خبریں/تبصرے

’سب سے دلچسپ یہی غم ہے میری بستی کا، موت پسماندہ علاقے میں دوا لگتی ہے‘

اکبر نوتیزئی

ترجمہ: فاروق سلہریا

بلوچستان زلزلوں کے حوالے سے حساس علاقہ ہے اور ہر زلزلے کے بعد جو لفظ سب سے زیادہ سننے کو ملتا ہے وہ ہے: اعمال۔

چند روز قبل، شمالی بلوچستان میں واقع، زلزلے کا شکار ہونے والے، ضلع ہرنائی جانے کے لئے میں نے کوئٹہ سے جو ٹیکسی لی،اس کا ڈرائیور بھی بار بار اعمال کا ذکر کر رہا تھا۔ ڈرائیور محمد مبین نے ہرنائی جانے والی ٹوٹی پھوٹی سڑک پر جاتے ہوئے بارہا اعمال کا ذکر کیا۔

”زلزلے ہمارے گناہوں کی سزا ہوتے ہیں۔ یہ ہم مسلمانوں کے اعمال کا نتیجہ ہیں“ محمد مبین نے مجھے کئی بار یاد دلایا۔ محمد مبین کو معلوم ہے کہ میں ”نیوز بریک“ کرنے والا صحافی ہوں۔

”ہم اپنے اعمال تو درست کرتے نہیں، پھر زلزلے تو آئیں گے“۔ اس نے مزید تشریح کی۔ محمد مبین کی اپنی رائے ہوتی ہے اور گفتگو کا ہنر بھی جانتا ہے۔ مجال ہے جو دوسرے کو بات کا موقع دے۔ اس نے یہ سارا خطبہ اس لئے دیا کہ میں نے گانے لگانے کی فرمائش کی تھی تا کہ سفر تھوڑا اچھا کٹ جائے۔

گذشتہ رات بلوچستان میں آنے والے زلزلے کی وجہ سے میں نے بھی رات لگ بھگ جاگ کر ہی گزاری تھی۔ نیند کی ماری آنکھیں ملتے ہوئے میں نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ گانے کی بجائے بھلا اسی میں ہے کہ محمد مبین کا خطبہ سنا جائے اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے پر تدبر کیا جائے۔

شمالی بلوچستان میں واقع ضلع ہرنائی غربت اور پس ماندگی کی تصویر ہے۔ ہاں مگر یہ علاقہ قدرتی حسن اور قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں کوئلے کی وافر کانیں ہیں مگر بدقسمتی سے لوگ بدحالی کا شکار ہیں۔ کچے گھروں میں رہنے والے یہاں کے مکینوں سے اس زلزلے نے ان کے کچے گھر بھی چھین لئے۔ جمعرات کو جو زلزلہ آیا، اس کا مرکز ہرنائی تھا۔

ہرنائی کی وادی مایوسی ہی نہیں یاس اور بے بسی کی بھی تصویر ہے۔ زلزلے میں جو کچے گھر نہیں گرے، ان کی دیواروں میں بھی دراڈیں پڑ گئیں۔ ان کچے مکانوں میں رہنا اب ممکن نہیں رہا۔ کچے مکانوں کی طرح یہاں کے مکینوں کے چہروں سے بھی مایوسی جھلک رہی ہے۔ وہ غیر یقینی مستقبل بارے فکر مند ہیں۔ 35 سالہ نواب خان ترین بھی ایسے ہی ایک مکین ہیں۔ ان کے پانچ بچے ہیں۔ وہ ہرنائی شہر کے بابا محلے میں رہتے ہیں۔

جب 5.9 شدت کا زلزلہ آیا تو وہ سو رہے تھے۔ جھٹکے سے جب آنکھ کھلی تو لاشعوری طور پرپہلا خیال زلزلے کا ہی آیا۔ خوش قسمتی سے وہ خود اور بچے معمولی زخمی ہی ہوئے۔ کمرے سے باہر آئے تو دیکھا گھر کی چار دیواری گر چکی ہے اور صحن رات کی تاریکی میں بھی گرد آلود دکھائی دے رہا تھا۔

اڑوس پڑوس سے عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔ ان چیخوں سے موت اور تباہی کا اندازہ لگانا مشکل نہ تھا۔ زلزلے کی بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا ”میری آنکھ تین بجے کھلی۔ کمرے سے باہر نکلا تو میرے گھر کے کچھ حصوں سمیت ہر طرف بربادی ہی نظر آئی“۔

دیگر رضاکاروں کی طرح وہ بھی بچوں اور عورتوں کی چیخ و پکار کے جواب میں ان کی جانیں بچانے کے لئے دوڑے۔ ”ایک جگہ ملبے سے پانچ لوگوں کو زندہ نکالا مگر چھٹے کی موت ہو چکی تھی“۔

رات کے اندھیرے میں اس رضاکارانہ کام کی تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ ملبے تلے دبے ہوئے تھے۔ بجلی بھی چلی گئی سو لوگوں کو ملبے سے نکالنے کا کام موبائل کی ٹارچیں جلا کر کیا گیا۔ ہرنائی کا ڈسٹرکٹ ہسپتال بابا محلے سے تھوڑا دور ہے۔ بلوچستان کے دیگر ہسپتالوں کی طرح یہاں نہ تو دوائی ہوتی ہے نہ دیگر سہولیات۔

یہاں کے مکینوں نے بتایا کہ عام دنوں میں یہاں سے پونسٹان کی گولی نہیں ملتی کجا یہ کہ کسی ایمرجنسی میں لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔ بہرحال زخمیوں کو ابتدائی طور پر اسی ہسپتال تک پہنچایا گیا۔ نواب خان ترین بھی اس کام میں حصہ لیتے رہے۔

”پیرا میڈیکل سٹاف نے ابتدائی طبی امداد فراہم کی“ انہوں نے اپنے گھر کے سامنے کھڑے کھڑے بتایا۔ ان کاگھر بھی تقریباً ملبہ بن چکا ہے۔ ”زخمیوں کو اس لئے تین ایمبولینسوں اور کچھ افراد کی جانب سے فراہم کی گئی نجی گاڑیوں میں کوئٹہ روانہ کیا گیا“۔

واپسی پر محمد مبین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ”ہرنائی والوں کے اچھے اعمال کی وجہ سے قدرت نے مہربانی کی…زیادہ لوگ نہیں مرے“۔

بشکریہ ڈان

اکبر نوتزئی کوئٹہ میں رہتے ہیں اور روزنامہ ڈان سے منسلک ہیں۔