خبریں/تبصرے

سعودی ڈراموں میں اسرائیل سے دوستی کا پیغام

عدنان فاروق

رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق دو سعودی ڈرامے اس وقت توجہ اور تنازعے کا مرکز بنے ہوئے ہیں کیونکہ ان میں اسرائیل سے دوستی کا پیغام موجود ہے۔

’ایگزٹ سیون‘ ایک ایسے سعودی خاندان کی کہانی ہے جو تیزی سے جدت کی طرف جاتے ہوئے سعودی عرب کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس خاندان کے ایک کردار کا اسرائیل کے ایک نوجوان سے آن لائن رابطہ ہو جاتا ہے۔ اس سیریل کے ایک منظر میں دو کردار اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات کے حق میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلسطینی دن رات سعودی عرب کی توہین کرتے ہیں حالانکہ سعودی عرب نے ان فلسطینیوں کی بے انتہا مالی مدد کی ہے۔

اسی طرح ’ام ہارون‘نامی سیریل کویت میں ایک ایسے یہودی خاندان کی کہانی ہے جو چالیس کی دہائی میں وہاں آباد تھا۔

رمضان ٹرانسمشن کے سلسلے میں یہ کھیل ایم بی سی چینل پر پیش کئے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب میں رمضان ٹرانسمشن کو کافی پذیرائی ملتی ہے۔

اس سال کے آغاز میں یہودیوں کے قتل عام بارے ایک فلم بھی سعودی عرب میں اسکرین ہونا تھی جسے کرونا کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ان ڈراموں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ان ڈراموں کی مدد سے سعودی حکومت لوگوں کا موڈ جانچ رہی ہے۔

بعض مبصرین ان ڈراموں کو سعودی اسرائیلی قربت کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران اور سعودی دشمنی، دوسری جانب سعودی معاشی صورت حال کے پس منظر میں، سعودی عرب اور اسرائیل قریب آ رہے ہیں۔

یاد رہے منگل کے روز اتحاد ائر ویز کی پہلی پرواز نے اسرائیل کا سفر کیا۔ اگر خلیجی ممالک اسرائیل سے پہلے تعلقات بنائیں گے تو سعودی عرب کے لئے ایسا کرنا آسان ہو جائے گا۔

ایک بات جو مین اسٹریم مبصرین کرنے سے کترا رہے ہیں: اسرائیل اور سعودی عرب دونوں خلیج میں امریکی سامراج کی چوکیاں ہیں۔ عرب حکمران طبقہ ہمیشہ فلسطینیوں سے غداری کرتا آیا ہے، اگلی غداری کسی بھی وقت متوقع ہے۔

اہل ِ فلسطین کو بھی ان طفیلی حکمرانوں سے کوئی توقع نہیں ہے۔

Adnan Farooq

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔