خبریں/تبصرے

سٹاک ہولم: صرف 7 فیصد میں ہرڈ امیونٹی

سٹاک ہولم (نمائندہ جدوجہد) بدھ کے روز سٹاک ہولم کے ذرائع ابلاغ کی سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ صرف سات فیصد افراد میں کرونا کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہو سکے ہیں۔ یاد رہے سویڈن اور ہالینڈ میں ایک غیر اعلانیہ حکمت عملی یہ رہی ہے کہ ہرڈ امیونٹی کو موقع دیا جائے۔ پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کی مخالفت کرنے والے حلقے ہرڈ امیونٹی (اجتماعی مدافعت) کی بات کر رہے ہیں۔

سویڈن کا دارلحکومت سٹاک ہولم کرونا وبا کا ایپی سنٹر (گڑھ) بنا ہوا تھا۔ گو اب صورت ِحال بہتر ہو رہی ہے مگر وبا پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ کرونا سے نپٹنے والے حکام کا خیال تھا کہ مئی کے آخر تک بیس فیصد افراد میں ہرڈ امیونٹی آ جائے گی۔ یہ ماڈل بنانے والے سٹاک ہولم یونیورسٹی کے ریاضی دان پروفیسر دودن قبل میڈیا میں تسلیم کر رہے تھے کہ ان کا ماڈل غلط ثابت ہوا۔

اس سے قبل ’جدوجہد‘ میں رپورٹ کیا جا چکا ہے کہ سپین میں، جہاں ایک لاکھ لوگوں پر مبنی سیمپلز پر تحقیق ہوئی، ہرڈ امیونٹی صرف پانچ فیصد لوگوں میں ثابت ہوئی۔ یاد رہے سپین اور اٹلی کرونا سے متاثر ہونے والے یورپی ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر تھے۔ سپین اور سٹاک ہولم کے بعد ہرڈ امیونٹی بارے دعوے اسی طرح غلط ثابت ہو رہے ہیں جیسے چند ماہ پہلے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ گرمی کے موسم میں کرونا کا پھیلاؤ رک جائے گا۔

یاد رہے سپین میں انتہائی شدید لا ک ڈ اؤن جبکہ سویڈن میں اسکیل ڈاؤن کی حکمت عملی چل رہی ہے۔ دونوں ممالک نے کرونا کے خلاف بے شمار اچھے اقدامات کئے ہیں۔ سویڈن کی حکمت عملی یہ تھی کہ محتاط طریقے سے ہرڈ امیونٹی پھیلتی جائے تا کہ ہسپتال کا نظام منہدم نہ ہو جائے۔ وہ اس میں کامیاب رہے ہیں۔ اسی طرح بے شمار دیگر اقدامات اٹھائے گئے۔