دنیا

بی ایل اے پر پابندی، ٹرمپ عمران ملاقات اور افغانستان سے امریکی انخلا

فاروق سلہریا

دو جولائی کو امریکہ نے بلوچستان لبریشن آرگنائزیشن (بی ایل اے) کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ جبکہ 22 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی ٹرمپ عمران خان سے ملاقات طے پائی ہے۔ اس دوران لشکرِ طیبہ کے خلاف ہلکی پھلکی سی کاروائی کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنی ہیں۔ حافظ سعید سمیت لشکر کے تیرہ رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں لشکر کی قیادت پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ تین این جی اوز الانفال ٹرسٹ، دعوۃ الارشاد ٹرسٹ اور معاذ بن جبل ٹرسٹ کے ذریعے دہشت گردوں کو مالی مدد فراہم کر رہے تھے۔ معلوم نہیں ان مقدمات پرہنسا جائے یا ماتم کیا جائے۔

دوسرے الفاظ میں بی ایل اے پر امریکی پابندی بھی اتنی ہی کار گر ہو گی جتنی سخت کاروائی یہاں سے لشکر طیبہ کے خلاف کی جائے گی!

اسی دوران آئی ایم ایف نے چھ ارب ڈالر کا قرضہ بھی جاری کر دیا ہے۔ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی قرضے دینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ خلیج میں پیٹروڈالرز سے مالا مال ایک سامراجی ’اتحادی‘ سے بھی چند سو ملین ڈالر بینک دولت پاکستان میں منتقل کروائے گئے ہیں۔ لگتا ہے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت نے جو دوریاں پیدا کی تھیں وہ پھر نزدیکیوں میں بدل رہی ہیں۔

مذکورہ بالا واقعات کو ایران اور سی پیک سے بھی جوڑا جا رہا ہے (دیکھئے ڈچ ویلے اردو کی رپورٹ بعنوان پاکستان پر نوازشات: کیا پاکستان مغربی کیمپ کا حصہ بننے جا رہا ہے؟)۔ ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ سعودی عرب کے زیرِ اثر ایک طرف تو پاکستان خلیج کے ایران مخالف کیمپ کا حصہ بن گیا ہے۔ دوم امریکہ سے از سرِ نو تعلقات کی بحالی کے لئے چین سے اجتناب کی حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔

ممکن ہیں دونوں تاثر درست ہوں مگر ابھی تک کوئی واضح ثبوت دستیاب نہیں جن کی بنیاد پر یہ نتائج اخذ کیے جا سکیں۔ مصیبت ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان میں تحقیق مفقود ہے اور بہت سے موضوعات پر تحقیق ممکن ہی نہیں۔ سی پیک اس کی ایک مثال ہے۔ اس منصوبے کو اس قدر خفیہ رکھا گیا ہے کہ کوئی بات وثوق سے کرنا ممکن نہیں۔ سرگوشیوں میں یا ذاتی مشاہدات اور بعض اوقات اپوزیشن کی جانب سے دئیے گئے بیانات کی بنیاد پر یہی سننے میں آ رہا ہے کہ سی پیک پر اس گرمجوشی سے کام نہیں ہو رہا جیسا کہ سال پہلے تک دیکھنے میں آ رہا تھا۔بہر حال صورتحال آئندہ کچھ عرصے میں مزید واضح ہو جائے گی۔

اسی طرح یہ دعویٰ کہ عمران خان کی امریکہ یاتراکو ایران مخالف بلاک میں شمولیت کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے بظاہر درست دکھائی دیتا ہے گو اس حوالے سے بھی ہمارے پاس کوئی ناقابلِ تردید ثبوت یا تحقیق نہیں ہے۔ زیادہ تر قیاس آرائی کی جا رہی ہے۔ فی الوقت قیاس آرائی ہی کی جا سکتی ہے مگر تازہ ترین صورتحال کو ایران اور سعودی عرب تک محدود کر دینا مناسب نہیں کیونکہ یہ توقع رکھنا کہ امریکہ ایران میں اپنی فوجیں اتارے گا کافی غلط تجزیہ ہو گا۔ اسی طرح پاکستان براہِ راست ایران سے الجھنے کی حکمت عملی نہیں اپنائے گا۔

لہٰذااس مضمون کا مرکزی نکتہ یہ دلیل ہے کہ پاکستان پر تازہ سامراجی نوازشات کا ایک پہلو ایران اور چین ہیں (جیسا کہ اوپر بیان ہوا) تو دوسرا اور زیادہ اہم پہلو ایران اور افغانستان ہیں۔

افغانستان سے امریکی انخلا

تادم ِ تحریر قطر میں طالبان اور امریکہ کے مذاکرات جاری ہیں۔ ان مذاکرات کے بارے میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات کا کامیاب ترین دور ہے (دیکھئے روزنامی گارڈین کی یہ رپورٹ)۔ طالبان کی جانب سے بھی اسی قسم کے اشارے دئیے گئے ہیں۔ ادھر ستمبر میں افغانستان کے صدارتی انتخابات ہیں جبکہ اگلے سال ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات کی مہم بھی شروع ہو چکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران دو سفارتی کامیابیاں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ایک شمالی کوریا کے ساتھ بریک تھرو۔ دوسرا افغانستان سے ”کامیاب انخلا۔“

”کامیاب انخلا“ کے لئے پہلا مرحلہ تو یہ ہو گا کہ افغان صدارتی انتخابات کو جائز بنا کر پیش کیا جا سکے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ صورتحال دوبارہ جنم نہ لے جو پچھلے صدارتی انتخاب میں سامنے آئی تھی کہ جب شمالی اتحاد کے ناکام امیدوار عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کو صدر ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ آخر کار عبداللہ عبداللہ کو راضی کرنے کے لئے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ گھڑا گیا۔ یوں مصنوعی اور بھونڈے طریقے سے سیاسی بحران کو ٹالا گیا۔

انتخابات کے ساتھ ہی طالبان سے ”کامیاب“ مذاکرات کا سوال جڑا ہوا ہے۔ امریکہ اسی صورت طالبان کے ساتھ مذاکرات کو کامیابی بنا کر پیش کر سکتا ہے اگر طالبان بظاہر ہتھیار ڈال دیں اور ”جمہوری عمل“ کا حصہ بن جائیں۔

”کامیاب انخلا“ کی تیسری اہم بات یہ ہو گی کی افغانستان سے روانہ ہوتی امریکی فوج پر ایسے حملے نہ ہوں جن سے بھاری جانی اور مالی نقصان کی صورت میں یہ دکھائی دے کہ امریکہ دم دبا کر بھاگ رہا ہے۔

انخلا سے جڑے اِن تینوں پہلوؤں کا تعلق پاکستان سے بھی ہے اور ایران سے بھی۔ امریکہ یہ چاہے گا کہ پاکستان افغانستان کے صدارتی انتخاب کے انعقاد میں مدد دے (یعنی طالبان کو قابو میں رکھے تاکہ پولنگ اسٹیشنوں پر حملے نہ ہوں)۔ طالبان سے معاہدہ کروا دیا جائے جس کے نتیجے میں ایک دفعہ امریکہ کی طویل ترین جنگ اپنے اختتام کو پہنچے اور صدر ٹرمپ اسے اپنی انتخابی مہم میں بھی استعمال کر سکیں (یاد رہے کوئی اور امریکی صدر بھی ہوتا تو اس کی حکمت عملی یہی ہوتی۔ امریکی حکمران طبقہ اب افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے)۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ طالبان پر پاکستان کا اثر و رسوخ پہلے جیسا نہیں رہا۔ یہ بات واشنگٹن کو بھی معلوم ہے، طالبان کو بھی اور اسلام آباد کو بھی۔ طالبان نہ صرف چین اور روس کے ساتھ رابطے میں ہیں بلکہ تہران کے ساتھ بھی ان کے مراسم استوار ہو چکے ہیں۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ ملّا عمر کے جانشین ملّا ہیبت اللہ کی ڈرون میں ہلاکت ایران سے واپس آتے ہوئے ہوئی تھی۔ اسی طرح پچھلے چند مہینوں میں کم از کم دو دفعہ امریکہ ایران پر یہ الزام لگا چکا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی مفادات پر حملے کروا رہا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ حامدکرزئی بھی اور اشرف غنی بھی ایران نواز قوتوں کے ساتھ مل کر حکومت چلاتے رہے ہیں۔ جنرل قاسم سلیمانی کی قدس فورس نے عراق اور شام میں جو کردار ادا کیا وہی کردار افغانستان میں ادا کرنا مشکل نہیں ہو گا۔ یوں امریکی انخلا کے جن پہلووں کا ذکر کیا گیا ہے ان پر ایران بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ افغانستان میں بھارت اور ایران مل کر کام کرتے آئے ہیں اور یہ بات بھی اہم ہے کہ طالبان کے بھی کئی دھڑے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہو گا کیا؟

خونی منظر نامہ

زیادہ غالب امکان یہ ہے کہ طالبان کا ایک حصہ امریکہ سے معاہدہ کر لے گا۔ پاکستانی حکمرانوں کی بھی پوری کوشش ہو گی کہ امریکی نوازشات میں تسلسل کے لئے امریکی انخلا کو ”کامیاب“ بنوانے میں مدد دیں۔ اس بار شاید ڈبل گیم ممکن نہ ہو۔ اس لئے اسلام آباد پوری کوشش کرے گا کہ اپنا فرض جانفشانی سے ادا کرے۔ ادھر طالبان کے وہ دھڑے جن کو جنگ جاری رکھنے میں زیادہ منافع نظر آتا ہے وہ ”جہاد“ جاری رکھنے کا اعلان کر دیں گے۔ ایران ان کی حمایت کرے گا۔ خون خرابہ جاری رہے گا۔ امریکی کوشش یہ ہو گی کہ کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ انخلا مکمل کر لے۔ انخلا کو کامیاب ثابت کرنے کے لئے امریکی میڈیا اور ہالی وڈ سے کام لیا جائے گا۔ ویسے بھی افغانستان اب کسی کے ایجنڈے پر نہیں۔ افسوس!

مندرج بالا تجزئیے سے چند نتائج ضرور اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

اول امریکی سامراج کا کوئی اصول ہے نہ پاکستان کے حکمران طبقے کا۔ ڈرون حملوں کے خلاف لانگ مارچ کرنے والا عمران خان اب وائٹ ہاوس یاترا پر اِترا رہا ہے۔ اسی طرح امریکہ دشمنی کا سبق پڑھانے والے ٹی وی چینل آنے والے دنوں میں اس دورے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی بنا کر پیش کریں گے۔ یہ بات کوئی نہیں اٹھائے گا کہ چین اور روس کے ساتھ وقتی فلرٹ کے بعد پاکستانی حکمران اپنے پرانے آقا کے پاس چلے گئے ہیں کیونکہ پرانے گاہک کی گرہ میں مال ہی مال ہے۔ امریکہ گیری ہی پاکستانی حکمرانوں کی ستر سالہ تاریخ ہے۔

دوم پاک ایران تعلقات ایرانی انقلاب کے بعد سے خراب چلے آ رہے ہیں مگر افغانستان میں یہ تعلقات آنے والے دنوں میں پراکسی جنگ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ امریکی ڈالر اور آئی ایم ایف پیکیج بہت مہنگے ثابت ہوں گے۔

سوم طالبان کے ساتھ اسلام آباد کی مدد سے سودے بازی پاکستانی بائیں بازو کے اس موقف کو درست ثابت کرتی ہے کہ مذہبی جنونیت اور دہشت گردی کو ڈرون آؤٹ نہیں کیا جا سکتا۔ گیارہ ستمبر کے بعد دنیا بھر کے لبرل اور پاکستان میں ان کا لنڈا مال کابل سے طالبان کے فرار پر بغلیں بجا رہے تھے۔ بایاں بازو اس وقت بھی کہہ رہا تھا کہ بنیاد پرستی کو سیاسی شکست دینے کی ضرورت تھی جو سامراجی جنگ سے ممکن نہیں۔ سامراجی جنگ نے انہیں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کر دیا ہے جبکہ خطے کو خطرناک حد تک غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ آج پورے خطے کو آگ اور خون میں جھونکنے کے بعد بغیر کسی شرم کے دونوں فریق دوحہ میں بغل گیر ہیں۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔