خبریں/تبصرے

صدارتی آرڈیننس کا مقصد جاوید اقبال کو سپریم جوڈیشل کونسل سے بچانا تھا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) معروف صحافی اسد علی طور نے دعویٰ کیا ہے کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کا مقصد جسٹس(ر) جاوید اقبال کو سپریم جوڈیشل کونسل سے بچانا ہے۔

اپنے ’وی لاگ‘ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہائبرڈ رجیم نے باہمی مشاورت سے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی خواہش پر فروغ نسیم سے یہ آرڈیننس تیار کروایا۔

جسٹس(ر) جاوید اقبال کو خدشہ ہے کہ ویڈیو کیس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ہے اور وہاں سے انکا بچنا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کی بجائے صدر مملکت کو سونپ دیا گیا ہے۔

انہو ں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سپریم جوڈیشنل کونسل کو مخصوص مقاصد کیلئے استعمال کرنے کیلئے بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ جسٹس دوست محمد خان کی جگہ کونسل کے ممبر کیلئے ایک ایسے جج کو تعینات کرنے کی منصوبہ بندی ہے جن پر بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات ہیں اور ان کو لانے کا مقصد عدلیہ کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔