مزید پڑھیں...

فیض امن میلہ: انقلابی اٹھان کا اظہار

حقیقت یہ ہے کہ عوام موجودہ سرمایہ درانہ نظام اور اس کی رکھوالی سیاسی پارٹیوں کی سیاست سے تنگ ہو کر نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ فیض انہی نئی راہوں کا امین اور مبلغ تھا۔ عوام نے بار بار ان سرمایہ دار جماعتوں کے اقتدار کو دیکھ لیا ہے اور ان سے جان چھڑانے کی جستجو میں جو تلاش جاری ہے فیض امن میلہ اس کی نشان دہی کر رہا ہے۔

حکمت عملی کا سوال اور کمیونسٹ سیاست

مختلف ترقی پسند تنظیموں، تحریکوں اور گروہوں کے مابین ثالثی (Mediations)، جو زیادہ درست معنوں میں یونائیٹڈ فرنٹ کہلاتا ہے، کی بنیاد پر بننے والا اتحاد ہی بائیں بازو کی ایک سرگرم ثقافت کو تشکیل دے سکتا ہے۔

بوٹ کو عزت دو

ی ٹی آئی کی زیرِقیادت وفاقی اور صوبائی حکومتیں نااہل ہیں۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کا بڑے پیمانے پر مذاق اڑایا جاتا ہے، جس میں پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز کے میزبان یہ کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کے عہدے پر برقرار رہنے کی وجہ خان صاحب کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا یہ انتباہ ہے کہ بزدار کی رخصتی ان کے شوہر کی رخصتی کا باعث بن سکتی ہے۔

’تمہارے نام پر آئیں گے غمگسار چلے‘: فیض امن میلے میں ہزاروں کی شرکت

انقلاب! امید! جدوجہد!
ان جذبات سے سرشار گذشتہ روز پندرہ سے بیس ہزار افراد نے دن بھر جاری رہنے والے فیض امن میلے میں شرکت کی۔ میلے کا انعقاد لاہور کے تاریخی باغِ جناح کے اوپن ائیر تھیٹر میں کیا گیا تھا۔

پیراسائٹ: انقلابیوں کو یہ فلم ضرور دیکھنی چاہیے

یہ فلم سوشلزم کا ایک بہت بڑا تحفہ ہے جس میں آپ دیکھتے ہیں کہ ایک شخص آخر کار کس طرح اپنی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں سے گھرے ہوئے خاندان کے باوجود اپنے خلاف قائم سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کے خواب میں زندہ ہے۔ وہ اس نظام کو تبدیل کرنے کیلئے پاگل ہواجارہا ہے۔

حجاب مخالف مظاہرہ: 24 سالہ یاسمان 10 سال کیلئے جیل میں

ہر دو حلقوں کا موقف منافقت اور دوغلے پن کا شکار ہے۔ ایک درست اور اصولی موقف یہ ہونا چاہئے کہ ریاست ایران اور سعودی عرب کی ہو یا فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی، ریاست کو حق نہیں کہ وہ لوگوں کے لباس کا فیصلہ کرے یا ان کے گھر کے اندر جھانکے۔ برقعہ پہننا چاہئے یا نہیں، اس پر بحث اسی وقت ہو سکتی ہے جب فرد کو بنیادی شخصی آزادی کا تحفظ ریاست کی جانب سے حاصل ہو۔

دنیا میں آلودگی سے سالانہ 40 ہزار بچوں سمیت 40 لاکھ لوگ ہلاک ہوتے ہیں

ے شمار جائزے اور تجزیے بتا چکے ہیں کہ عالمی سطح پر ایک طرف تو پسماندہ ممالک امیر ممالک کی نسبت ماحولیاتی آلودگی کا زیادہ شکار ہیں، دوسری جانب یہ ایک طبقاتی مسئلہ بھی ہے۔ غریب افراد متمول افراد کی نسبت آلودگی سے ہونے والی بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔