خبریں/تبصرے

علی وزیر کے خلاف مقدمہ سندھ حکومت کی منظوری سے درج ہوا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی کابینہ نے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی منظوری دی تھی۔ یہ انکشاف جمعہ کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اشتعال انگیز تقریر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ہوا۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق تفتیشی آفیسر نے 21 نومبر 2019ء کو منعقد ہونے والے سندھ کابینہ کے اجلاس کے منٹ انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 12 میں پیش کئے۔ اجلاس کے منٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ سندھ حکومت کے وزیر سعید غنی نے اجلاس میں تجویز دی کہ علی وزیر کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے حوالے سے منظوری دینے یا نہ دینے سے متعلق پراسیکیوٹر جنرل سے مشورہ لیا جانا چاہیے۔

اجلاس کے منٹس کے مطابق جب معاملہ پراسیکیوٹر کے پاس بھیجا گیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ کابینہ اس کیس کو درج کرنے کیلئے منظوری دے۔ اس کے علاوہ عدالت میں پیش کی جانیوالی فرانزک رپورٹ میں بھی یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ 6 دسمبر 2020ء کو کراچی میں کئے جانے والے علی وزیر کے خطاب کی تصویری فوٹیج تو درست ہے تاہم تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ فرانزک لیب آڈیو کی صداقت کی جانچ نہیں کر سکتی کیونکہ ان کے پاس مطلوبہ سافٹ ویئر ہی موجود نہیں ہے اس لئے یہ نہیں بتایا جا سکتاکہ اس ویڈیو میں موجود آڈیو درست ہے یا نہیں ہے۔

اس مقدمے کی آئندہ سماعت 3 فروری تک ملتوی کی گئی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق 3 فروری کو علی وزیر پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔ تاہم علی وزیر کے وکیل نے توقع کا اظہار کیا ہے کہ 3 فروری کو علی وزیر کی ضمانت متوقع ہے۔

ادھر یہ معلوم ہوا ہے کہ علی وزیر کے خلاف بنوں میں بھی کوئی مقدمہ درج ہے۔ بنوں کی پولیس نے سندھ حکومت کو مکتوب تحریر کر رکھا ہے کہ اگر علی وزیر کی کراچی میں درج مقدمہ میں ضمانت کی درخواست منظور ہوتی ہے تو انہیں بنوں پولیس کے حوالے کیا جائے۔

واضح رہے کہ علی وزیر سابق قبائلی علاقہ جات سے منتخب ہونے والے ممبر قومی اسمبلی ہیں۔ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سرگرم رہنما ہیں اور پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک سے منسلک ہیں۔ انکے خلاف کراچی میں 6 دسمبر کو غیر قانونی جلسہ منعقد کرنے اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ مقدمے میں انہیں دسمبر کے ہی دوسرے ہفتے میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا اور خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی پہنچایا گیا تھا جہاں وہ سنٹرل جیل کراچی میں پابند سلاسل ہیں۔