خبریں/تبصرے

سرینگر: پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت صحافی گرفتار، جموں جیل منتقل

لاہور (جدوجہد رپورٹ) بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں پولیس نے ایک صحافی کو متنازعہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت گرفتار کیا ہے۔ 26 سالہ سجاد گل کو ایک روز قبل ہی مبینہ مجرمانہ سازش کے ایک مقدمہ میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

سجاد گل کے خلاف پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، یہ قانون کسی بھی فرد کو بغیر مقدمہ چلائے 6 ماہ تک حراست میں رکھنے کی اجزت دیتا ہے۔ سجاد گل کو جموں کی جیل میں منتقل کیا گیا ہے، تاکہ ان کے اہل خانہ کو بھی ان تک پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں۔

انہیں پہلی مرتبہ رواں ماہ 6 جنوری کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے بھارتی فوج کے ساتھ مبینہ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے ایک عسکریت پسند کے گاؤں میں ہونے والے احتجاج سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق پولیس نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے صحافت کی آڑ میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور جھوٹی کہانیاں پھیلائیں اور رہائشیوں کو تشدد کا سہارا لینے پر اکسایا ہے۔ تاہم بانڈی پورہ ضلع کی ایک عدالت نے ہفتہ کو اس کیس میں ان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ تاہم اتوار کے روز ضمانت کے ایک دن بعد سجاد گل کے خلاف پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں پی ایس اے جیسے سخت قوانین کا استعمال کیا جانا ایک معمول ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر تنظیموں نے پی ایس اے سمیت دیگر سخت قوانین کو غیر انسانی اور غیر قانونی قرار دے رکھا ہے۔

سجاد گل نشریاتی ادارے ’کشمیر والا‘ کے ساتھ ایک رپورٹر کے طور پر کام کرتے ہیں اور انہوں نے صحافت میں ماسٹر ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

انکے بھائی ظہور احمد کا کہنا تھا کہ وہ 16 جنوری کو عدالت سے بھائی کی ضمانت کا حکم نامہ لے کر جب تھانے پہنچے تو انہیں پولیس نے بتایا کہ سجاد گل ان کے ساتھ گھر نہیں جا ئیں گے۔

انکا کہنا تھا کہ ”میں توقع کر رہا تھا کہ میرے بھائی کو رہا کر دیا جائیگا، لیکن وہاں کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد مجھے گھر جانے کو کہا گیا اور یہ بتایا گیا کہ سجاد گل کے خلاف ایک اور مقدمہ درج ہو گیا ہے۔“

انکا کہنا تھا کہ ”میں نے پولیس سے درخواست کی کہ مجھے میرے بھائی سے ملنے دیا جائے لیکن اجازت نہیں دی گئی۔ جب اسے کشمیر سے باہر لے جایا جا رہا تھا تو میں اسے مختصر طور پر دیکھ سکا اور دیکھ کر کانپ گیا۔“

سجاد گل کے اہل خانہ کے مطابق ان کیلئے بانڈی پورا سے تقریباً 327 کلومیٹر دور جموں جیل میں اپنے بیٹے سے ملنے جانا بہت مشکل ہو گا۔