔ پچھلے سال ٹڈی دل کے حملوں سے موسم سرما کی فصلوں کا 15 فیصد تباہ ہو گیا تھا جس کا اندازہ 100 ارب روپے لگایا گیا تھا۔ اس دفعہ اقوام متحدہ کے فوڈ اور زراعت کے ادارے نے وارننگ جاری کی ہے کہ اگر ٹڈی دل کے حملوں کا خاطر خواہ مداوانہ کیا گیا تو 2020ء کے سال کے دوران زرعی پیداوار کو 817 ارب روپے تک کا نقصان ہو سکتا ہے اور صرف موسم سرما کی زرعی پیداوار کو ٹڈی دل کے حملے 356 ارب روپے کا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

فاروق طارق نے مزید کہا کہ حکومت نے اقوام ِمتحدہ کی سنگین وارننگ کے باوجودوہ قدم نہیں اٹھائے جس سے ٹڈی دل کے حملوں کی شدت کو کم کیا جا سکتا یا روکا جا سکتا ہے۔ کپاس کے چھوٹے زمیندار تباہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ٹڈی دل حملوں نے زمینداروں کی معاشی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ٹڈی دل حملوں سے ہونے والے نقصانات کا فوری جائزہ لیا جائے اور اس کا فوری مداوا کیا جائے اور کسانوں کے نقصانات کو پورا کیا جائے۔