مزید پڑھیں...

کرونا وبا کے دوران سیاست کیوں ضروری ہے؟

اس ساری تاریخ بیان کرنے کا مقصد کرونا وائرس یا دوسری آفات کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ اس خطرے کو رد کرنا تو انتہائی احمقانہ قدم ہو گا جس کے نتائج ہم سب کو بھگتنے پڑسکتے ہیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس صورتحال میں سوال اٹھانا بند نہ کیا جائے، مسائل پر سوچنا بند نہ کیا جائے اور ان لوگوں کے بارے میں سوچنا بند نہ کیا جائے جن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

’آپ کے اندر کا انقلابی مرنا نہیں چاہئے‘

”انقلاب کیلئے جذباتیت یا خون خرابے کی بجائے مستقل مزاجی سے کی جانے والی جدوجہد، پیش قدمی اور قربانی چاہیے۔ سب سے پہلے ذاتی تسکین کے خوابوں سے چھٹکارا پانا ہو گا… مشکلات اور مصائب آپ کو مایوس نہ کریں۔ نہ ہی ناکامی اور غداریوں سے دل برداشتہ ہوا جائے۔ جتنی بھی مشقت کرنی پڑے، آپ کے اندر کا انقلابی مرنا نہیں چاہیے۔ ان امتحانات سے گزر کر ہی آپ کامیاب ہو ں گے اورآپ کی فتح ہی انقلاب کا اثاثہ ہو گی“۔

کرونا سے انسانی زندگیاں بچائیں، منافع نہیں: فورتھ انٹرنیشنل

مین سٹریم میڈیا اور حکومتیں عمر کے فرق کی بات تو کر رہی ہیں مگر وہ طبقاتی فرق کی بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ بات بھی نہیں کی جا رہی کہ کرونا وائرس کس طرح لوگوں کی آمدن اور دولت کے حساب سے حملہ آور ہو گا۔ قرنطینہ اور انتہائی نگہداشت کی سہولتیں ستر سال کی عمر اور غربت میں اس طرح میسر نہیں ہوتیں جس طرح جیب میں پیسے کی صورت میسر ہوتی ہیں۔

آج کی ویڈیو: کرونا وائرس حفاظتی کٹس مہیا کرنے کے لئے ڈاکٹرز کی حکومت کو سوموار تک کی ڈیڈ لائن

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس عمل سے لگایا جا سکتا ہے کہ پمز جیسے ادارے میں اس وبائی بیماری پر قابو پانے کے لئے آئسولیش وارڈ کے نام پر دس بستروں پر مشتمل ایک روم بنایا گیا ہے جس میں صرف دو ویںٹیلیٹرز دستیاب ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس وبا کو سنجیدہ لیں، ماسک کا استعمال کریں، سینیٹائزر یا صابن سے باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں اور جتنا ہو سکے نقل و حرکت نہ کریں۔