خبریں/تبصرے

میانمار کی فوجی حکومت کا مظاہرین کے خلاف ریاستی جبر جاری، ڈیڑھ ماہ میں 183 سے زائد ہلاکتیں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) میانمار میں آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فوجی حکومت کا جبر و تشدد بدستور جاری ہے۔ منگل کے روز بھی مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور تشدد سے 2 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ یکم فروری کو ہونیوالی فوجی بغاوت کے بعد ڈیڑھ ماہ کے دوران 183 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوجی جبر کے نتیجے میں مزید سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاعات موجود ہیں جن کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اے پی کے مطابق ینگون میں منگل کو مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز نے طاقت کا استعمال کیا۔ پولیس نے کئی محلوں میں ربڑ کی گولیوں سے فائرنگ کی، جس کی وجہ سے ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ شمال مغربی ریجن کے شہر کوئلن میں بھی تشدد سے ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

پیر کے روز مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور تشد د سے کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مختلف سرکاری اداروں، کارخانوں اور فیکٹریوں کے محنت کشوں نے احتجاجاً کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ سے انکار پر متعدد پولیس اہلکاران کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ کچھ پولیس اہلکاران سرحد عبور کر کے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواستیں بھی دے چکے ہیں۔

مظاہرین نے ریاست کے ساتھ تصادم سے بچنے کیلئے حکمت عملی مرتب کر رکھی ہے، ہڑتال پر موجود انجینئروں نے سائن بورڈز کے ذریعے احتجاج کو وسعت دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ریاستی جبر اور وحشت کے باوجود پرامن احتجاجی مظاہرے روزانہ کی بنیاد پر منعقد کئے جا رہے ہیں۔

ریاست نے ذرائع ابلاغ کی کوریج کے ساتھ ساتھ مظاہروں کے انعقاد کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے موبائل فون انٹرنیٹ سروس اتوار کے روز سے منقطع کر دی ہے۔ موبائل ڈیٹا سروس کے ذریعے سے مظاہروں کی براہ راست ویڈیو کوریج ممکن تھی، متعدد لائیو ویڈیوز میں مظاہرین پر حملہ کرنے والے سکیورٹی فورسز اہلکاران کو دکھایاگیا تھا۔

ینگون کے ایک صنعتی علاقے میں چین کی ملکیتی متعدد فیکٹریو ں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان فیکٹریوں کو نذر آتش کرنے میں کون ملوث ہے۔