پاکستان

جدوجہد نے کہا تھا: ’جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے پہلے عمران خان ریٹائرہرٹ ہو جائیں گے‘

فاروق سلہریا

روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر فاروق سلہریا کا 6 نومبر 2021ء کو لکھا گیا مضمون قارئین کے لئے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے پیش کیا گیا تناظر حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا ہے۔

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے سوال پر بظاہر جنرل قمر جاوید جاجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کے مابین جو اختلافات سامنے آئے، یہ دراصل حکومت اور فوج کے مابین لڑائی تھی ہی نہیں۔ یہ فوج کے اندرونی اختلافات کا اظہار تھا۔ سیاسی و سماجی تضادات کا اظہار لازمی طور پر اس طرح نہیں ہوتا جس طرح آئینے میں عکس دکھائی دیتا ہے۔

میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق عمران خان جنرل فیض حمید کو اگلا فوجی سربراہ مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بدلے میں جنرل فیض حمید نے عمران خان سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ان کی جماعت کے ساتھ فوجی اداروں کا تعاون جاری رہے گا۔

اگر میڈیا میں آنے والی یہ باتیں درست ہیں تو پھر یہ بات سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ جو بات صحافیوں کو معلوم ہے، چار چھ لیفٹنٹ جرنیلوں کو بھی معلوم ہو گی۔ لیفٹنٹ جنرل بننے کے بعد ہر کوئی اعلیٰ ترین عہدے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ تھی اصل لڑائی۔ زائچے اور ستارے محض دلچسپی کا سامان پیدا کرنے کے لئے میڈیا میں پیش کئے جا رہے تھے۔ پاکستانی بورژوازی کے دانشوارانہ دیوالیہ پن اور توہم پرستی میں کوئی شک نہیں مگر جب بات مفادات کی ہو تو پھر ستارے اور زائچے دیکھ کر چالیں نہیں چلی جاتیں۔

عمران خان نے اس لڑائی میں بطور موقع پرست سرمایہ دار سیاستدان، اقتدار کی ہوس میں جو سیاست کی وہ سرمایہ دارانہ نقطہ نظر سے بھی بے وقوفی کا عمدہ نمونہ تھی۔ اب ان کا جانا ٹہر گیا ہے کیونکہ: اگر عمران خان جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت بھی وزیر اعظم ہوئے تو اگلا فوجی سربراہ وہ مقرر کریں گے۔

اس لئے: جس حلقے نے ٹرانسفرز اور پوسٹنگز کرائی ہیں، وہ اس کی نوبت نہیں آنے دے گا۔

مہنگائی کم کرنے کے لئے عمران خان جو پیکیج اپنی تقریروں میں پیش کر رہے ہیں، ان کا مقصد اگلے انتخابات کی تیاری ہے مگر یاد رہے جس وزیر اعظم کو رخصت کیا جاتا ہے، اسے الیکشن نہیں جیتنے دیا جاتا۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔