دنیا

سویڈن سے 1.5 ارب کراؤن کا اسلحہ خریدنے والا خفیہ گاہک پاکستان ہے یا سعودی عرب؟ سویڈش میڈیا میں قیاس آرائیاں

فاروق سلہریا

گذشتہ روز سویڈش ٹیلی وژن نے یہ خبر دی کہ پیر کے روز اسلحہ بنانے والی کمپنی ’صاب‘ (Saab) نے 1.5 ارب سویڈش کراؤن (تقریباً پچیس ارب پاکستانی روپے) کا ایک معاہدہ کیا ہے مگر اسلحہ خریدنے والے ملک کا نام صاب کی میڈیا چیف این ولگرز نے بتانے سے انکار کر دیا ہے۔ ادھراسلحے کی عالمی تجارت پر تحقیق کرنے والے معروف ادارے سپری (SIPRI) کا خیال ہے کہ یہ اسلحہ پاکستان خرید رہا ہے۔

ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ سودا سعودی عرب نے کیا ہے۔ سویڈش ٹی وی نے یہ خبر برطانوی جریدے ’جینز‘ (Janes) کے حوالے سے دی ہے۔ خبر کے مطابق صاب اپنے اس خفیہ گاہک کو صاب کا جاسوسی طیارہ ایری آئی (Erieye) فروخت کرے گا۔ ایری آئی کا ایک جدید ورژن ’گلوبل آئی‘ اس سال اپریل میں متحدہ عرب امارات کو مہیا کی گئی تھی۔

ماضی میں پاکستان صاب سے جاسوسی طیارے خرید چکا ہے۔ یہ سودا جنرل مشرف کے دور میں ہوا تھا۔ اس ڈیل کی خبر راقم نے ’دی نیوز‘ میں بریک کی تھی۔ اتفاق سے جب مشرف آمریت نے صاب سے طیارے خریدنے کا سودا کیا، اس سے چند دن قبل کشمیر میں زبردست زلزلہ آیا تھا۔ کہا یہ جا رہا تھا کہ زلزلے سے تباہ حال علاقوں کی بحالی کے لئے ایک ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ صاب سے جو سودا کیا گیا، اس کی مالیت بھی ایک ارب ڈالر تھی۔ اس لئے بھی سویڈن میں یہ سودا مین اسٹریم میڈیا میں ایک بحث بن گیا۔ پھر کہاگیا کہ یہ سودا ملتوی کیا جا رہا ہے۔ سویڈن نے بعد ازاں چھ طیارے پاکستان کو بیچ دئے۔ بعد ازاں صاب طیارے ایک مرتبہ پھر خبروں کی سرخیوں میں رہے کہ جب کامرہ ائر بیس پر طالبان کے ایک حملے میں ایک صاب طیارہ بھی نشانہ بنا۔ موجودہ سودے کے تحت، صاب کے مطابق طیارے اگلے تین سال کے دوران فراہم کر دئیے جائیں گے۔

امن کا نوبل انعام دینے والے سویڈن کی منافقت

ایک ایسے وقت میں کہ جب دنیا کرونا بحران کا شکار ہے، اسلحے کی سودے بازیاں افسوسناک ہیں۔ اس سے بھی افسوسناک یہ ہے کہ سویڈن ایک طرف ہر سال امن کا نوبل انعام دیتا ہے اور دوسری جانب اسلحہ بھی بیچتا ہے۔ یہ منافقت کے علاوہ کچھ نہیں۔ سویڈن کی مزدور تحریک کو اس دوغلے پن کی شدید مخالفت کرنی چاہئے۔
ادھر سویڈش قانون کے مطابق سویڈن ایسے ملک کو اسلحہ نہیں بیچ سکتا جو جنگ کر رہا ہو۔ اگر تو یہ جہاز سعودی عرب کو بیچے جا رہے ہیں تو یہ یمن سے کھلی غداری ہے۔

اگر یہ جاسوسی طیارے پاکستان کو بیچے جا رہے ہیں تو اس وقت پاکستان کو جاسوسی جہازوں کی نہیں وینٹی لیٹرز، ماسکس اور پی پی ایز کی ضرورت ہے۔ سویڈن اس وقت پوری دنیا میں اس لئے دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے کہ اس نے کرونا بحران سے منفرد انداز میں نپٹا ہے۔ پاکستان اور دیگر ترقی پزیر ممالک کو سویڈن کے ان تجربات کی ضرورت ہے نہ کہ اس کے جاسوسی طیاروں کی۔

سویڈن کو چاہئے کہ پاکستان اپنا سائنسی علم، ہسپتال کا نظام، ڈاکٹرز اور نرسز کو بھیجے نہ کہ جاسوسی طیارے!

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔