خبریں/تبصرے

علی وزیر کی گرفتاری کے خلاف عالمگیر احتجاج، فوری رہائی کا مطالبہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سابق قبائلی علاقہ جات (فاٹا) سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن علی وزیر کی گرفتاری کے خلاف گزشتہ روز پاکستان کے درجنوں شہروں سمیت دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر علی وزیر کی رہائی کیلئے ٹرینڈ چلائے جا رہے ہیں اور پاکستان کے ترقی پسند حلقے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں علی وزیر کی گرفتاری کی مذمت اور رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جمعہ کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، سوات، وانا، ژوب، قلعہ سیف اللہ، کوئٹہ، صوابی، چمن، ٹانک، مردان، ڈی آئی خان، میر علی، میران شاہ سمیت درجنوں دیگر مقامات پر احتجاجی ریلیاں اور جلسے منعقد کئے گئے۔ احتجاجی مظاہرین نے علی وزیر کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں بھی علی وزیر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کئے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے سامنے منعقدہ احتجاجی مظاہرہ میں ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ، پیپلزپارٹی رہنما فرحت اللہ با بر، پی ٹی یو ڈی سی جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر چنگیز ملک، عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماؤں اور دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور پی ٹی ایم کے کارکنوں نے شرکت کی۔

کراچی میں احتجاجی مظاہرے کے منتظم نوراللہ ترین پولیس نے گرفتار کر لیا۔ کراچی میں احتجاجی مظاہرے میں پی ٹی ایم رہنماؤں کے علاوہ ترقی پسند تنظیموں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ نور اللہ ترین بھی پی ٹی ایم کے اہم رہنماؤں میں شمار کئے جاتے ہیں، انہیں کراچی میں علی وزیر اور دیگر رہنماؤں کے خلاف ہونیوالی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

لاہور میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے حقوق خلق موومنٹ کے صدر ڈاکٹر عمار علی جان، مزمل خان کاکڑ سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ لبرٹی چوک لاہور میں منعقدہ احتجاج میں شرکا احتجاج فیض احمد فیض کی شاعری ”ہم دیکھیں گے…لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے“ ترنم میں گا کر علی وزیر کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے علی وزیر کی گرفتاری کی مذمت کی اور انکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

دوسری طرف علی وزیر کی گرفتاری کے خلاف سوشل میڈیا سائٹس فیس بک اور ٹویٹر پر دنیا بھر کے انقلابی رہنماؤں، ترقی پسند کارکنوں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ صحافیوں کی بھی کثیر تعداد علی وزیر کی گرفتاری پر سوالات اٹھائے اور دن بھر علی وزیر کی رہائی کے مطالبے پر مبنی ٹرینڈ ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا۔

پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے پے درپے کئے گئے ٹویٹس میں علی وزیر کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ”آئیے امید کرتے ہیں کہ معاملے کی چھان بین ہو گی اورسیکرٹری داخلہ سندھ ہمارے لکھے گئے خط پر علی وزیر کی گرفتاری کے احکامات واپس لیں گے۔ عمران خان کی حکومت زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی۔“

ایک اور ٹویٹ میں فرحت اللہ بابر نے لکھا کہ ”ایوان کے ممبر کی گرفتاری کیلئے اسپیکر سے اجازت لینا ضروری ہے۔ علی وزیر کو ہتھکڑیاں پہنا کر سڑکوں پر پریڈ کروائی گئی۔ ہاؤس کا پاسبان بے بسی سے ہاؤس کے رکن کی تذلیل کو دیکھ رہا ہے۔ کیا اس میں کوئی شک ہے کہ منتخب شدہ ہائبرڈ سسٹم بوگس ہے؟“

پاکستان کے معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے علی وزیر کی ہتھکڑیاں پہنے تصاویر ٹویٹ سوالات کرتے ہوئے لکھا کہ ”زنجیروں میں جکڑا یہ ’بلڈی سویلین‘قومی اسمبلی کا رکن ہے یا کوئی اور؟ کیا یہ جعلی تصویر ہے؟ اس طرح کا سلوک پاکستان میں سب کے ساتھ ہوتا ہے یا کسی کسی کے ساتھ ہوتا ہے؟ اس ’بلڈی سویلین‘ کے ساتھ اختلاف کریں لیکن یہ تو بتائیں کہ اس ’بلڈی سویلین‘ نے ایسی کیا بات کہہ دی جس پر آپ اتنے ناراض ہیں؟“

حامد میر نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا انٹرویو بھی شیئر کیا جس میں وہ علی وزیر کے مقابلے میں امیدوار نہ دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ علی وزیر پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن ہیں، وہ سابق قبائلی علاقہ جات سے گزشتہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ علی وزیر پی ٹی ایم تحریک کے صف اول کے رہنما ہیں اور لمبے عرصے سے بائیں بازو کی تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں۔

انہوں نے گزشتہ لمبے عرصے تک دہشت گردی اور ریاستی جبر کے خلاف سیاسی جدوجہد کی ہے۔ اس جدوجہد کی وجہ سے انکے خاندان کے 15 سے زائد افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔

علی وزیر کو 16 دسمبر 2020ء کو پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کراچی میں منعقدہ جلسہ میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی اور بغیر اجازت کراچی میں جلسہ منعقد کیا۔