اداریہ

اسرائیل بربریت میں کامیاب مگر ’جنگ‘ ہار گیا ہے

اداریہ جدوجہد

صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ رواں ماہ 8مئی سے شروع ہونیوالی اس کشیدگی میں اب تک 227سے زائد فلسطینی عوام ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 100سے زائد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ہزاروں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور 1500کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی مسلح مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیلی فوج پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں 12اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

حالیہ کشیدگی شیخ جراح میں احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی پولیس کے وحشیانہ تشدد کے بعد شروع ہوئی ہے۔ شیخ جراح یروشلم کی دیواروں کے باہر ایک چھوٹی سی فلسطینی بستی ہے، جس پر یہودی آبادکاروں نے قبضے کیلئے اسرائیلی سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا۔ فلسطینی شہریوں نے اپنے آبائی مکانات اور زمینوں سے بے دخل کئے جانے کی کوششوں کے خلاف احتجاج کیا، پولیس تشدد کی وجہ سے 35سے زائد فلسطینی شہری زخمی ہوئے۔ فلسطینی پولیس کی جارحیت کے خلاف احتجاج کی لہر غزہ تک پھیل گئی اورفلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے رد عمل میں اسرائیل پر سیکڑوں راکٹ فائر کئے جو تکنیکی پسماندگی اور اسرائیلی دفاعی نظام کی وجہ سے اسرائیل کا کوئی بڑا نقصان نہیں کر سکے لیکن اسرائیلی ریاست نے حماس کے راکٹ حملوں کا جواب دینے کے بہانے غزہ میں بمباری شروع کر دی جو گزشتہ 13روز سے جاری ہے۔

فلسطین پراسرائیلی جارحیت کے خلاف جہاں دنیا بھر میں محنت کش عوام، بائیں بازو کی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے کارکنان احتجاج کر رہے ہیں وہاں امریکہ سمیت دیگرسامراجی ممالک اسرائیلی جارحیت کی مذمت نہ کر کے اسرائیل کی پشت پناہی کرنے میں مصروف ہیں۔

فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کیلئے آسٹریلیا سے امریکہ اور ایشیا تک احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ اٹلی کے پورٹ ورکرز نے اسرائیلی ہتھیار وں کی کھیپ لوڈ کرنے سے انکار کر دیا، اس کے علاوہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی جارحیت روکنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ آئرلینڈ نے اسرائیل کے ساتھ دو طرفہ تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، یورپین اور انگلش پریمیئر فٹ بال لیگ کے دوران کھلاڑیوں نے فلسطینی جھنڈے لہرا کر فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔

اسرائیل کے اندر بھی فلسطینی عرب مسلمانوں، عیسائیوں کے علاوہ یہودی محنت کشوں اور ترقی پسند تنظیموں کی جانب سے بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دنیا بھرمیں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں یہودی محنت کشوں کی شرکت نے بھی مسئلہ فلسطین کو مذہبی مسئلہ بنا کر پیش کرنے کے پروپیگنڈہ کو مسترد کیا ہے۔

جہاں دنیا بھر میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی جا رہی ہے وہاں اسلامی ممالک کی منافقانہ پالیسیاں فلسطینیوں پر نمک پاشی کر رہی ہیں۔ ایک طرف فلسطین کے مسئلے کو مذہبی مسئلہ بنا کر پیش کرنے میں تمام مسلم ممالک کا میڈیا، حکمران طبقہ اور مذہبی جماعتیں پیش پیش ہیں جبکہ دوسری طرف اسرائیلی جارحیت کے خلاف کوئی سنجیدہ اقدام اٹھانے سے بھی گریزاں ہیں۔ ترکی، قطر سمیت دیگر ممالک کی اسرائیلی کیساتھ تجارت بھی بدستور جاری ہے۔

امریکی سامراج سمیت لبرل نقطہ نظر رکھنے والی سیاسی قوتوں کی جانب سے بھی اسرائیلی جارحیت کو مسترد کرنے کی بجائے دو ریاستی حل اور فلسطینی مزاحمت کو قتل و غارتگری کے جواز کے طو رپر پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

سامراجی پشت پناہی اور بھاری جنگی طاقت کے باوجود اسرائیلی ریاست کی بربریت فلسطینیوں کی زندگیوں کو تو تاراج کر رہی ہے لیکن فلسطینیوں کی مزاحمت اور دنیا بھر میں سامراجی جارحیت کے خلاف محنت کشوں اور نوجوانوں کے احتجاج کی وجہ سے فلسطینی اس جنگ میں ابھی تک فاتح ہیں۔

عرب خطے پر بلواسطہ سامراجی اقتدار اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کیلئے صہیونی ریاست کے قیام کی وجہ سے نہ صرف فلسطینی محنت کشوں کی زندگیاں تاراج ہوئی ہیں بلکہ پورے عرب خطے کے محنت کشوں زندگیاں اجیرن بنائی گئی ہیں، دوسری طرف اسرائیل کے محنت کش بھی ایک مسلسل خوف کی کیفیت میں سامراجی مقاصد کے حصول کیلئے استحصال کا شکار ہوتے آئے ہیں۔طبقاتی جڑات کی بنیاد پر اس خطے سے سرمایہ دارانہ اقتدارکے خاتمے کے علاوہ مسئلہ فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کے محنت کشوں کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔